دل سوچنے پرمجبورہے-جمہورکی آواز

LOGO J KA

کبھی کبھی دل سوچنے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کیسی قوم ہیں۔۔۔معاف کرنا شاید غلطی ہوگئی قوم کی بجائے ”ہجو م ِ نابالغاں“ کہنا زیادہ مناسب ہوگا ہم نے آزادی کی قدر کی نہ حالات سے کچھ سیکھنے کی زحمت گوارا کی اس ملک میں بسنے والے”حال مست اور مال مست “ کی تفسیر بنے نظر آتے ہیں کسی کو ملک کی فکر نہیں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے حالانکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے وطن سے محبت کو ایمان قرار دیا ہے مگر ہر کوئی صرف اپنے بارے سو چتا ہے ہر محب ِ وطن خون کے آنسو رورہا ہے ان کے دل سے یہ دعا نکلتی ہے
اے خاصہ ِ خاصان ِرسل وقت ِ دعا ہے
امت پرتیری آج عجب وقت پڑا ہے
حکومت غلط پالیسیوں اور عوام کی منفی سوچ کی وجہ سے وطن عزیز میں مایوسی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملا اللہ تبارک تعالیٰ نے پاکستان کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے حتیٰ کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے سورۃ رحمن میں جنت کی جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے وہ تمام تر پاکستان میں وافر جاتی ہے غالباً ا س کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کلمہ ئ طیبہ کی بنیادپر قائم ہونے والی پہلی مملکت ہے اللہ جل شانہ‘ نے اس ملک کو بھرپور وسائل سے سرفراز فرمایا اس کے باوجود ہم نا شکرے ہیں۔آئے روز کے بحران دربحرانوں نے عوام کا سکھ چین چھین لیا ہے کبھی بجلی نہیں لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کردئیے—کبھی گیس نہیں — کبھی پانی نہیں — آئے روز بجلی،گیس، اشیائے خودونوش،آٹا،چینی، گھی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے ایک زرعی اور انڈسٹریل ملک میں لوگ فاقے کرنے پر مجبور ہیں یہ توقیامت کی نشانیاں ہیں۔اور ہم اس شعر کی چلتی پھرتی تصویر بن کررہ گئے ہیں
ناکامیاں سمیٹ کر سارے جہاں کی
جب کچھ نہ بن سکا تومیرا دل بنا دیا
ہم سب غور کریں۔تو۔ محسوس ہوگا ہمارے ملک کے سارے قومی ر ہنما ایک جیسے ہیں یہ ہر بحران۔۔ہر مصیبت۔۔ ہر مشکل میں سارے کے سارے بیان بازی کرکے جان چھڑا رہے ہیں شاید ان کو نمبر بنانے، سستی شہرت حاصل کرنے اورایک دوسرے پر غصہ نکالنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔۔ کوئی ان مسائل کا حل نہیں سوچتا؟ آج غریب پس رہے ہیں اسی لئے کبھی کبھی دل سوچنے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کیسی قوم ہیں کوئی غربت سے تنگ آکر اپنے گردے بیچ رہا ہے تو کوئی اپنے لخت ِ جگر فروخت کرنے پر مجبور ہے ۔ غربت نے عوام سے خوشیاں چھین لی ہیں لگتا ہے کسی کو پاکستان کا مستقبل عزیز نہیں۔ چند فی صد نے تمام تر وسائل پر قابض ہوکر غربت کو ہماری بد نصیبی بنا دیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی اجتماعی قوت سے اس”قبضہ گروپ“کے خلاف اپنے آپ کو متحد اور منظم کرے تاکہ جمہوریت کے ثمرات سب تک پہنچیں اس کے بغیر کسی قسم کی ترقی ممکن نہیں سیاسی جماعتوں کو مسلک کا درجہ دینے کی روش بھی تبدیل کرنا ہوگی عوام اس پارٹی کا ساتھ دیں جس کا منشور انقلابی، پروگرام بہتر اور ملک و قوم کا ہمدرد ہو۔ پاکستان کی ترقی،عوام کی خوشحالی اور انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے متبادل قیادت انتہائی ضروری ہے جب تک عوام کے سامنے سیکنڈ آپشن نہیں ہو گا سیاسی جماعتیں بہتری کی طرف نہیں جا سکتیں آج پاکستانی قوم کوخود غرضی، لالچ اور ذاتی مفادات کے خول سے باہر آکرخود ا حتسابی کرنے کی ضرورت ہے مذہبی، لسانی، گروہی، سیاسی اور دیگر نوعیت کے اختلافات سے در گذر کیا جائے۔ آج لوگ غربت،مہنگائی،بیروزگاری،لوڈشیڈنگ اوردہشت گردی سے پریشان ہیں،صنعتیں بندہورہی ہیں ان حالات میں۔حکومت کو بھی چاہیے کہفوری اقدامات کرے، کبھی کبھی دل اپنے ملک کی حالت،لوگوں کی حالت ِ زار دیکھ کرملول ہو جاتاہے جس ملک میں بیشتر آبادی کو پینے کا صاف پانی پینے کو میسرنہ ہو۔۔ جہاں لوگ محض دووقت کی روٹی کیلئے روز مرتے روز جیتے ہوں۔۔ جہاں کی عوام اپنے بنیادی حقوق کیلئے ترستی رہے۔۔جہاں تعلیم اور صحت منافع بخش کام بن جائے۔۔ جہاں غربت لوگوں کی بدنصیبی بن گئی ہو وہاں حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں اور اس بے چارے عام آدمی کی شنوائی کیونکر ہو جہاں انصاف بکتاہے اور اس کے حصول کے لئے خجل خوار ہونا نصیب بن جائے اسی لئے کبھی کبھی دل سوچنے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کیسی قوم ہیں حیف ہے ان حکمرانوں پر جو غیرملکی دوروں پرجا کربھی صرف اپنی بہتری کیلئے سوچیں اور عوام کی بہتری کیلئے کچھ نہ کریں اور غریب کو اپنی بیمار ماں کے علاج،بہن کی شادی یا اپنے بچوں کودو وقت کی روٹی کھلانے، یا پھر کوئی کام کاج کیلئے اپنے گردے بیچنے پڑیں یا اپنے لخت ِ جگر فروخت کا بورڈ آویزاں کرنے پر مجبور ہو جائے گھٹ گھٹ کر جینا مقدر بن جائے۔قسطوں میں موت نصیب بن جائے تو ان کے دل میں وطن کی محبت خاک ہو گی اور ہمارے حکمران ہیں کہ وہ عام آدمی کے بارے میں سو چنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ معاشی چکی میں پسے عوام موجودہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے متحمل نہیں ہیں حکمران عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں تیار کریں جس سے عوام کو ریلیف مل سکے حکومتی سطح پر عام آدمی میں بڑھتی ہوئی مایوسی ختم کرنے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے ورنہ چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی ہے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔
د ن بھی نکلا تو کسی نے نہ کوئی بات سنی
رات بھر خط جنہیں مجبور صدا نے لکھے
خدارا!سو چیں ہم ایک قوم بن کرا پنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔مثبت سوچ،ایثاراور قربانی سے اس ملک کو بچایا جا سکتا ہے۔ ہم اپنے ارد گرد کے حالات وواقعات کا جائزہ لیں تومحسوس ہو گا من حیث القوم ہم نے آزادی کی قدر نہیں اور تاریخ بتاتی ہے آزادی کی قدر نہ کرنے والوں کا جغرافیہ بدل جاتا ہے خدارا پاکستان کی قدر کریں —آزادی کی قدر کریں اسی میں ہم سب کی بقاء ہے۔مسلسل دو اڑھائی ماہ سے جاری دھرنے،احتجاجی جلسے جلوس اور گو گو کے نعروں کے باوجود ابھی تک حکومت نے اصلاح ِ احوال کیلئے کچھ نہیں کیا ہوہر حکومتی عہدیدارنے عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری پر تنقیدکو مشن بنا رکھاہے صاف ظاہرہے عوام میں بے چین نہ ہوتی تھی تو تحریک ِ انصاف اور عوامی تحریک کے جلسے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے اسی لئے حکومت مسئلہ حل کرنے کیلئے عوام کو ریلیف دے تو بہت سے مسئلے حل ہو سکتے ہیں باتیں ہزار کارکردگی کچھ بھی نہیں اسی لئے کبھی کبھی دل سوچنے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کیسی قوم ہیں؟۔