ایک بڑے دکھ کی بات یہ ہے مسلمان پچھلے700سالوں سے آہستہ آہستہ تنزلی کی  طرف گامزن ہیں  تنزلی کا یہ سفر اب تلک جاری ہے    لیکن کسی کو مطلق احساس تک نہیں اسے اجتماعی بے حسی سے بھی تعبیر کیا جا سکتاہے پرندوں کی طرح اڑنے کا شوق ایک نئی جہت کا آغاز تھا مگر ہم نے توسوچناہی چھوڑ دیاہے غور وفکر تو اس سے اگلی بات ہے۔چاند کی تسخیرکا نظریہ پیش کرنے والے ولیم سے کسی نے پوچھا  تمہیں کیا سوجھی۔۔۔ کیسے خیال آیا کہ چاند پرجانے کا بھی سفرکیا جا سکتاہے؟۔۔۔ویری سنپل۔۔۔گورے نے ایک عجب سٹائل سے کہامیں نے مسلمانوں کی الہامی کتاب  کی ایک آیت(ترجمہ)”ہم نے زمین آسمان کے دروازے تمہارے  لئے کھول دئیے ہیں غور وفکر کرنے والے کیلئے بہت نشانیاں ہیں“ پر غور کرنا شروع کیا زمین کے دروازے کھولنے کا مطلب معدنیات،تیل، گیسز،سونا،چاندی لوہا،نمک، تانبا،یورینیم اور دیگر چیزوں کی دریافت  ہے لیکن آسمانوں کے دروازے کھولنے سے کیا مرادہے میں نے اس کے متعلق سو چنا شروع کردیا لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی  پھر جب میں نے آیت  کے اگلے مفہوم ”غور وفکر کرنے والے کیلئے بہت نشانیاں ہیں “ پر ریسرچ شروع کی تو حیرت کے ایک نیا جہاں کا مجھ پر انکشاف ہوا میں حیرت سے ساری رات نہ سو سکا اس اینگل سے سوچا  آسمان میں کچھ سیارے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جن میں ہو سکتاہے زمین کے طرح زندگی کا وجود ہو  وہاں کسی خلائی مخلوق کی حکمرانی ہواب اس موضوع پر کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں یا وہاں  انسان کی آباد کاری کی کوشش کی جائے اس نقطہ ئ  نظر سے ریسرچ کا دائرہ  ِ کا بڑھایا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے”یعنی
کوئی مانگنے والا ہو اسے شان ِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والے کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
یہ بات یقینی ہے کہ ہم مسلمانوں کوآج بھی  لوگوں نے وقت کی نزاکت کااحساس تک نہیں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے چین۔۔۔جاپان کی  ترقی کو نگل گیا اب جاپانی کمپنیاں چین میں مینو فیکچرنگ کرنا اپنے لئے اعزاز سمجھتی ہیں۔۔بنگلہ دیش کی آزادی کو صرف32سال ہو ئے ہیں اور وہاں کم وبیش 2000پاکستانی تاجر،صنعت کار اور سرمایہ کاروں نے ہیوی انوسٹمنٹ کررکھی ہے اس کے برعکس  ہم نے آج تک کیا کیا۔۔بیکو جیسا شاہکار ادارہ تباہ کر ڈالا۔۔۔پاکستان سٹیل ملز ہم سے چل نہیں رہی مسلسل خسارا اس کا مقدر بناہواہے۔ پاکستان ریلوے کی حالت سب کے سامنے ہے اور تو اور پی آئی اےPIAجیسا قومی ادارہ آخری  ہچکیاں لے رہا ہے اس کے علاوہ انگنت سفید ہاتھی قومی خزانے پر مستقل بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ کسی کے اچھوتے خیال نے دنیا کو بدل کررکھ دیا اورہم خوابوں،خیالوں کی دنیا سے ہی باہر آنے کو تیار نہیں۔۔۔آئیے !ہم سب  ا س ماحول کو بدلیں پاکستان کو نئی سوچ دیں، اچھوتے خیال پیش کریں یہی زندگی کی علامت ہے اور ترقی کی بنیاد بھی۔میرادل  توبے اختیاراس سخص کو سیلوٹ کرنے کو کررہاہے جو دنیا میں پہلی مرتبہ اپنے بازو اور ٹانگوں پر لمبے  لمبے پر لگاکر اڑنے کی کوشش میں گرکر زخمی ہوگیا دنیا قیامت کی چال چلتی جا رہی ہے اور ہم فرسودہ  خیالوں اور دقیانوسی ماحول سے باہر ہی نہیں نکلتے  ایک دوسرے سے لاتعلقی،بے حسی،بے مروتی اس قدر غالب آگئی ہے کہ اب تو مطلب کے بغیر کوئی ہاتھ ملانا بھی پسندنہیں کرتا  غریب رشتہ دارکی طرف دیکھنا بھی معیوب بن گیاہے شاید الفاظ کے معنی الٹ ہوگئے ہیں یا لوگوں کی کھوپڑیاں۔۔۔