حکمران بھائی، بوٹ اور ٹوپی

farrukh-sohail-goindi-copy

 

جب سیاسی رہنما سیلاب کے ریلوں میں، اپنی قیمتی پتلون یا شلواراپنی ٹانگوں سے او پر کرکے، سیلاب کی آفت کے مارے لوگوں سے ملتے ہیں اور ان کی تصاویر کو اخبارات اور ٹی وی اپنی بریکنگ نیوز میں نمایاں جگہ دیتے ہیں تو میرے جیسے ہر شہری کے ذہن میں سوال اُبھرتا ہے کہ کیا پتلونیں ٹانگوں سے اوپر کر لینے سے سیلاب کے متاثرین کے نقصانات کا مداوا ہو گیا؟ اور کیا سیلاب ان کی پتلونیں اُوپر ہونے پر اپنے غیظ و غضب سے باز آجائے گا؟ کیا ہیلی کاپٹروں میں بیٹھے ان قومی رہنماؤں کے دکھوں سے لبریز مصنوعی چہروں سے سیلاب کی آفت کی شدت میں کمی واقع ہو جائے گی اور کیا آئندہ یہ پانی آفت کی بجائے نعمت بن کر قوم کی زرعی اور توانائی کی ترقی کا سبب بن جائے گا؟ پاکستان کا شماردنیا کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں پانی کے اتنے بڑے عالمی ذخائر ہیں کہ وہ پوری دنیا کو پانی فراہم کر سکتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ہی سیاسی حکمران تھرکے صحرا میں خشک سالی کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ان کی چار پائیوں پر بیٹھ کر روکھی روٹیاں کھا کر اخباری تصاویر کا ”قومی  حُسن“ بننے کے لیے کوشاں تھے اور آج انہی سیاسی حکمرانوں کے چہرے پانی کی آفت میں نمایاں ہیں۔ جن کے مال اسباب برباد ہو گئے، وہ جو اس آفت کے متاثرین ہیں، وہ تصویروں میں اتنے نمایاں نہیں، بلکہ ”اہم خبر“ ہیں میاں شہبازشریف، نوازشریف، بلاول زرداری اور حکمرانی کے یہ قبائلی سردار اور ان کے ”چشم و چراغ“ جن کے آفت زدہ علاقوں کے دورے کی خبریں نمایاں ہوتی ہیں۔ آفت میں گھرے لوگ تو ویسے ہی آفت زدہ زندگی گزارتے ہیں، اصل آفت کا نشانہ تو یہ لگ رہے ہوتے ہیں، جن کو پانی کی شدت کی وجہ سے اپنی پتلونیں ٹخنوں سے اوپر کرنی پڑرہی ہوتی ہیں۔ یہ منظر کسی مزاحیہ فرانسیسی ڈرامے کا لگتا ہے۔ اشرافیہ کے ناز نخرے ہمارے میڈیا کے مسخروں کو تقویت دیتے ہیں۔ پانی کی قلت اور پانی کی شدت دونوں آفتیں اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں اور ان حکمران خاندانوں کے تخت بھی۔ وہ ریاست، قوم یا قیادت جو اپنے قدرتی وسائل کو منظم کرنے میں ناکام ہو جائے، یہ اس ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پورا مشرق وسطیٰ تین بڑے دریاؤں کا مرہون منت ہے، دریائے نیل، دجلہ اور فرات۔ کبھی دجلہ اور فرات کو دیکھیں، وہ ہمارے کسی چھوٹے دریا، دریائے سون سے بھی چھوٹے لگتے ہیں، لیکن ذرا ان دریاؤں کے گرد بسنے والی قوموں کا مقدر دیکھیں، انہوں نے پانی کے محدود ذرائع کو کس طرح منظم کیا اور ان قوموں کا مقدر بدل گیا۔
شہبازشریف پانی میں کودنے کا اب کافی تجربہ رکھتے ہیں۔ ذرا ان کی مختلف ادوارِ حکمرانی کی تصاویر نکالیں جو سیلاب اور بارشوں کی آفتوں میں شائع ہوئیں اور آج بھی دیکھیں، تو فرق صرف ڈھلتی عمر کا ہے یا پھر ان چہروں کا ہے جو ان کے پانی میں کودتے وقت ان کے سامنے پائے جاتے ہیں، یعنی وہ چہرے جواب پچھلے بیس سالوں میں اُبھر کر سامنے آئے ہیں، آفتوں کے مارے لوگ۔ شہبازشریف پانیوں میں کودنے اور گھومنے کا ایک تجربہ رکھتے ہیں، اسی لیے وہ اکثر لانگ شوز بھی پہن لیتے ہیں۔ سنا ہے بڑے قیمتی لانگ شوز ہیں اور سینکڑوں ڈالر ہے ان کی قیمت۔ ایسے کافی لانگ شوز خصوصی طور پر خرید رکھے ہیں کہ سیلاب کے ریلوں میں ایسے لانگ شوز بڑے اچھے لگتے ہیں، پتلون ٹخنوں سے اوپر کرنے کی نوبت بھی نہیں آتی۔ شہبازشریف دوسروں سے ذرا مختلف ہیں، ان میں ایک انڈسٹریل سرمایہ دار کی جھلک بھی نظر آتی ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے لباس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اب وہ شلوار قمیص میں کم نظر آتے ہیں، سفاری سوٹ یا حقیقی سوٹ (پتلون کوٹ ٹائی) ان کے استعمال میں زیادہ ہوتا ہے، کیوں کہ وہ ایک ماڈریٹ رہنما کا امیج بنانے میں کوشاں ہیں، ایسے میں لانگ شوز تو خوب سجتے ہیں۔ ویسے یہ لانگ بوٹ، سب سے زیادہ ہٹلر کو سجتے تھے۔ عالمی میڈیا میں لانگ بوٹ کے حوالے سے ہٹلر ہی وہ واحد رہنما ہے، لانگ بوٹ پہنے جس کی تصویریں ملتی ہیں،اور ہمارے قومی میڈیا میں شہبازشریف۔ شاید انہوں نے یہ بھی سمجھ رکھا ہے کہ اصل اقتدار کی طاقت ان بوٹوں میں ہے،ووٹوں میں نہیں۔ بوٹوں والی طاقت، جو ووٹوں اور آئین سے مبرا ہے۔ لیکن یہ کہنا پڑے گاکہ شہبازشریف طاقت کا راز پا گئے ہیں۔ اور بوٹوں کا مظاہرہ سیلاب کی طاقت کے سامنے ہی کیا جاسکتا ہے۔ عوام کا کیا ہے،افتادگانِ خاک (کیڑے مکوڑے) ہیں، پانی کے ریلوں میں بہہ جاتے ہیں اور جب سیلاب نہ ہو، انتخاب اور جمہوریت کے دعوؤں میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کے مقدر میں لکھا ہے کہ انہوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ ان کا مقدر ہی بہہ جانا ہے، سیلاب میں بہہ جائیں یا دعووں اور جذباتی تقریروں میں بہہ جائیں۔ نہیں بہتے تو لانگ بوٹوں والے رہنما، حقیقی بوٹوں والے یا ٹخنوں سے اوپر شلواریں اور پتلونیں کرنے والے رہنما، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ سیلاب اور حالات کے ریلوں کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے، وہ ان آفتی ریلوں سے کھیلنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
میاں نوازشریف کی تصاویر ان آفتوں میں زیادہ مدبر رہنما کی لگیں کہ وہ ایک نئے طرز کی ٹوپی کے ساتھ نمایاں ہوئے ہیں۔ اس ٹوپی کا چھجا ان کو بارش کے ان قطروں سے محفوظ کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے قطروں نے پنجاب کو پانی پانی کردیا۔ یہ ٹوپی کچھ کچھ ماؤزے تنگ کی مشہور زمانہ ماؤ کیپ سے بھی ملتی ہے، جو وہ لانگ مارچ میں اپنی قوم کو انقلاب سے ہمکنار کرتے ہوئے پہنے ہوئے تھے۔ نوازشریف صاحب ہیلی کاپٹر میں بیٹھے اپنی قوم کے جس کرب میں مبتلا دکھتے ہیں، وہ دیدنی ہے اور اس ٹوپی نے اس کرب کے منظر کو نمایاں کر دیا ہے۔ شاید انہوں نے یہ سمجھا کہ طاقت کا راز ٹوپی میں ہے، سلیمانی ٹوپی ایک جادوئی ٹوپی یا پھر حقیقی اقتدار والوں کی ٹوپی۔
سنا ہے میاں شہبازشریف اور میاں نوازشریف دونوں حکمرانی کے حوالے سے منفرد حکمت عملی پر یقین رکھتے ہیں۔ بڑے بھائی نبردآزما اور چھوٹے بھائی صبر آزما حکمرانی کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی لیے بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی دونوں نے حقیقی اقتدار والوں کی علیحدہ علیحدہ تعریف پر یقین کیا۔ بوٹ اور ٹوپی۔ لیکن کہنا پڑے گا کہ دونوں حکمران بھائی بڑا ذوق رکھتے ہیں۔ بلاول زرداری ابھی نئے ہیں، انہوں نے ابھی ان سیلابوں میں صرف شلوار ٹخنوں سے اونچی کرنی شروع کی ہے۔ لگتا ہے وہ نانا کے نام اور بابا کے کام دونوں کو خوب استعمال کریں گے۔ ابھی وہ حکمرانی کے طور طریقے سیکھ رہے ہیں۔ ان کی سیلابی تصاویر سیاسی حکمرانی سیکھنے کا آغاز لگتی ہیں کہ اپنے ساتھ بیٹھے قیمتی لباس زیب تن کیے افسروں، دوستوں اور احباب کو پانی میں بھیگتی بلی کی طرح پیش کرو، اس کے لیے ان کو شہبازشریف صاحب سے زیادہ قیمتی مشورے کون دے سکتا ہے۔ حکمرانی کے لیے عوام درکار ہوتے ہیں، وہ تو اتنے ہیں کہ بھوک، غربت، افلاس اور آفات سے بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ غربت سے زیادہ عوام اور عوام سے زیادہ غربت اور سونے پہ سہاگہ، جہالت۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے