دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے آر اشرف
فتنہ یا اتحاد

قاتل کو اگر انصاف کی کرسی پر بیٹھا کر اُس سے عدل کی توقع کی جائے تو اسے احمقوں کی جنت مین رہنے کے مُترادف ہی سمجھا جائے گا۔آجکل داعش کے خلاف ۴۳ مُلکی اتحاد کا بہت چرچا ہے اور اقوام عالم کوداعش کے فِتنہ سے بچانے کا لولی پوپ دیا جا رہا ہے جبکہ دنیا جانتی ہے کہ اس اتحاد میں شامل بیشتر وہ ممالک ہیں جن کی کوکھ سے داعش نے جنم لیا تھا اور ان میں سے کچھ ممالک ابھی تک اُنکی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں اور اُنہیں مالی معاونت اور جدید اسلحہ مہیا کرکے مضبوط بھی کر رہے ہیں یعنی اپنی منافقانہ روش سے ایک تیر سے دو شکار کرنے کے باوجود بڑی ڈھٹائی سے دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے مگرمچھ کے آنسو بہا کر داعش کیخلاف اتحاد کے جھوٹے دعوؤں کی تشہیر کرتے ہیں ان ممالک کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس اتحاد میں اس خطے کے اہم ترین ملک ایران۔عراق۔شام اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ممالک کو۔اسلامی اتحاد۔ میں شامل کرنیکی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور پھر اُن کے اتحادیوں کو یکسر فراموش کر کے وہ اپنی دانش میں اس نام نہاد اتحاد کے ذریعے دنیا کو امن کا گہوارہ بنادینگے جبکہ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ امن کا اتحاد نہیں بلکہ یہ ایک وحشت ناک۔فِتنہ۔ہے جس سے فرقہ واریت کی بو بہت دور سے محسوس کی جاسکتی ہے بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس اتحاد کے ذریعے عراق کی تقسیم کی بنیاد رکھی گئی ہے اور جسکا روڈ میپ ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے پہلے سے تیار کر لیا گیا ہے۔اس نام نہاد اتحاد کی رازداری کا یہ عالم ہے کہ اتحاد میں شامل بعض ملکوں کو بھی معلوم نہیں کہ کوئی اسلامی اتحاد وجود میں آچکا ہے اور پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ جسے۔اسلامی اتحاد۔کا نام دیا گیا ہے اُس میں سعودی عرب،ترکی اور عرب امارات کے علاوہ چند ایک ہی اسلامی ممالک شامل ہیں اور اُن میں بھی بیشتر ممالک کو علم ہی نہیں کہ کسی۔اسلامی نامی اتحاد نے جنم لیا ہے۔پاکستان جس کے ساتھ سعودی عرب کے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اُس سے بھی کسی قسم کی مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی،مانا کے پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے سعودی عرب کی رائیل فیملی کے بہت گہرے تعلقات ہیں مگر سعودی حکمران اور میاں نواز شریف یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں ایک پارلمنٹ کا وجود بھی ہے جسکی منظوری کے بغیر تنہا وزیراعظم کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ممکن ہے سعودی احکام نے اتحاد قائم کرنے سے پیشتر وزیراعظم پاکستان کو اعتماد میں لیا ہو یا پھر میاں نواز شریف نے سعودی رائیل فیملی سے دیرینہ تعلقات کا بھرم رکھنے کیلئے اتحاد میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہو مگر وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے انکشاف کیا ہے کہ اس معاملے میں اُنکی سعودی احکام سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی پھر وزارت خارجہ کے سیکرٹری جناب اعزاز چوہدری نے تو اس اتحاد کے بارے میں سرے سے لاعلمی کا اظہار کیا جسکی حکومت اُس سے جواب طلبی مانگ رہی ہے کہ انہوں نے ایسا غیرذمہ دارنہ بیان کیوں دیا۔وہ جو کہتے ہیں۔ڈگی کھوتے توں تے غصہ بیچارے کمہاڑ پہ۔جب اس اتحاد کے بارے میں کسی کو معلوم ہی نہیں تو سیکرٹری خارجہ کو الہام تو نہیں ہوا تھاکہ وہ سعودی احکام کے فیصلے پر آنکھیں بند کر کے لبیک یا سعودیا کا نعرہ بلند کر دیتا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں ۴۳ ملکی عسکری اتحاد میں پاکستان کی شمولیت معمہ بن گیا ہے،بد قسمتی سے پاکستان کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستانی عوام کو اندھرے میں رکھ کر فیصلے کئے ہیں جسکی قوم بھاری قیمت چکاتی رہی ہے مثال کے طور پر۔سیٹو اورسینٹو کو دیکھ لیں کہ مفاد پرست حکمرانوں نے قوم کو اعتماد میں لئے بغیر صرف اور صرف۔ناگ دیوتا۔امریکہ کی خوشنودی کے لئے پاکستان کوکمیونزم کے خلاف اتحاد میں جھونک دیا گیا اور اس سرد جنگ میں شامل ہو کر ہمیں اپنے ہمسائے روس سے دشمنی کاخمیازہ اُٹھانا پڑاپھر جنرل ضیاالحق کو امریکی ڈالڑوں نے اسقدر آندھا کیا کہ قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر وہ افغانستان پر سوویتی فوجوں کی یلغار پر۔آ بیل مجھے مار۔کے مترادف اس جنگ کا حصہ بن گئے اور امریکہ تواپنے روایتی انداز میں جیسا کہ ہمیشہ سے اُسکی طینت رہی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول تک ہی کسی کا ساتھ نبھاتا ہے اور جیسے ہی اُسکا مقصد پورا ہوتا ہے گرگٹ کی طرح آنکھیں پھیر لیتا ہے کچھ اس طرح ہی کا کھیل اُس نے پاکستان کے ساتھ کھیلا اور اپنا ہدف پورا کرنے کے بعد آسانی سے تصویر سے غائب ہو گیا اور جاتے جاتے ہمیں دہشت گردی کے دوزخ میں دھکیل گیا اور گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم اس پرائی جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں اور اب تک نوے ہزار معصوم جانوں کی قربانی کے علاوہ ۰۸ ارب کی املاک کا نقصان بھی اُٹھا چکے ہیں اس وقت پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے ہر جانب سے پاکستان کے دشمنوں نے یلٖغار کر رکھی ہے ایک طرف اپریشن ضرب عضب نے طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی اگرچہ کمر توڑ دی ہے مگر وہ زخمی ناگ کی طرح بل کھا رہے ہیں اور وہ انتقامی کاروائی کسی بھی وقت کر سکتے ہیں اسلئے پہلے سے بھی زیادہ خطرات موجود ہیں اُن سے غافل نہیں رہا جا سکتا پھر پاکستان کے تمام اسلامی ممالک سے بردارانہ تعلقات ہیں اور پاکستان اُن کے بہتر تعلقات کی بحالی کے لئے اہم اور کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ایسے میں قوم مزید کسی فتنے یا نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی اسلئے۔جمعہ جنج نال۔مت بنیں،افواج پاکستان۔کوئی کرائے کی افواج نہیں کے ہر کسی کی حفاظت کیلئے قربانی کا بکرا بنیں پہلے ہی ہماری افواج پرفلسطینوں کے خون کا داغ ہے جو جنرل ضیاالحق کی قیادت میں بہایا گیا تھا اس لئے کسی ایسے اتحاد میں شامل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے کے سعودی عرب کی سلامتی کا تحفظ کرتے کرتے کہیں۔گھر کے چراغ سے اپنے ہی گھر کو نہ جلا بیٹھیں کیونکہ پاکستان میں تقریباََ پانچ کروڑ اہل تشیع آباد ہیں جو کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان کسی ایسے اتحاد میں شامل ہو جس کی بنیاد حب علیؑ میں نہیں بغض معاویہ پر رکھی جائے اس لئے اگر حکومت نے اس قسم کا کوئی فیصلہ کیا ہے تو اُس پر نظرثانی کرے۔اس سے پیشتر جب یمن فوج بھیجنے کا مسلۂ پیش ہوا تھا تو اسمبلی نے فوج نہ بھیجنے کا مثبت فیصلہ کیا تھا جسے پوری قوم نے جائز اقدام قرار دیا تھا یہ بھی انتہائی اافسوس کا مقام ہے کہ پاکستان جیسے اہم ترین ملک کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں غالباََ وزیراعظم بھی اپنے بردار خورد کیطرح تمام اختیارات کا قلمدان اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں ہم تو حکمرانوں کو صرف یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے سے پیشتر پوری قوم کو اعتماد میں لیا جائے اس سلسلے میں تحریک انصاف کے جناب عمران خان کی یہ تجویز درست ہے کہ سعودی اتحاد میں شمولیت کے لئے اسمبلی میں کھلی بحث ہونا چاہیے،خدا ہمیں ملکی مفاد میں فیصلے کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