اس بے حسی،انسان کی ناقدری اور روپے پیسے سے اتنی محبت  کہ ماتم کرنے کو جی  کرتاہے اسلام نے دولت سے محبت کو فتنہ قرار دیاہے جبکہ صرف اپنی ذات  کے متعلق سوچنا رہبانیت ہے۔آج کوٹھی،کار،کاروبار اور ہر طرح کی آسائشیں ہماری دسترس میں ہیں جن کے پاس وسائل ہیں دولت ان پر عاشق ہے،کھانے کو ہزار نعمتیں،پہننے کیلئے قیمتی ملبوسات کی وسیع رینج،۔۔۔ نزاکت،شہرت اوردنیا جہاں کی مہنگی سے مہنگی چیزیں گھرکی لونڈی۔۔۔لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ دل محبت سے خالی ہو گئے ہیں مسلمان ہونے کے باوجودہم  مروت، احساس،اخوت،بھائی  چارہ اور ایک دوسرے س کی چاہت سے  عاری ہوتے جارہے ہیں اوردل ہیں کہ خواہشات کے قبرستان بن گئے قبرستان بھی ایسا کہ ٹوٹی پھوٹی قبریں جن پر کوئی دیا ٹمٹماتاہے نہ کوئی فاتحہ پڑھنے کیلئے آتاہو حیف صد حیف پھر بھی  ہم سمجھتے ہیں زندہ ہیں۔ لیکن سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے کیا یہ سب کچھ زندگی کی علامت ہے؟۔۔  کیا ہم  اپنے لاشے  کندھوں پر اٹھائے نہیں پھرتے۔۔۔ہمارا  رویہ۔۔ شخصیت کا تضاد،  بناوٹ،جھوٹی نمائش  اور خلق ِ خدا سے سلوک سب کا سب ہماری  مذہبی تعلیمات کے منافی  ہے۔اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔۔۔ہم نے یہ بھی کبھی غورنہیں کیا کہ بڑے بڑے گھروں میں رہنے  سے انسان بڑا نہیں ہوتا چھوٹے گھروں میں بھی بڑے لوگ رہتے ہیں ہمارے لئے یہ جاننا کافی نہیں کہ صرف اپنے متعلق سو چنا رہبانیت ہے۔ ہمارے آس پاس قدم  قدم پر اللہ کی ظاہر نشانیاں موجودہیں۔۔سوچ و فکرکے در بھی کھلے ہیں۔۔نعمتیں ہیں اس کا حساب ہے نہ شمار۔۔ اس کے باوجود کسی کو مطلق احساس تک نہیں عام آدمی پر کیا بیت رہی  ہے  اس حال مست۔۔مال مست  بے نیازی  کو کیا نام دیجئے  لیکن اس  کو خود فریبی سے تعبیر بھی کیا جا سکتاہے شاید اشرافیہ یہ سمجھتی ہے کہ ان تمام نعمتوں پر صرف انہی کا حق ہے۔۔مال و دولت، وسائل کی بہتات،لاکھوں،کروڑوں کی پراپرٹی،بینک بیلنس اوراچھے حالات ان کا کوئی کمال ہے جو قدرت انہیں اس قدر نواز رہی ہے سچ جانیئے! یہ سب کچھ امتحان بھی ہو سکتاہے۔۔پاکستان میں غربت،دہشت گردی،بے روزگاری،مہنگائی،جسم فروشی اور چوری،ڈکیتی،راہزنی دیگرمسائل کا بڑا سبب  دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے  جس نے مسائل در مسائل کو جنم دے کر عام آدمی کی زندگیاں تلخ بنادی ہیں پاکستان نصف صدی سے جن چیلنجز سے نبرد آزما  ہے ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملکی  وسائل چند خاندانوں تک محدودہوکر رہ گئے ہیں یہی لوگ اس وقت  پاکستانیوں کی  تقدیرکے مالک بنے ہوئے ہیں۔اپنے دلوں کو خواہشات کا قبرستان بنانے والوں کیلئے لمحہ ئ  فکریہ ہے۔۔ایک بڑے دکھ کی بات یہ ہے مسلمان پچھلے700سالوں سے آہستہ آہستہ تنزلی کی  طرف گامزن ہیں  تنزلی کا یہ سفر اب تلک جاری ہے    لیکن کسی کو مطلق احساس تک نہیں اسے اجتماعی بے حسی سے بھی تعبیر کیا جا سکتاہے پرندوں کی طرح اڑنے کا شوق ایک نئی جہت کا آغاز تھا مگر ہم نے توسوچناہی چھوڑ دیاہے غور وفکر تو اس سے اگلی بات ہے۔