حمام نگوں کا

ashraf
دستک

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
حمام نگوں کا

۔۔۔۔۔،ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے،۔۔۔۔۔،انجامِ گلستاں کیا ہو گا،۔۔۔۔۔،
حقیقی اور دائمی بادشاہت تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے وہی جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت،جس کوچاہے ملک کی حکومت عطاء کر دے۔ اور جب اورجس وقت چاہے حکومت چھین لے،کتاب خدا میں نمرود اور فرعون کا عبرتناک قِصہ بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے وہ خدا ہی ہے جس نے ایک حقیر مچھر کے ذریعے نمرود جیسے خدائی کے دعویدار کا دماغ ٹھکانے لگایا تھا اورطاقت کے نشے میں بد مست فرعون کو غرق دریا کر کے جعلی خداوں کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی صورت حال بھی نمرود اور فرعون سے مختلف نہیں جو اقتدار کے نشے میں بد مست عوام کا خون چوس رہے ہیں اپنی دولت اور کاروبار دیار غیر میں رکھتے ہیں اور دوسروں کو وطن عزیز میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں اس دوغلی منافقت کو خدا بھی دیکھ رہا ہے پھریہ توطے ہے کہ ہر نفس کو ایک نہ ایک دن خدا کے حضور پیش ہوکر اپنے اعمال کا حساب دیناہے یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی کے اعمال کا حساب فوراََ ہو جاتا ہے اور کسی کے اعمال کے حساب میں اللہ تعالیٰ تاخیر کرکے اُسے سُدرھنے کا موقع فراہم کرتا ہے،ہمارے وزیراعظم کو بھی اللہ تعالیٰ نے تین بار اس اس مظلوم کشورِ خداداد اورپاکستانی قوم کے مقدر کا وارث بنا کر موقع فراہم کیا مگر وہ قوم کی اُمنگوں پر پورا اُترے اور نہ ہی قوم سے کئے گئے وعدے پورے کر سکے، وہ جو کہتے ہیں کہ،۔۔خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔پاناما لیکس کے انکشافات بھی حکمرانوں پر عذاب الہی ہی بن کرنازل ہوئے ہیں جس نے دنیا بھر کے بدعنوان حکمرانوں،تاجروں اور منافعہ خوروں کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور اُنکی ناجائز ذرائع سے چھپائی گئی دولت کو بے نقاب کرکے تہلکہ مچا دیا ہے جسکی وجہ سے کئی ملکوں کے حکمرانوں کو تو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں،مگراسے بد قسمتی کہیں یا خوش قسمتی تصور کیا جائے یہ یقینا ایک۔۔ مسلہ فیثا غورث ہے۔۔جس کا حل کرنا میری نظر میں ناممکن ہی نہیں بہت مشکل ہے۔کیونکہ جس۔حمام۔میں شنان کرنے والوں کا قوم احتساب کرنا چاہتی ہے اُس حمام میں تو سب کے سب ہی نگے ہیں۔پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ ان بدعنوانوں کا احتساب کرئے گاکون، اس موقع پر مجھے خلیفہ سوئم حضرت عثمان بن عفان کے دور کا واقعہ یاد آ رہا ہے کہ جب گورنر کوفہ ولید بن عُتبہ نے شراب میں بد مست ہو کر نماز فجر دو کی بجائے چار رکعات پڑھا دی تو اُسے اسی کوڑوں کی سزا دی گئی تو اُس نے اس موقع پر ایک تاریخی جملہ کہا کہ۔۔ اُسے بس وہی شخص کوڑے مار سکتا ہے جس نے زندگی میں کبھی شراب نہ پی ہو پھر حضرت علیؑ نے آگے بڑھکر اُسے کوڑے لگائے۔وطن عزیز میں بھی چند ایک افراد کو چھوڑ کر سارے کا سارا معاشرہ ہی بدعنوانیوں کی گنگا میں شنان کر رہا ہے تو ایسے میں کون ایسے فرسودہ نظام کے ہوتے ہوئے کسی انصاف کی توقع کر سکتا ہے۔ جس پاکیزہ نعرے کی بنا پر پاکستان معرض وجود میں آیا تھا اُس کا تقاضا تھاکہ ملک کا۔نظام عدل۔ بھی پاکیزہ ہوتا جہاں ہر کسی کو بلا تفریق انصاف مِلتا۔ ہمارے قومی شاعر اور مفکر علامہ اقبال نے یہ شعر غالباََ ہمارے ہی لئے کہا تھا کہ،۔مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے،۔من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکے،۔