
۔،۔ الفی ایونٹس درائی آئش میں پاکستان اوورسیز الائنس فورم جرمنی کے زیر اہتمام ٭جرمنی کی تعمیر و ترقی میں امیگرینٹس کا کردار٭پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ نذر حسین۔،۔
٭الفی ایونٹس درائی آئش میں پاکستان اوورسیز الائنس فورم جرمنی کے زیر اہتمام ٭جرمنی کی تعمیر و ترقی میں امیگرینٹس کا کردار٭پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں جرمنی بھر سے پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی جبکہ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی جرمنی کے افراد نے بھی بھرپور حصّہ لیا۔خصوصی طور پر جنرل سیکریٹری صوبہ ہیسن سے جوزفین کوبی رکن ہیسن پارلیمنٹ اور ٹورگٹ یوکسیل رکن ہیسن پارلیمنٹ اور دوسرے جرمن مرد و خواتین نے بھی حصّہ لیا٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔٭ میں پاکستان اوورسیز الائنس فورم جرمنی کے زیر اہتمام ٭جرمنی کی تعمیر و ترقی میں امیگرینٹس کا کردار٭پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں جرمنی بھر سے پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی جبکہ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی جرمنی کے افراد نے بھی بھرپور حصّہ لیا۔خصوصی طور پر جنرل سیکریٹری صوبہ ہیسن سیجوزفین کوبی رکن ہیسن پارلیمنٹ اور رکن ہیسن پارلیمنٹ ٹورگٹ یوکسیل اور دوسرے جرمن مرد و خواتین نے بھی حصّہ لیا،تقریب کی صدارت عزت ما آب ثقلین سیدہ سفیر اسلامی جمہوریہ پاکستان برلن نے کی جبکہ قائم مقام قونصل جنرل فرینکفرٹ رحمان فہد اور کمرشل قونصلر آمنہ نعیم نے بھی خصوصی شرکت کی تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر تسنیم سعید۔نائب صدر پی او اے ایف یورپ نے بخوبی سرانجام دیئے،آپ نے تلاوت کی،آپ نے تقریب کے اغراض و مقاصد۔ انگریزی، اُردو اور جرمن زبان میں بیان کئے۔ان کا کہنا تھا کہ آج کی یہ تقریب آنے والے بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں منعقد کی گئی ہے،اور ہماری نشت کا موضوع ہے جرمنی کی ترقی میں مہاجرین کا کردار،یہ ایک اہم سماجی موضوع جس پر سنجیدہ اور تعمیری تبادلہ خیال ضروری ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ معزز مہمان موجود ہیں ٭ محترمہ سیدہ ثقلین صاحبہ سفیر پاکستان٭ڈاکٹر جوزفین کوئبی۔جنرل سیکریٹری۔ایس پی ڈی رکن ہیسن صوبائی اسمبلی ٭ٹورگٹ یوکسل ایس پی ڈی۔رکن صوبائی اسمبلی ہیسن٭رحمان فہد قائم مقام قونصل جنرل فرینکفرٹ اور کمرشل قونصلہ آمنہ نعیم صاحبہ موجود ہیں، ہماری یہ نشست بہت معلوماتی اور مفید ثابت ہو گی۔پاکستانی ترانہ اور جرمن ترانہ پیش کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمنی کی (پچیس فی صد آبادی) مہاجر فیملی سے تعلق رکھتی ہے جو معاشرے کا بہت اہم حصّہ ہے۔دنیا بھر میں یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مہاجر کے بغیر وجود میں نہیں آیا۔مہاجرین جرمنی کے مستقبل میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں چاہے وہ معیشت ہو،تعلیم،ثقافت یا معاشی زندگی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری اعجاز حسین پیارا کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کے افراد نے جرمنی بھر سے شرکت کی ہے،پی او اے ایف تمام افراد کو خوش آمدیدکہتے ہیں ، ہماری کمیونٹی نے یو کے اور ناروے میں کامیابی حاصل کی ہیں کیونکہ وہ بڑی سیاسی پارٹیوں کا حصّہ بنیں۔نیو یارک کا میئر مسلمان ہے۔ہمیں بھی جرمنی کی بڑی سیاسی پارٹیوں کا حصّہ بننا چاہیئے۔ پی او اے ایف یورپ کے صدر چوہدری زبیر خان ایڈووکیٹ امیگریشن قانون کے ماہر وکیل کا کہنا تھا کہ کامیابی کی کلید بہت کچھ بدل سکتی ہے۔ہم سب کا امیگریشن کا پس منظر ہے جبکہ اس کی کامیاب تصاویر آپ کے سامنے ہیں،جوزفین کوبی رکن ہیسن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ میری بہت سی پاکستانی فیملیز سے دوستی کینیڈا میں رہی ہے۔ایک ساتھ رہنے کا مکمل تصور جمہوریت ہے۔ مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی، میں سمجھتی ہوں ہمیں آپس میں بہتر حل تلاش کرنے کے لئے بات کرنی چاہیئے۔ٹورگٹ یوکسیلرکن ہیسن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ۔ دعوت کے لئے آپ کا شکریہ، بد قسمتی سے جب بھی امیگریشن پر بحث کی جاتی ہے اکثر اور اکثر پناہ گزینوں پر کم ہو جاتی ہے،جب بھی ہجرت کی بحث آتی ہے تو لامحالہ مہاجرین کا موضوع اُٹھتا ہے جرمنی میں ہجرت کا کردار پناہ گزینوں تک محدود کر دیا جاتا ہے جبکہ ہماری یہ چوتھی پیڑی جارہی ہے۔شفیق مراد کا کہنا تھا کہ جرمنی اور پاکستان کے درمیان ادبی انضمام ہے، ادبی خیالات کا تبادلہ، ادبی آہنگی، ادبی ملاپ اور ایک دوسرے کے ادب سے شناسائی،گویا ادب کے ذریعے دو تہذیبوں اور دو معاشروں کا آپس میں ملاپ۔ فاطمہ تصور نے اپنے پیغام میں صفائی پر بات کی ِان کا کہنا تھا کہ جرمنی کو صفائی کے حوالہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھنے کا خیال رکھتے ہیں، صفائی کتنی ضروری ہے یہ ہزاروں کلو میٹر دور رہنے والوں بھی پتہ ہے۔عبیرہ ضیاء کا کہنا تھا کہ میرا یہاں آنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے، پی او اے ایف یورپ کے صدر کے مشکور ہیں کہ وہ پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ خوبصورت معلوماتی پروگرام ترتیب دیتے ہیں، آئیں ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں جس میں۔تم کون ہو۔ کہاں سے أئے ہو اور کیا ہو پوچھنے والا نہ ہو۔سفیر پاکستان سیدہ ثقلین نے اپنے خطاب میں کہا جمہوریت کے بغیر انضمام نہیں اور جمہوریت کے بغیر جمہوریت ممکن نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہماری بقا اور ترقی جرمن سیاست کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے رکن ہیسن پارلیمنٹ Josefine Koebe اور Turgut Yuksel کا شکریہ ادا کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں جب بھی فرینکفرٹ آتی ہوں تو خوشی محسوس ہوتی ہے۔جرمنی کے قومی شاعر گوئٹے اور علامہ اقبال کی شاعری کو بھی پڑھنے کے لئے ہمیں جرمن زبان سیکھنی پڑے گی، فرینکفرٹ میں مختلف ثقافت کے رہنے والے یستے ہیں اور یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ انضمام جمہوریت کے لئے پہلا قدم ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی پاکستانی کھانوں سے تواضح کی گئی۔


























































،


