
۔،۔جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کی سڑکوں پر جشن عید میلاد النبیﷺ کا شاندار جلوس۔ نذر حسین۔،۔
٭فرینکفرٹ ریڈروالڈ کی جامع مسجد غوثیہ کے زیر اہتمام (ملک محمد صدیق پتھروی امام و خطیب کی نگرانی) میں جلوس، علماء کرام کے خطابات، شرکاء کی بھرپور شرکت٭
شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ/ریڈر والڈ۔ جرمنی کے شہر، روشنیوں کے شہر فرینکفرٹ کیعلاقہ ریڈروالڈ کی سڑکوں پر جشن عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر درود و سلام اور محبت رسولﷺ سے لبریز صدائیں گونجتی رہیں، فضاء میں ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی تھی۔ “سرکار کی آمد مرحبا، دلدار کی آمد مرحبا، آقا کی آمد مرحبا، مولا کی آمد مرحبا، اول کی آمد مرحبا، آخر کی آمد مرحبا، مختار کی آمد مرحبا، غمخوار کی آمد مرحبا۔ مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ۔ ہر دیس میں گونجے گا یا رسول اللہ ﷺ، ہر شخص پکارے گا یا رسول اللہ ﷺ، سوہنے کی آمد مرحبا۔”جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں جامع مسجد غوثیہ کے زیرِ اہتمام صبح 11 بجے سے ہی مہمانوں اور عاشقانِ رسول ﷺ کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آنے والے مہمانوں کی تواضع ٹھنڈے شربت سے کی گئی، جبکہ لاہوری چنوں اور نان سے ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ کھانے کے بعد شرکاء میں جلیبی بھی تقسیم کی گئی۔ٹھیک ایک بجے ہر سال کی طرح امسال بھی جامع مسجد غوثیہ کے زیرِ اہتمام عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں ایک پروقار اور شاندار جلوس نکالا گیا۔ جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا جامع مسجد غوثیہ پہنچا۔ جلوس کے دوران عاشقانِ رسول ﷺ نے بلند آواز میں نعتیہ کلام، درود و سلام اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے نعرے بلند کیے، جس سے فرینکفرٹ کی سڑکیں “سرکار کی آمد مرحبا، دلدار کی آمد مرحبا، آقا کی آمد مرحبا” کی صداؤں سے گونجتی رہیں۔جلوس کے راستے میں علماء کرام نے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی اہمیت اور فضائل پر اردو اور جرمن زبان میں خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر مقامی پولیس بھی سکیورٹی اور ٹریفک کی نگرانی کے لیے موجود رہی۔اس دوران ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس انسپکٹر نے نمائندہ سے دریافت کیا کہ یہ جلوس کس سلسلے میں نکالا جا رہا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں ہر سال عید میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں اور یہ جلوس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پولیس افسر نے مزید دریافت کیا کہ کیا یہ پروگرام صرف ایک ہی مسجد میں منعقد ہوتا ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ دنیا کے چپے چپے میں آباد مسلمان اپنے اپنے انداز میں جشنِ میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں۔ یہ بات سن کر پولیس افسر نے حیرت کا اظہار کیا۔جلوس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللطیف چشتی الازہری نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ دنیا میں یہ قانون ہے کہ جب مزدور اپنا کام مکمل کرلیتا ہے تو اسے اس کی مزدوری دی جاتی ہے۔ ہم نے اللہ کا گھر تعمیر کیا ہے، اب ہم دونوں مل کر اپنے رب سے اپنی مزدوری طلب کرتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ ابا جان! ہم رب سے کیا مزدوری مانگیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میری دعا پر تم آمین کہتے جانا، ہماری یہی مزدوری ہوگی۔مقرر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ اے اللہ! تیرا گھر بنانا ہمارا کام تھا، اب اس گھر کو آباد کرنے والے عظمت و شان والے نبی کو مبعوث فرما، جو آکر تیرے اس گھر کو آباد کرے۔ وہ نبی لوگوں کو تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے دلوں اور زندگیوں کو پاکیزہ بنائے۔عبداللطیف چشتی الازہری نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے آمین کہی تھی۔ آج ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہمیں حیوان بنا سکتا تھا، لیکن اس نے ہمیں انسان بنایا، پھر انسان بنانے کے بعد ہمیں مسلمان بنایا، اور مسلمان بنانے کے بعد اپنے محبوب ﷺ کے غلاموں اور عاشقوں میں شامل فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج فرینکفرٹ کی سڑکوں پر عاشقانِ رسول ﷺ جس محبت اور عقیدت سے “آمدِ مصطفیٰ ﷺ مرحبا، مرحبا” کی صدائیں بلند کر رہے ہیں، ان شاء اللہ یہ صدائیں قیامت تک گونجتی رہیں گی۔جلوس کے اختتام پر شرکاء کی ٹھنڈے دودھ کے شربت سے تواضع کی گئی۔ بعد ازاں نمازِ ظہر ادا کی گئی، جس کے بعد جامع مسجد غوثیہ میں جلسہ منعقد ہوا۔ جلسے میں علماء کرام نے سیرتِ طیبہ، میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی برکات اور محبتِ رسول ﷺ کے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے اس روح پرور اجتماع میں پاکستانی کمیونٹی سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ جلوس کے دوران امن و نظم و ضبط کا خاص خیال رکھا گیا، جبکہ شرکاء نے محبت، عقیدت اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منائی۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے اس جلسے اور جلوس میں شرکت کے لیے جرمنی کے مختلف شہروں سے عاشقانِ رسول ﷺ خصوصی طور پر فرینکفرٹ تشریف لاتے ہیں۔ اس روح پرور اجتماع میں ہر سال دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں، جس سے یہ اجتماع جرمنی بھر میں محبتِ رسول ﷺ کا ایک نمایاں مرکز بن جاتا ہے۔جرمنی اور فرانس کی سرحد کے قریب واقع شہر سار بروکن سے خصوصی طور پر توقیر بٹر صابری بھی ہر سال محفل میں شرکت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ وہ جلوس کے شرکاء اور عاشقانِ رسول ﷺ کی خدمت کے لیے خصوصی طور پر پانی کی بوتلوں کا انتظام کرتے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق اس مذہبی اجتماع میں خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان کی یہ خدمت بھی محفل اور جلوس میں شریک افراد کے لیے باعثِ سہولت بنتی ہے۔اسی طرح جرمنی کے شہر سٹٹگارٹ سے ڈاکٹر محمد نوری اپنے دوست احباب کے ہمراہ خصوصی طور پر فرینکفرٹ تشریف لاتے ہیں اور جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے جلسے اور جلوس میں شرکت کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔مختلف شہروں سے آنے والے عاشقانِ رسول ﷺ کی یہ شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کی نسبت جغرافیائی فاصلے مٹا دیتی ہے اور عقیدت مند ایک مرکز پر جمع ہوکر اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتے ہیں۔علمائے کرام کوبلنز اور مانہائم سے بھی تشریف لائے تھے۔
ضروری نوٹس
قارئین کرام کی توجہ کے لیے عرض ہے کہ خبر کے ساتھ شائع ہونے والی تصاویر میں جو زیرِ تعمیر عمارت نظر آ رہی ہے، وہ جامع مسجد غوثیہ، فرینکفرٹ کی زیرِ تعمیر عمارت ہے۔ یہ منصوبہ جرمنی میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک اہم دینی و اجتماعی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہاں بچوں کی دینی و تعلیمی تربیت کے لیے سہولیات، شادی ہال، اسٹور اور فوتگی کی صورت میں میت کو غسل دینے سمیت مختلف ضروری سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ یہ مرکز عبادت کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی دینی، تعلیمی اور سماجی ضروریات بھی پوری کر سکے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مسجد کی تعمیر کے حوالے سے گنبد کی اجازت بھی حاصل ہو چکی ہے اور مسجد کو خوبصورت گنبد اور میناروں کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے، جو پاکستانی و مسلم کمیونٹی کے لیے باعثِ خوشی اور قابلِ فخر امر ہے۔تمام دوست و احباب، مخیر حضرات اور اہلِ خیر سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ جامع مسجد غوثیہ کی تعمیر میں اپنے عطیات کے ذریعے بھرپور تعاون فرمائیں۔ آپ کا تعاون اس عظیم دینی و فلاحی منصوبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس مسجد کو دین، تعلیم اور خدمتِ خلق کا مرکز بنائے۔ آمین۔





















