
“ڈنمارک میں خوشگوار موسم کی واپسی، کوپن ہیگن میں دھوپ، بار بی کیو اور خوشیوں کی بہار”واجد قریشی (ڈنمارک)“
*
یورپ میں طویل سردیوں، برفیلے دنوں اور یخ بستہ ہواؤں کے بعد جب موسم نے خوشگوار رُخ اختیار کیا تو فضا میں نئی زندگی دوڑ گئی۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی جہاں مختلف یورپی ممالک کی رونقیں بحال ہونے لگیں، وہیں کوپن ہیگن سمیت پورے ڈنمارک میں خوشی، تازگی اور جوش کی لہر محسوس کی جانے لگی*
*
* شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ڈنمارک/کوپن ہیگن۔یورپ میں طویل سردیوں، برفیلے دنوں اور یخ بستہ ہواؤں کے بعد جب موسم نے خوشگوار رُخ اختیار کیا تو فضا میں نئی زندگی دوڑ گئی۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی جہاں مختلف یورپی ممالک کی رونقیں بحال ہونے لگیں، وہیں کوپن ہیگن سمیت پورے ڈنمارک میں خوشی، تازگی اور جوش کی لہر محسوس کی جانے لگیکئی ماہ کی سرد اور مختصر دنوں والی اداس فضا کے بعد سورج کی نرم سنہری کرنیں نمودار ہوئیں تو لوگوں کے چہرے بھی کھل اٹھے۔ پارک، ساحلی علاقے، کیفے اور سڑکیں ایک بار پھر قہقہوں، ملاقاتوں اور خوشگوار لمحوں سے آباد ہو گئیں۔ کہیں لوگ سائیکلوں پر دھوپ سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے، تو کہیں خاندان سبز گھاس پر بیٹھ کر بہار کی دلکشی میں کھوئے رہے۔ڈینش قوم کی یہ دلکش روایت ہے کہ جیسے ہی موسم خوشگوار ہوتا ہے، لوگ گھروں کی محدود فضا سے نکل کر فطرت کی آغوش میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہی دنوں حکومت کی جانب سے پارکوں اور کھلے مقامات پر قائم خصوصی بار بی کیو ایریاز خاصی رونق کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں شام ڈھلتے ہی دوستوں اور خاندانوں کی محفلیں سج جاتی ہیں۔ جلتی ہوئی گرِلز، خوشبو بکھیرتے کھانے، قہقہوں کی گونج اور خوشگوار موسم مل کر ایسا دلنشیں ماحول پیدا کرتے ہیں جو ڈنمارک کی سماجی اور پُرسکون طرزِ زندگی کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔جلتے ہوئے کوئلوں کی مہکتی خوشبو، گرِل پر سِکتے مٹن کے تکے اور مرغی کے رسیلے کباب، ہلکی ٹھنڈی ہوا اور دوستوں کی بیفکر ہنسی مل کر ایسا سحر انگیز منظر تخلیق کرتے ہیں کہ ہر شخص خود کو اس دلکش ماحول کا لازمی حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ کئی لوگ اپنے ساتھ گرم چائے، خوشبودار کافی اور گھروں میں محبت سے تیار کیے گئے کیک بھی لاتے ہیں، جو نہ صرف محفل کی مٹھاس بڑھا دیتے ہیں بلکہ ان خوشگوار لمحات کو مزید یادگار بنا دیتے ہیں۔ڈنمارک میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی بھی اس خوشگوار موسم سے بھرپور لطف اندوز ہو رہی ہے۔ بار بی کیو کے شوقین پاکستانی خاندانوں اور دوستوں نے پارکوں، باغات اور گھروں میں خوب رنگا رنگ محفلیں سجائیں، جہاں گرِل پر سِکتے لذیذ تکوں، خوشبودار کبابوں اور روایتی پاکستانی پکوانوں کی مہک ہر سو پھیل گئی۔ گرم چائے کی چسکیوں، دوستانہ گپ شپ اور بیساختہ قہقہوں کے درمیان لوگوں نے نہ صرف موسم کی خوبصورتی کو محسوس کیا بلکہ اپنے پیاروں کے ساتھ یادگار اور خوشگوار لمحات بھی گزارے۔ پاکستانی ذائقوں، اپنائیت بھرے ماحول اور خوشیوں سے بھرپور ان محفلوں نے ڈنمارک کی بہار کو مزید رنگین اور دلنشیں بنا دیا۔ڈنمارک میں بہار اور دھوپ سے بھرے یہ حسین دن محض موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ خوشی، ذہنی سکون، سماجی ہم آہنگی اور زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کے خوبصورت احساس کی علامت بن جاتے ہیں۔ یہ موسم لوگوں کو فطرت کے قریب لا کر نہ صرف ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتا ہے بلکہ تعلقات میں گرمجوشی، میل جول اور زندگی سے محبت کے جذبات کو بھی نئی تازگی عطا کرتا ہے۔







