بلاول جو بھٹو ہوگئے

farrukh-sohail-goindi-copy

سیاسی بھٹو خاندان جسمانی طور پر محترمہ بے نظیربھٹو کے قتل کے بعد ختم ہوگیا۔ صنم بھٹو کی اللہ تعالیٰ عمر دراز کرے، وہ ذوالفقار علی بھٹو کی اولاد میں واحد حیات فرد ہیں، لیکن وہ شروع ہی سے سیاست سے لاتعلق ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی بلاول کو سیاست میں مداخلت کے مواقع فراہم کیے، گو وہ اس وقت بہت چھوٹے تھے لیکن اس کا ارتعاش کئی مرتبہ محسوس کیا گیا، اس لیے کہ خاندانی سیاست کی وراثت کا خطرہ فاطمہ بھٹو کی صورت میں ہر وقت منڈلاتا رہتا تھا۔ لیکن جب محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کردی گئیں تو ان کے شوہر آصف علی زرداری نے قدم آگے بڑھائے اور یوں عملاً سیاسی وراثت بھٹو خاندان سے حاکم علی زرداری کے خاندان میں منتقل ہوگئی۔ اپنے بلوچ ہونے پر فخر کرنے والے جناب آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کے نام کے ساتھ راجپوتوں کے ایک قبیلے بھٹو کے نام کا اضافہ کرکے انہیں بلاول بھٹو زرداری قرار دے دیا۔ اور پھر اس طرح ان کی صاحبزادیاں بھی بھٹو ہوگئیں، آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری۔ یہ ایک دلچسپ بات تھی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری صاحب کے لیے اقتدار کے دروازے ایسے کھلے کہ شاید ایسی موزوں صورتِ حال ذوالفقار علی بھٹو کو بھی نہ ملی ہو، جن کے نام پر سیاست اور اقتدار کا یہ کھیل جاری ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو اُن کے انتہائی مخالفوں نے بھی شہید تسلیم کیا جبکہ سولی پر جھول جانے والے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے بعد بھی یہی مخالفین قاتل، غدار، خائن اور کافر قرار دیتے تھے۔ اور اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے یہ سیاسی مخالفین تاحال اُنہیں معاف کرنے کو تیار نہیں۔ آصف علی زرداری کو ایسے سیاسی مخالفین نے بھی سپورٹ کیا جو بھٹو خاندان کو بحیرہئ عرب میں پھینک دینا چاہتے تھے اور وہ بھی جو ذوالفقار علی بھٹو کو کوہالہ میں پھانسی دینے کے خواہاں تھے۔ آصف علی زرداری اپنے سسر جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وراثت کے سب سے خوش نصیب حصہ دارہی نہیں بلکہ مالکِ کُل بن کر ابھرے  اور انہوں نے حکمرانی کے وہ انداز اپنائے کہ ان کے ناقد بھی ان کی ہوشیاری اور سیاسی جوڑ توڑ کے مداح بن گئے۔ لیکن اگر اس دوران سیاسی نظریاتی بہاؤ دیکھیں تو حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست اس سے عبارت تھی کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“، اس عوامی، خلقی اور انسانی سربلندی کے فلسفے کی پاداش میں ملاؤں نے ان پر کفر کے فتوے بھی لگائے جبکہ آصف علی زرداری کی سیاست کا پرچم ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کے ساتھ بلند ہوا۔ آپ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا تضاد یا تبدیلی ہوئی۔ کہاں سارے عوام کی طاقت اور کہاں ایک شخص کی سب پر فوقیت۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ Bhutto Brand اس قدر طاقتور ہے کہ ایک بلوچ بچہ، راجپوتوں کے ایک قبیلے بھٹو کو Adopt کرنے پر مجبور ہوا۔ اس لیے کہ عوام کی نظر میں بھٹو کی تعریف وہی ہے جو انہوں نے 1967ء میں دی کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔“ جذباتی اور سادہ عوام نہ جانے کب اپنے مقدر کا فیصلہ خود کریں گے۔ آصف علی زرداری نے نہایت ہوشیاری سے بھٹو برانڈ کو سیاست کے بازار میں اتارا۔ ایسا اتارا کہ سارا خاندان زرداری سے بھٹو ہوگیا۔ اب بلاول زرداری، بھٹو ہیں۔ عوام بھی ان کو بے نظیر کے بیٹے کے طور پر جانتے ہیں، یعنی ماں کے حوالے سے، اور اسی طرح ان کی بیٹیاں بھی۔