یہ بات اپنی جگہ ایک حققت ہے کہ کشورِ خدا داد پاکستان قائداعظم محمدؑ علیؑ جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور حالصاََ،۔لاالہ۔ کے پُر جوش نعرے اورایمانی قوت اور جوش و جذبہ کی تحریک کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔اور یہ جملہ بھی اکثر ہماری زبانوں پر رواں رہتا ہے،کہ گنجے کو خدا ناخن نہ دے۔علامہ اقبال کا متذکرہ شعر اور گنجے کے ناحُن والا جملہ دونوں ہی پاکستانی قوم پر صادق آتے ہیں ہم اپنی قوت ایمانی اور جوش و جذبہ کے بل بوتے پر پاکستان حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن گنجے کے ناخُن اپنا سر کھرچنے سے گریز نہ کر سکے جس کے نتیجے میں ہمیں جلد ہی اپنے ایک بازو سے محروم ہونا پڑا۔ہم اس لحاظ سے تو بد قسمت قوم ہیں کہ قائداعظم کے بعد ہمیں ایسی قیادت میسر نہ آسکی جو اس نوزئیدہ ریاست کی کشتی کو ساحل پر لگانے میں اہم کردار ادا کرتی۔اگر کافی عرصے کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں ایک ذہین اور شاطر قیادت میسر آئی جس نے بھارتی سازشوں کا مُنہ توڑ جواب دینے اور وطن عزیز کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے۔۔گھاس کھا کر گذرا کرکے۔۔ ایٹم بم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اورایٹم بم بنانے کے کام کی بنیاد رکھی جس پر ناگ دیوتا امریکہ،اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پاکستان کی مخالف قوتیں اُسکی جان کی دشمن بن گئیں اور اُنہوں نے اس مقصد کے حصول کیلئے ایک ایسے آمر کا انتحاب کیا جو ان سازشی قوتوں کا آلہ کار بن گیا۔اور انکے ہاتھوں کا کھلونابن گیا اور اُنکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اُس نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو تخت دار پر لٹکا کر ہی دم لیااور خود بھی اُنہیں قوتوں کی سازشوں کا شکار بن گیا جن کا وہ آلہ کا ربنا ہوا تھا مگر شہید بھٹو۔جس کی بدولت پاکستان ایٹمی قوت بن کر ناقابل تسخیر بنا ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا۔۔اِن دنوں وطن عزیز میں پاناما لیکس کے حوالے سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں اختساب اختساب کا بہت شور اُٹھا ہوا ہے اس سلسلے میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیاں کئی بے نتیجہ نشستیں ہو چکی ہیں لیکن اونٹ کسی کڑوٹ بیٹھتا نظرنہیں آ رہا کیونکہ حکومت اس اچانک رونما ہونے والے سکینڈل کو مختلف تاخیری حربے اختیار کر کے دبا نا چاہتی ہے اور اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنا چاہتی ہے جبکہ حزب اختلاف کی تمام اتحادی جماعتوں کا موقف ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے دو بار قوم سے خطاب کے دوران اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا تھا پھر اب وہ احتساب سے کیوں پہلو تہی کر رہے ہیں اگر اُن کا دامن صاف ہے تو اس مسئلے کے حل کیلئے ضروری ہے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا آغاز وزیراعظم اور اُنکے خاندان سے شروع کیا جائے اس کے بعد تمام اُن افراد کا جنکے نام پانامالیکس میں آئے ہیں یا جہنوں نے اپنے قرضے معاف کرائے ہیں کا بھی احتساب کیا جائے مگر یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی کیونکہ حکومت وزیراعظم کے احتساب سے پہلو تہی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور حزب اختلاف ہر صورت میں وزیراعظم کا سب سے پہلے احتساب چاہتی ہے،اسی بحث وتکرار میں گاڑی نکل جائے گی اور۔ بات ختم۔پیسہ ہضم۔ غالباََ شاعر جس کانام یاد نہیں یہ کہنا درست ہی ہے،۔
۔۔ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،انجامِ گلستاں کیا ہو گا ۔۔