خون کی ہو لی ۔اے۔آر۔اشرف

یہ سچ ہے کے دہشت گردوں کا کسی دین،مذہب،ایمان،قوم،رنگ ونسل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور نہ ہی اُنکے پیش نظر کوئی قوم یا ملک ہوتا ہے وہ صرف اورصرف انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں اور اپنی درندگی،سفاکی اور بربریت سے اقوام عالم کو زیر کرکے اپنی پست ذہنیت کے مطابق اپنی مرضی کا نام نہاد قانون مسلط کرکے حکمرانی کے خواب دیکھتے ہیں اورطالبان یا داعش بھی اسی مقصد کے حصول کیلئے وجود میں آئی تھی آغاز میں تو ناگ دیوتا۔امریکہ،یورپین ممالک،اسرائیل،سعودی عرب اور عرب امارات انکی معاونت اورہر طرح کی مدد اسلئے بھی کرتے تھے کیونکہ وہ ان کے ذریعے اور انکواستعمال کرکے اپنے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے مگر جب یہ جن بوتل سے باہر نکل کر اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے لگا اوراپنے معاونوں اور سہولت کاروں کو بھی اپنی سفاکی اور درندگی کا نشانہ بنانے لگا تو اقوام عالم کو بھی انکی درندگی کو نکیل ڈالنے کا خیال آگیا۔ میں آج ۳۲ مارچ کی تقریب پرچم کُشائی کے حوالے سے کالم لکھنے میں مصروف تھا کے نجی ٹی وی پر گلشن پارک لاہور میں بم دھماکوں کی خبر نے میرے اُوسا ن خطا کر دئیے جس میں ۲۷ معصوم جانوں کے خون سے ہَولی کھیلی گئی تھی جن میں ۹۲ معصوم بچوں کے علاوہ سات خواتین بھی شامل ہیں دہشت گردوں کا یہ حملہ کسی ایک فرقے،مذہب یا کسی مخصوص مسجد،آمامباڑگاہ،گرجے یا مندر پر بھی نہ تھا یہ بلا امتیاز پاکستانیوں کا خون بہانے کیلئے کیا گیا تھا میں اپنے آرمی چیف جناب راحیل شریف کو سلام پیش کرتا ہوں جہنوں نے گلشن پارک لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اپریشن ضرب عضب کی سی طرز کا اپریشن پنجاب میں بھی شروع کرکے عوامی خواہشات کا اخترام کرتے ہوئے اُنکے دیرینہ مطالبے کو مان لیا ہے۔دہشت گردوں نے ایسے وقت پردہشت گردی کا انتحاب کیا جب کہ قوم۔یوم تشکر۔ منا رہی تھی مگر درندہ صفت دہشت گردوں نے اپنی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سینکڑوں گھروں کے گلشن اُجاڑ دئیے اور جہاں خوشیاں منائی جا رہی تھیں وہاں خون کی ایسی ہَولی کھیلی کہ تمام تر خوشیاں صف ماتم میں تبدیل ہو گئیں۔بلا شُبہ ۳۲ مارچ پاکستانیوں کیلئے عید سے بھی زیادہ خوشی کا دن ہوتا ہے اورہم دیار غیرمیں بسنے والے پاکستانی ہمیشہ اپنے وطن سے کسی خیر کی خبرسُننے کے متمنی رہتے ہیں ابھی سانحہ بیلجیم میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی معصوم جانوں کے ضیائع کے زخم ذہنوں سے نہیں مٹ پائے تھے کے وطن عزیز میں ایک قیامت صغرا  برپا ہو گئی جس کے غم میں ہر پاکستانی خون کے آنسو بہا رہا ہے۔اس سانحہ سے ہر محب وطن کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ دشمن اور اُسکے زر خرید ایجنٹ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کیلئے بد سے بد تر سفاکی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں کیونکہ دشمن نے ابھی تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ ہر خوشی کے موقع پر بزدلانہ منصوبوں اور کاروائیوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی تگ و دو میں مصروف رہتا ہے تقریب پرچم کُشائی میں بھی کمرشل قونصلر فرانکفررٹ جرمنی جناب رضوان طارق اور ڈرایکٹر جناب فواد بھٹی نے فرداََ فرداََ سانحہ بیلجیم پر آفسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس دہشت گردی کی پُر زور الفاظ میں مذمت کی، اور قاری محمد صدیق نے بھی تلاوت قرآن کرتے ہوئے جن آیات مبارکہ کا انتحاب کیااُن میں کسی ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے اوراسلام ایسے درندہ صفت دہشت گردوں کو سخت اور عبرتناک سزاؤں کا حکم دیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کیلئے ۳۲ مارچ کا دن بہت مبارک اور یوم تشکر ہے کیونکہ آزادی اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جسکی قدر و قیمت وہ قومیں یا افراد ہی جان سکتے ہیں جن کے گلے میں غلامی کا طوق ڈال دیا گیا ہے یا پھراسکی اہمیت اور قدر ومنزلت کشمیریوں اور فلسطینیوں سے پوچھیں جو کئی دہائیوں سے بھارت اور اسرائیل کے تسلط میں ظُلم وبربریت اور درندگی کے سمندر میں اپنی آزادی کی تحریک کے سفینے کو کنارے لگانے کی جد وجہد میں لاکھوں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں اور پھر وطن عزیز پاکستان ہمیں یونہی جہیز میں نہیں ملا تھا اس کے حصول کیلئے باقاعدہ ایک تحریک نے جنم لیا تھا،یہ وطن شاعر مشرق علامہ اقبال کے اُن خوابوں کی تعبیر ہے جو اُنہوں نے کئی دہائیاں پیشتر ایک آزاد ریاست کی صورت میں دیکھے تھے جبکہ گاندھی جی اوراُنکے جی حضوری ہندو راہنما اورکچھ کانگرس کے مسلم راہنمااسے خیال ِ باطل تصور کرتے تھے اور اکھنڈ بھارت کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے۔مگر جب قائداعظم نے گاندھی جی اور ہندو راہنماؤں کی فریب کاری اورنیت کو بھانپ کر دو قومی نظریہ پیش کیا تو ہندو راہنماؤں کو سانپ سونگھ گیا۔ ہمیں ۳۲ مارچ کے دن سے اس لئے بھی بہت لگاؤ اور محبت ہے کہ اسی روز یعنی ۳۲ مارچ۰۴۹۱ کو قائداعظم نے منٹوپارک لاہور میں خطاب کرتے ہوئے بانگ دہل کہا تھا کہ گاندھی جی آپ کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کہ کانگرس ایک ہندو جماعت ہے اور وہ ہندوؤں کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ میں یہ کہنے میں قطعاََ شرم محسوس نہیں کرتا کہ مسلم لیگ ایک مسلمانوں کی جماعت ہے اور میں مسلمانوں کی قیادت کر رہا ہوں،قائداعظم نے بر وقت ہندو بنیوں کی فریب کاری کو بھانپ لیا تھا اور قائد وہی ہوتا ہے جو صیحح وقت پر درست فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو او ر ہمارے قائد اس امتحان میں پورے اُترے تھے جبکہ گاندھی جی نے اُنہیں اس مطالبے سے دستبرداری کے عوض میں مشترکہ ہندوستان کے وزیراعظم بننے کی بھی پیشکش کی تھی مگر اُنہوں نے ہندو راہنماؤں کے تمام تر فریبی حربوں کو ٹھکڑا دیا اور مسلمانوں کیلئے علیحدہ ریاست پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئے آزاد ریاست پاکستان کوئی آسانی سے وجود میں نہیں آئی اسکی آزادی میں قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے علاوہ لاکھوں جانوں کا خون بھی شامل ہے جنکی معصوم جانوں سے خون کی ہَولی کھیلی گئی تھی لیکن دشمن آج بھی مختلف ہتھکنڈوں سے پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے جسکی تازہ مثال بھارت کے ایک حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادیو کی ہے جس نے گرفتار ہوتے ہی بلوچستان،کراچی اور بہت  سے دوسرے مقامات پر اپنی سفاکی او بربریت کی کاروائیوں اور سازشوں کا اعتراف کیا ہے یہ ہمارے حساس اداروں کی بہترین کارکردگی اور کامیابی کا مُنہ بولتا ثبوت ہے دوسری جانب ہمارے خادم اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی کارکردگی کی گڈ گورنس کا اندازہ گلشن پارک لاہور میں دہشت گردی سے لگایا جا سکتا ہے جو پنجاب حکومت کی نا اہلی  اور سکیوڑٹی لیپس کا واضیح ثبوت ہے۔