دستک

ashraf

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی

کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟

ایک طرف ہمارے آرمی چیف جناب راحیل شریف کے تسلی بخش بیانات ہیں جن سے دل کو سکون ملتا ہے کہ ملک سے مکمل طور پر دہشت گردی۔غنڈہ گردی۔اغوا برائے تعاون۔رسہ گیری۔قتل و غارت۔چوری۔ڈاکہ زنی اور سب سے بڑھکر لوٹ گھسوٹ اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور ہر کسی کو بلا امتیاز برابری کی بنا پر عدل وانصاف ملے گا اور وہ بار بار یہ بھی اعلان کر چکے ہیں کے بغیر کسی امتیازی سلوک کے اپریشن ضرب عضب دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا اور اُنکا یہ بھی ارشاد ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایک مکتب فکر کی قیادت نے لگ بھگ دو ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے لیکن ابھی تک نہ تو حکومت کے کسی کارندے نے اور نہ ہی فوجی قیادت نے اُن سے رابطہ کر کے اُن کے زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش کی ہے جبکہ دوسری جانب سہولت کار نہ صرف حفیہ طور پر دہشت گردوں کو مالی آمداد فراہم کر رہے ہیں بلکہ اعلانیہ ایسے مدارس کو مالی آ مداد بھی فراہم کر رہے جہاں سے طالبان یا داعش جیسی تنظمیں جنم لیتی ہیں اُسکی تازہ مثال پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان کی ہے جہنوں نے خیبر پختونخوا کے ایک ایسے مدرسے کو تیس کڑور روپے کی خطیر رقم دینے کا اعلان کرکے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔پھر محمود خاں اچکزئی جیسے سیاستدان بھی ہیں جو اقدار کے مزے بھی یہاں لوٹتے ہیں اور کھاتے بھی پاکستان کا ہیں مگر آواز پاکستان کے دشمنوں کیلئے اُٹھاتے ہیں جیسے کے افغانیوں کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں خیبر پختونخوا ہی کو افغانیوں کا حصہ قرار دے دیا تھا کیا ایسے آستین کے سانپوں کے سر نہیں کچلنے چاہییں؟۔کیا ایسے بہروپیوں پر آرٹیکل ۶ لاگو نہیں ہوتی؟۔کیا اس کے خلاف آرٹیکل ۶ کے تحت فوری طور پر مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے؟سابق آرمی چیف اور سابق صدر پاکستان جناب پرویز مشرف کے خلاف تو حکومت نے بہت پُھرتی دکھاتے ہوئے اُنکے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کر دی تھی مگر ایساسیاستدان جو اعلانیہ اپنی سر زمین کو غیروں کا حصہ قرار دے حکومتی خاموشی چہ معنی؟ کیا وجہ ہے کہ نہ تو حکومت نے اُس کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی کی ہے اور نہ ہی عوام کے ہردلعزیز اور محبوب آرمی چیف جناب راحیل شریف نے اُسکے بیان کا کوئی نوٹس لیا ہے دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے بد ترین حالات میں بھی تیس لاکھ افغانیوں کا بوجھ اپنے سر پہ اُٹھائے رکھا اورصلے میں اُنہوں نے دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر ہماری ہی پشت میں چُھرا گھونپ دیا۔کچھ شرم ہوتی ہے۔کچھ حیا ہوتی ہے۔ اپریشن ضرب عضب سے پہلے تو جناب عمران خان بھی مسلم لیگ ن کی طرح طالبان سے مذاکرات کے زبردست حامی کے طور پرنمایاں تھے لیکن جب افواج پاکستان نے اس اپریشن کو عملی طور پر شروع کیا اور وطن عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ارادہ کر لیا تو پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کو بھی مجبوراََ افواج پاکستان کا ہمنوا ہونا پڑا مگر ان کے دل میں طالبان کیلئے نرم گوشہ ہمیشہ موجود رہا جس کا نمایاں ثبوت پاکستاان تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان کا مدرسہ حقانیہ کو تیس کڑور کی خطیر رقم دینے کا اعلان ہے جبکہ اس مدرسے کی شہرت جہادیوں کو تربیت دینے کی ہے اس سلسلے میں سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کون نہیں جانتا کہ مولانا سمیع الحق نہ صرف طالبان سے قربت رکھتے ہیں بلکہ اُنکے ترجمان بھی ہیں اُنہوں نے اس اقدام پر سخت مایوسی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ عمل عسکریت پسندی اورطالبان کو جواز فراہم کرنے کے مُترادف ہے۔سابق صدر کے ترجمان سینٹر جناب فرحت اللہ بابر نے مزید وصاحت کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کو عوام کی خطیر رقم ایک ایسے نجی مدرسے کو دی جانے کی تشویش ہے جو اچھی شہرت کا حامل نہیں۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وطن عزیز کے سیاستدانوں نے بھی ناگ دیوتا امریکہ کی تقلید میں دوہرا معیار آخر کیوں اپنا رکھا ہے اور کیوں ہر بار وہ درگٹ کی طرح رنگ بدل کر عوام کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں امریکہ کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے تمام حدیں عبور کر جاتا ہے اور اُس سے کسی وفا کی توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے تب سے امریکہ کا اتحادی رہا ہے بلکہ اپنے ہمسائے روس کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑتا رہا اور افغانستان سے روس کی کی فوجوں کا انخلابھی پاکستان کی طفیل ہی ممکن ہوا مگر جب پاکستان پر مشکل وقت آیا تو اُسے اکیلا چھوڑ کر ازلی دشمن بھارت سے پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔ اس وقت پاکستان چاروں جانب سے خطرات میں گیرا ہوا ہے اور افواج پاکستان جس طرح ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں قوم کو اُن پر فخر ہے اور عقلمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جناب عمران خان تیس کڑور کی یہ کثیر رقم اُن ساٹھ ہزار شہیدوں کے یتیم بچوں اور اُنکی بیواؤں کو دان کرتے جس سے خدا اور رسولﷺ بھی راضی ہوتے اس سلسلے میں جناب عمران خان کے اس اقدام کو عوامی حلقوں نے سخت ناپسند کیا ہے ہم اس موقع پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو وطن عزیز کی سلامتی اور دفاع کیلئے اورملک سے دہشت گردوں کے مکمل خاتمہ کیلئے پُر عزم ہیں اور توقع کرتے ہیں وطن عزیز سے ایسی کالی بھیڑوں کا بھی احتساب کریں جو کھاتے پاکستان کا ہیں مگر زبان دشمن کی بولتے ہیں۔