ماں اور ماں دھرتی

مستقبل
فرخ سہیل گوئندی

دنیا میں میرا پہلا غیر ملکی سفر بھارت کا تھا، اس کا آغاز پاسپورٹ کے لیے اہل عمر کے ساتھ ہی ہوا اور یوں اسّی کی دہائی میں چھے بار بھارت یاترا کی تاریخ کو کھنگالنے کے ساتھ ساتھ میرے سفر کے موضوعات سیاسی جہاں گردی رہے ہیں۔ اسی لیے ان بھارتی سفروں میں بھارت کے دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں میرے ان سفروں کے ایجنڈے میں سرفہرست رہی ہیں۔ بھارت میں مختلف علمی، ادبی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران جب میں خشونت سنگھ کو ملنے گیا تو مجھے ان کے گھر کی آرائش سے یوں لگا جیسے میں کسی مسلمان شخص کے گھر آیا ہوں۔ قرآنی آیات اور اردو اشعار، خطاطی کے شاہکار دیواروں پر سجے تھے۔ خشونت سنگھ سے دوستی کا دعویٰ ہر ملاقاتی کرتا ہے، اس لیے کہ وہ Son of the Soil تھے اور اسی لیے وہ Down to Earth تھے۔ ان کا دھرتی کا بیٹا ہونے کے فخر نے ہم دونوں کے درمیان دوستی کے تانے بانے مزید مضبوط کر دیئے۔ وہ سرگودھا کے گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔ ہڈالی اب تو خوشاب ضلع میں ہے لیکن اس سارے علاقے کو سرگودھا کے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے۔ گزشتہ سال جب ان کا دیہانت ہوا تو ہڈالی کے محمد علی اسد بھٹی نے خشونت سنگھ کی یاد میں ایک ریفرنس رکھا، جس میں مجھے مہمان کے طورپر بلایا گیا۔ خشونت سنگھ کا پیدائشی گھر اب ایک کھنڈر ہے، ان کے گھر کی باقیات میں سے ایک تحفہ اب میرے گھر کی لاؤنج میں سجا ہے۔ یہ وہ سیاہ پتھر کی سِل ہے جس پر خشونت سنگھ کی والدہ گندم سے آٹا پیسا کرتی تھیں۔ خشونت سنگھ نے بھارت میں جو نام کمایا، وہ بھارت کے چند ہی دانشوروں کے حصے میں آیا۔ اتنا نام کمانے کے بعد ان کی آخری خواہش تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو مسلمانوں کی طرح دفنایا جائے اور ان کو ان کی مٹی ہڈالی میں دفنایا جائے۔ ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی لیکن یہ ضرور ہوا کہ ان کی میت کی راکھ ہڈالی میں دفنا دی گئی۔
جو لوگ اپنی دھرتی ماں سے پیار کرتے ہیں، یہ انہی کو علم ہے کہ یہ عشق کسی طرح بھی ماں کے ساتھ عشق سے کم نہیں۔ میری والدہ کلثوم گوئندی، بھارت کے ایک خوب صورت شہر پونا میں پیدا ہوئیں۔ چند سال قبل والدین نے حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ اب وہ دو ہی شہر دیکھنے کی خواہاں ہیں،ایک قسطنطنیہ (استنبول) اور دوسرا پونا۔ میری ماں کی پیدائش پونا میں ہوئی لیکن پلی بڑھیں سرگودھا میں۔ راقم نے پچاس کے قریب ممالک کی سیاحت کی، لیکن جوانس Motherland سے ہے، ایسا انس شاید ہی کسی اور سرزمین سے ہو۔ سرگودھا میری جنم بھومی ہے، لاہور سے اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر یہ شہر جس قدر ناسٹلجک احساسات رکھتا ہے، اس کا احساس انہی کو ہوتا ہے جو اپنے گلی محلے کو شعوری زندگی میں چھوڑ جاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں نے والدہ سے کہا کہ چلیں سرگودھا چلتے ہیں۔ بھائی اعجاز گوئندی بھی ہمارے ہمراہ تھے۔ والدہ کی خوشی کی انتہا نہ تھی اور میرے لیے یہ اعزاز کہ مدر لینڈ کو اپنی ماں (مدر) کے ہمراہ دیکھ کر ماضی کے گوشوں میں جھانکنے کا پُرسوز لطف۔
سرگودھا شہر کا سحر کرانہ پہاڑی ہے، جس کو جیالوجسٹ، دنیا کے قدیم پہاڑی سلسلے کی باقیات قرار دیتے ہیں۔ جب موٹروے سے اتریں تو یہ بائیں جانب اپنی سحر انگیزی کے ساتھ نظر آتی ہے اور شہر میں داخل ہوتے ساتھ ہی پریزینٹیشن کانونٹ سکول جہاں والدہ اور میری بہنوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر یکایک گورنمنٹ کالج سرگودھا آیا جس کی عمارت پر سرگودھا یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔گورنمنٹ کالج سرگودھا میری دوسری درسگاہ ہے جہاں غلام جیلانی اصغر جیسے اساتذہ ہمارے استادوں میں شامل تھے، اردو اور انگریزی ادب پر گرفت ان کا کمال تھا۔ ہمارے ہاں تاریخ کو Glorify اور Distant کرنے کا فن اپنے عروج پر ہے، اسی طرح ہم نے ہم عصر تاریخ کو بھی اپنی بونی خواہشات کے سبب کھرچا ہے۔
سرگودھا جن لوگوں کے ہاتھوں اور آنکھوں کے سامنے آباد ہوا، ان کے ہاں بیٹھنے نہیں بلکہ جنم لیا۔ میری والدہ کے دادا عبدالرحیم گوئندی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے سامنے سرگودھا آباد ہوا اور ان کے والد سربندھی گوئندی اور دسوندھی گوئندی، سرگودھا کے باقاعدہ آبادکار تھے۔ سیالکوٹ، گجرات اورگوجرانوالہ کے علاقوں سے جن کاشتکار خاندانوں کو سرگودھا آباد کاری کی ذمہ داری دی گئی، دسوندھی گوئندی اور سربندھی گوئندی ان میں سرفہرست ہیں۔ یہ دونوں بھائی سرگودھا کے بانی ہیں۔ سرگودھا کی تعمیر اپنے وقت کے حوالے سے ایک جدید ترین شہر کے طور پر کی گئی۔ اس کا فنِ تعمیر ہسپانوی فن تعمیر ہے۔ اس کی تعمیر کا یقین مجھے 1998ء میں قرطبہ کی سیاحت کے دوران ہوا۔ سرگودھا شہر کے بلاکس اور مکانات کا طرزِ تعمیر آپ قرطبہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ لوئرجہلم کنال کنارے اس شہر کی وجہ تسمیہ بابا گودھا ہے جو ایک فقیر درویش تھا اور ککر کے جنگل کے اندر سر (تالاب) کنارے رہتا تھا۔ لیڈی ٹوپر کی سرپرستی میں جب شہر تعمیر اور آباد کرنے کا فیصلہ ہوا تو نئے شہر کا نام اسی فقیر گودھے کے نام پر رکھا گیا۔ سرگودھا شہر کے اوّلین بلاکس میں 5,6,7,9 اور 16 بلاکس تھے جہاں پر سربندھی گوئندی اور دسوندھی گوئندی کا خاندان آباد ہوا اور اس کے علاوہ ساہنی خاندان (ہندو ساہنی)، جن کی حویلی سرگودھا آباد ہونے سے پہلے ککر کے بیابان جنگل میں تعمیر ہوئی جو سرگودھا شہر کا سب سے پہلا بڑا گھر یا حویلی تھا۔ معروف اداکار بلراج ساہنی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ماں کے ساتھ ماں دھرتی کا سفر اور تاریخ کے جھروکوں سے دیکھنے کا لطف ناقابل بیان ہے۔ شہر کے پہلے تعمیر کیے گئے 5/6 بلاکس کے علاوہ سب گھروں کے مالک ہندو اور سکھ تھے۔ فقیر گودھے کی نسبت سے آباد اس شہر میں گوئندی خاندان کے علاوہ دوسرا ابتدائی مسلمان خاندان جناب آصف خان، رہنما پاکستان پیپلزپارٹی کا تھا جو صوبہ سرحد سے یہاں آکر آباد ہوئے۔ 1947ء کے بعد اس شہر نے نئی کروٹ لی اور یہاں پر جو مہاجرین آباد کیے گئے، ان کی اکثریت انبالہ سے ہے اور یوں اب اس شہر میں انبالہ کلچر کی چھاپ آپ بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔
بھارتی سفروں کے دوران مجھے یہ خبر ممبئی لے گئی کہ بھارت کے اداکار اورفلم ساز آئی ایس جوہر، ذوالفقار علی بھٹو پر فلم بنا رہے ہیں جب میں ان کے گھر پہنچا جو تاج محل ہوٹل کے پچھواڑے پر واقع تھا اور ملاقات میں گفتگو کا آغاز کیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ پنجابی ہیں؟ مثبت جواب پر انہوں نے کہا تو پھر آپ پنجابی بولیں۔ ان کے پنجابی لہجے پر میں چونکا اورپوچھا، آپ کی جنم بھومی؟ انہوں نے بتایا، تلہ گنگ۔ میری Excitement بڑھی اورفوراً بتایا کہ میں بھی تو سرگودھا سے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں سرگودھا میں سناتن دھرم ہائی سکول میں پڑھا ہوں۔ میں نے کہا، میرے والد یعقوب گوئندی بھی اسی سکول سے پڑھے ہیں، اب اس سکول کانام خالقیہ ہائی سکول ہے۔ اپنے آبائی قبرستان پر فاتحہ کے بعد جب گاڑی سناتن دھرم (خالقیہ ہائی سکول) کے سامنے روکی تو یقین نہیں آرہا تھا کہ تاریخ کبھی کبھی کتنی بڑی جست لگاتی ہیں کہ تسلسل کا عمل یکدم نئی کروٹ لیتا ہے۔ شہراب کمرشل ازم کا بری طرح شکار ہے۔ مکان، دکانوں اورمارکیٹوں میں بدل رہے ہیں۔ چند سال قبل جب ڈاکٹر وزیر آغا بستر مرگ پر تھے تو میں نے اپنے دوست ڈاکٹر سلیم آغا کی بہن سے پوچھا، کیا آپ اپنے سرگودھا کے گھر جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا،نہیں لیکن ہم نے اس کو اسی حالت میں قائم رکھا ہے۔ بڑی بڑی آفرز ہوتی ہیں کہ نہایت قیمتی جگہ ہے، اچھی قیمت لگانے والے درجنوں ہیں لیکن ہم اپنا آبائی گھر بیچنے کا تصوربھی نہیں کر سکتے۔ پھر انہوں نے دکھ سے کہا،سرگودھا میں لگتا ہے دکانوں پر دکانیں چڑھی ہوئی ہیں۔ لوگ شہری ذوق سے ناآشنا لگتے ہیں۔ دکانیں، مارکیٹیں اور بازار، اب اس کے سوا سرگودھا میں کم ہی کچھ اور نظر آتا ہے۔
بھائی اعجاز، عزیزم حمید گوئندی اور ہم جب اپنے سکول کینٹ پبلک سکول سرگودھا پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی۔ میلہ منڈی روڈ پر سکول کی عمارت جو اب فیڈرل پبلک سکول کہلاتا ہے، وہاں پہنچے تو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ عمارت کا بنیادی فن تعمیر تجدید کے ساتھ قائم ہے۔ اسی دوران ایک اور سکول فیلو ایاز خان بھی آگئے، جن کے خاندان کی تاریخ پھر کسی وقت آپ پڑھیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ ہم نے اپنی تاریخ کے بڑے کرداروں کو کیسے بھلایا ہی نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق سے مٹا دیا۔ بھنگیوں کی توپ کی تاریخ اسی خاندان سے جڑی ہے۔ ماں کے ہمراہ ماں دھرتی کا یہ سفر دنیا کے پچاس سے زائد ممالک کے سفروں سے کہیں زیادہ یادگار سفر ہے۔ اسی سفر کے دوران میں اپنی والدہ، بھائی اور حمید گوئندی کو ایک اور Son of the Soil کے ہاں لے گیا جس نے شہر سے دُور اپنی زرعی زمینوں میں ایک دنیا آباد کر رکھی ہے۔ ہمارا یار بانکا ساہنی۔ اپنی ماں دھرتی سے عشق میں نے بانکا جیسے لوگوں سے ہی سیکھا ہے۔ دھرتی سے عشق ماں سے عشق کی طرح ہے، جس کے سینے پہ سب کو خاک ہوجانا ہے۔