دستک

ashraf

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی

خادمِ انسانیت

 

بعض شخصیتوں کو ربِ غفار خلق ہی اس مقصد کے لئے کرتا ہے کہ وہ انسانیت کی بھلائی کیلئے خدمت انجام دے سکیں ایسے انسان ہی لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن جاتے ہیں اور عوام کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں اگرچہ وہ کوئی پیغمبر،حجتِ خدا یا ولی اللہ نہیں ہوتے مگر وہ خلق خدا کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کر کے خالق کائنات کے منظور نظر بن جاتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتے ہیں اور قوم بھی ایسے انسانوں کو آنکھوں کا نور اور سر کا تاج مانتی ہے اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو فقیری کے لبادہ میں بھی حقیقی بے تاج بادشاہ کہلاتے ہیں۔ملک بھر میں جناب عبدالستار ایدھی مرحوم کے جنازے سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کا حقیقی بادشاہ کون ہے۔ایک طرف ہمارے حکمران اور ایسے سیاستدان ہیں جو عوام کی دولت ملک سے لوٹ کر بیرون ملک جا کر عیاشی کرتے ہیں دوسری جانب ایک مزدور جو سڑکوں پر بھیک مانگ کر اپنے غریب بھائیوں کی آمداد کیلئے ایک ایسا فلاحی ادارہ تشکیل دیتا ہے جو دکھی انسانیت کی آمداد کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے جب کوئی انسان کسی کے ساتھ نیکی اور احسان کرتا ہے تو دو طرح کا رد عمل ظاہر ہو سکتا ہے بعض افراد تو ایسے ہوتے ہیں جو کام کے ہو جانے کے بعد سمجھتے ہیں کہ اب احسان کرنے والے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی اور اپنے محسن کی پروا نہیں کرتے ایسے افراد کو احسان فراموش اور ناشکرے جیسے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے لیکن بعض افراد اپنے محسن کے احسانوں کو تا ابد فراموش نہیں کرتے جناب عبدالستار ایدھی مرحوم نے جس طرح وسائل کی کمی کے باوجود بھی ایک عزم اور جذبے کے تحت اپنے مشن کو جاری رکھ کر ثابت کیا کہ خلوص نیت سے انسان بڑے سے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے جناب عبدالستار ایدھی بھی اُن انسانوں میں سے ایک تھے جن کی خلقت ہی خدا نے بلا تفریق انسانیت کی خدمت کیلئے کی تھی اور وہ اس مقصد میں کامیاب و کامران ہوئے اور انسانیت کیلئے ایک بہترین نمونہ ثابت ہوئے اورمرتے مرتے بھی ہمارے حکمرانوں۔سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو بھی درس ہدائت دے گئے کہ اگر ایک مزدور اپنے کم وسائل کے باوجود ایدھی فاونڈیشن جیسا عظیم ادارہ قائم کر کے دکھی انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے تو وہ مخیر حضرات جہنوں نے ناصرف پاکستان بلکہ بیروں ملک میں بھی دولت چھپا رکھی ہے اور اپنے بچوں کو بھی دیار غیر میں تعلیم دلاتے ہیں اور وطن عزیز کے ڈاکٹروں کو چھوڑ کر اپنے علاج کیلئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں مگر جناب ایدھی نے اس موقع پر بھی ثابت کر دیا کے وہ اپنے وطن سے کسقدر پیار کرتے ہیں کہ وہ باوجود ڈاکٹروں کے اصرار کے اپنا علاج بیرون ملک کرانے پر راضی نہیں ہوئے۔کاش کے ہمارے حکمران اور مخیر حضرات بھی آگے بڑھکر ایدھی فاونڈیشن جیسے غربا کی آمداد کے لئے ادارے قائم کرنے کا عزم کریں۔آج جسطرح لوگ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اس خادمِ انسانیت کے غم میں سوگوار ہیں اور اُنہیں داد تحسین پیش کر رہے ہیں یہ اُنکی خدمات کا اعتراف ہے۔ انہوں نے۱۵۹۱ سے مظلوم،یتیم اور بے سہارا لوگوں کی مدد اور اُنکی خدمت کا سفر شروع کیا تھا اور موت کی آخری ہچکی تک اُسے پورے عزم و استقلال جاری رکھتے ہوئے اپنے رب کے حضورپیش ہوگئے جیسے اُنکی وفات کی خبر ریلیز ہوئی عوام کا ازدہام اُنکے آخری دیدار کیلئے ایدھی ٹرسٹ پنچ گیا۔ اور خدا عادل و کریم ہے۔سورہ رحمٰن میں ارشاد رب العزت ہے۔کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے علاوہ اور کچھ ہے؟۔ذات باری تعالیٰ وہ ہے جو انسان تو انسان حیوانوں کو بھی خواہ وہ پلید اور نجس جانور ہی کیوں نہ ہوں اُنسے بھی نیک برتاؤکرنے کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا جیسا کے حدیث میں مروی ہے اور شیخ سعدی کہتے ہیں کہ بیابان میں ایک شخص نے ایک کُتے کو دیکھا جو شدتِ پیاس سے قریب المرگ تھا تو اُس نیک خصلت انسان نے اپنی ٹوپی کو ڈول بنایا اور اپنی پگڑی کو رسی کی طرح باندھا اور ہاتھ بڑھا کر اُس ناتواں کُتے کو پانی پلایا۔ اُس دور کے پیغمبر نے اُس۔ شخص کے حال کی خبر دی کہ خدا وند عالم نے اُس کے تمام گناہوں کو بخش دیا ہے اور خبردار کیا کہ ظالم اور ستمگر کو بھی غور وفکر کرکے صفا اوروفا کی عادت ڈالنی چاہیے کیونکہ جو خدا ایک کُتے کے ساتھ نیکی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا تو وہ کسی انسان سے بھلائی کے اجر کو کیسے ضائع کر سکتا ہے۔پھر رسولؑ اسلامﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص صبح کرے اور مسلمانوں کی خدمت کیلئے کمر نہ باندھے وہ مسلمان نہیں ہے۔یہ حدیث ہم مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سب کہاں کھڑے ہیں خدا ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