گمشدہ شہزادی فاطمہ بھٹو نے اپنا میدان (وطن) چھوڑ کر عالمی سطح پر قلم کے ذریعے اپنی شناخت کا  سفر شروع کیا ہوا ہے۔اس دوران سیاست کا میدان بلاول بھٹو زرداری مارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ فاطمہ بھٹو احتیاط کے اس سفر میں اس قدر مبتلا ہیں کہ وہ خوف کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اور یاد رہے خوف خود موت کی علامت ہے۔ اب وہ اپنی زندگی کی چونتیس بہاریں دیکھ چکی ہیں۔ بھٹو تو چونتیس سال میں عوام اور تحریکوں کی قیادت کرتے نظرآتے ہیں جبکہ وہ اپنی چوتھی دہائی میں بیرون ملک ادیب کے طور پر اپنی شناخت کروانے میں کوشاں ہیں۔ شاید انہیں علم نہیں کہ بڑے سیاسی لیڈر اور بڑے قلم کار آپ تب ہی بن سکتے ہیں جب آپ اپنی سرزمین پر اپنی شناخت کا پرچم بلند کریں۔ آپ کو مہاتما گاندھی بننا ہے تو اپنی زمین کی طرف لوٹنا ہوگا اور اگر آپ کو گبریل گارشیا مارکیز جیسا بڑا ادیب بننا ہے تب بھی آپ کو اپنی زمین پر آنا ہوگا۔ گمشدہ شہزادی فاطمہ بھٹو کے دل کے خاص کونے میں بیٹھی خواہش کبھی مکمل نہیں ہوگی بلکہ اب تو میدان حاکم علی زرداری کے پوتے نے مارنا شروع کردیاہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے دلوں سے محو ہوتی جا رہی ہے۔ غربت، افلاس، جہالت اور جذباتیت میں ڈوبے عوام،بلاول کو ایک بھٹو کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سیلاب میں ان کی Entry ہوچکی ہے۔ حکمرانی کی سیاست اس سے بہتر کون سیکھ سکتا ہے کہ اُن کے باباآصف علی زرداری انہیں نہایت ہوشیاری سے حکمرانی سیاست کے داؤ پیچ سکھا رہے ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔ جذباتیت میں ڈوبے عوام ایک زرداری کے اندر بھٹو تلاش کررہے ہیں۔ ایسا سماج جہاں پر مذہبی استحصال اپنے عروج پر ہو، سیاسی استحصال تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ایک جذباتی سماج، جہاں کے دانشور بھی جذباتی ہوں۔ ایک سماج  جو اپنے جذباتی ہونے پر فخر کرتا ہو۔جہاں Shout کرنے والے کو بہادر تسلیم کیا جاتا ہو۔ ایک ایسا سماج جو ہروقت ایک مسیحا کے انتظار میں رہتا ہو۔ ایک ایسا سماج جہاں پیرخانوں کا راج ہو، جہاں جادو ٹونے پر یقین کیا جاتا ہو۔ ایک ایسا سماج جہاں تواہم پرستی کو مذہب سمجھا جائے۔ ایک ایسا سماج جو سائنس کی بجائے منطق اور استدلال کی بجائے معجزوں پر یقین رکھتا ہو۔ ایک ایسا سماج جو کرشماتی رہنماؤں (سیاسی دیوتاؤں) پر یقین رکھتا ہو، جو مافوق الفطرت مجاہدین پر یقین رکھتا ہو، جہاں یہ یقین کیا جاتا ہو کہ قبائلی فطرت رکھنے والے مسلح گروہ آپ کو دنیا کی قیادت کرنے والی قوم (اسلامی امہ کی قیادت) میں بدل سکتے ہیں۔ ایک ایسا سماج جو قبیلے، ذات، برادری، خاندان، فرقے اور اپنے مسلک پر فخر کرے۔ ایک ایسا سماج جس کو یہ گھمنڈ ہوکہ وہ دنیا کی بہترین قوم ہے۔ ایک ایسا سماج جو تاریخ کو اپنے سامنے کھرچنے، مسخ کرنے  پر خاموش رہے اور اپنی مرضی سے حکمرانوں اور اُن کے حواریوں کی طرف سے لکھی جانے والی تاریخ کو تسلیم کرے۔ ایک پسماندہ اور اپنی پسماندگی پر صبر کرجانے والے سماج میں بلاول بھٹو زرداری کا مستقبل تابناک ہے۔ سیاسی دیوتاؤں میں ایک سفیدرنگت والا، درازقد، مظلوم بیٹی کا بیٹا، سونے کا چمچ چھوڑ کر عوام میں گھل مل جانے والا دیوتا، یہی تو خواب ہے جو اس پسماندہ قوم نے دیکھا ہے۔ خوابوں کی تعبیروں پر سیاسی فیصلے کرنے والا سماج تو نہایت زرخیز ہے۔ بلاول بھٹو زرداری قدم بڑھاؤ، عوام آپ ہی کی مسیحائی کے منتظر تھے۔ اور تب تک یہ سماج منتظر رہے گا، جب تک سماج کی فکری، عملی اور علمی راہیں تعمیر نہیں ہو جاتیں۔ بلاول بھٹو آگے بڑھو اور ثابت کرو کہ انقلاب، مارچ اور جمہوریت، آپ ان تینوں میں زیادہ فٹ ہوتے ہو۔ ایک نیا مسیحا، نوجوان، توانا۔ اور جب ضرورت پڑے تو یہ قوم اپنے دیوتاؤں کی قربانی بھی کردیتے ہیں اور شہید دیوتا تو رحمت بن کر چھا جاتے ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے