یوم دفاع پاکستان کے سلسلہ میں سویڈن میں سفارت خانہ پاکستان میں ایک تقریب منعقد ہوئی

سٹاک ہوم (عارف کسانہ؍نمائدہ خصوصی) یوم دفاع پاکستان کے سلسلہ میں سویڈن میں سفارت خانہ پاکستان میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں شرکاء کی بڑی تعداد شریک ہوئی جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ تقریب میں چالیس دن سے نوے سال کی عمر کے حاضرین موجود تھے۔ سفارت خانہ کے خالد صدیقی نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے۔ڈاکٹر عارف کسانہ کی تلاوت قرآن حکیم سے یوم دفاع کی تقریب کا آغاز ہوا۔ سفیر پاکستان جناب طارق ضمیر نے یوم دفاع کے حوالے سے صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے۔ جنگ ستمبر ۱۹۶۵ ء کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف کسانہ نے کہا چونکہ اُن کا تعلق چونڈہ سے ہے اس لیے اُن کا خاندان جنگ سے براہ راست متاثر ہوا تھا۔ چونڈہ میں ہی جنگ عظیم کے بعد ٹینکو ں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی اور پاک فوج نے بہادری سے دشمن کی پیش قدمی روک کر بھارتی عزائم کو خاک میں م ملایا اور چونڈہ کو ناقابل تسخیر رہا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اُسی جذبے کی ضرورت ہے اور اُن شہدوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی جن کی لازوال قربانیوں سے ملک کا دفاع ممکن ہوا۔ مسیحی برادی کے بہادر سپوتوں نے بھی بہادری کی عظیم داستانیں رقم کیں جن پر انہیں بھی سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مضبوط دفاع کے بغیر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا مقابلہ ممکن نہیں۔ پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کے بعد بھارت نے جموں کشمیر، جونا گڑھ، حیدرآباد، دادرا ونگر حویلی اور سکم پر جبری قبضہ کیا اور مشرقی پاکستان میں اُس کا کرادر سب پر عیاں ہے۔ کونسلر برکت حسین نے کہا کہ جنگ کے وقت وہ کوئٹہ میں فوج کے اایک شعبہ سے وابستہ تھے اس لحاظ سے انہوں نے بھی جنگ میں ایک طرح سے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ذہنیت سمجھنے کی ضرورت ہے اور جو لوگ بھارت سے دوستی کے خواہاں ہیں وہ بھارتی عزائم سے ناواقف ہیں۔ جب تک بھارت کشمیر سے اپنا غاصبانہ قبضہ ختم نہیں کرتا امن اور دوستی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو ماضی کی تاریخ سے آغا رکھا جائے۔ انہوں نے سفارت خانہ کی جانب سے یوم دفاع کی تقریب منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے راحیل شریف کو سپہ سالار مقررکرنے کے فیصلہ کو بہت سراہا۔ اٹلی سے آئے ہوئے صحافی لیاقت علی شفقت نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا تھا اور یہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ کفر اور اسلام کی کشمکش ہمیشہ جاری رہے گی اور اس میں فتح ہمیشہ حق کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر کی اُس جنگ میں پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی وہ اُن کے ساتھ کھڑے ہیں اور قوم جلد ہی دہشت گردی سے نجات حاصل کرکے گی۔ جنگ کے دور کی اپنی یادوں کو شرکاء سے بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نذیر احمد نے کہا کہ وہ اُس وقت پشاور یونیورسٹی میں ڈپٹی رجسٹرار تھے اور عمر چالیس سال تھی۔ انہیں یقین تھا کہ پاکستان کو کبھی شکست نہیں ہوسکتی کیونکہ جو جذبہ پاک فوج میں تھا وہ بھارتی فوج میں نہیں تھا۔ بھارتی فوج ۱۹۶۲ء میں چین کے ساتھ ہونے والی جنگ میں دم دبا کر بھاگ چکے تھے۔ انہوں نے جنگ کے دوران ہونے والے متعدد واقعات بھی سُنائے۔ انہوں کہا جب بھی سائرن بجتا وہ بجائے چھپنے کے باہر نکلتے اور دیکھتے کہ کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اس قدر جوش و خروش تھا اور لوگ بالکل خوف ذدہ نہیں تھے۔ پاک سرزمین کے دفاع کے لیے فوج اور عوام یکجا ہیں اور دشمن کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سفیر پاکستان جناب طارق ضمیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ہمیں اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب پوری قوم وطن کے تحفظ کے لیے متحد اور سینہ سپر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا اہم ملک ہے اور ملکی دفاع مضبوط ہاتھیوں میں ہے۔ دہشت گردی اور دوسرے مسائل پر جلد قابو پالیا جائے اور بانی پاکستان کے ارشادات کی روشنی میں پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بارش اور چھٹی کا دن ہونے کے باوجود کثیر تعداد میں یوم دفاع پاکستان کی تقریب میں شرکت پر حاضرین کے جذبہ کو سراہا اور اور اُن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں کہا کہ مستقبل میں سفارت خانہ مزید ایسے پروگرام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں کمیونیٹی کے تمام افراد خصوصاََ خواتین کو بھی شریک کیا جائے۔

IMG_1969 IMG_1968 IMG_1965 IMG_1966 IMG_1967