دستک

ashraf
اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
اقوامِ متحدہ کہاں ہے

اِن دنوں جلتے اجڑتے کشمیر کے حوالے سے جو مناظر اخبارات،سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھائے جا رہے ہیں اُنہیں دیکھ کر شقی القلب انسانوں کے بھی دل لرز جاتے ہیں اور وہ خون کے آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتا۔مگر کتنی شرم کی بات ہے کہ شُتر مرغ کی طرح اقوام عالم نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں یا پھر ان سب کے ضمیر مُردہ ہو چکے ہیں یا اسکی وجہ وہ پرانی کہاوت ہو سکتی ہے کہ۔،جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس۔،والا اصول اکیسویں صدی کے ترقیاتی دور میں بھی جاری وساری رہے گا اور دنیا اپنی نظروں کے سامنے عدل وانصاف کے جنازے اُٹھتے دیکھتی رہے گی اور ان میں سے کوئی بھی مظلوموں کے خونِ نا حق بہائے جانے کیخلاف آواز تک اُٹھانے کی جُرات نہیں کر ے گا۔کیا دنیا بھر کی وہ تمام تنظمیں جو جانوروں تک کے تحفظ کیلئے متحرک رہتی ہیں انسانیت کے قتل عام پر اسقدر بے حسی اور بے رحمی کا مظاہرہ کرسکیں گی اورظلم وبربریت کودیکھ کربھی خاموش بیٹھی رہیں گی۔ یہ سب کچھ اس دور میں ہو رہا ہے جسے عوامی دور کہا جاتا ہے اور دنیا جمہوری نظام قائم کرنے کیلئے کوشاں ہے اور انسان ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے مگر بڑی طاقتوں کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ جن قوموں نے ریاستی دہشت گردی سے عوامی حقوق سلب کر رکھے ہیں وہاں اُنہیں حقوق دلوانے کی بھی ہمت نہیں دکھاتیں کیونکہ وہاں اُنکے مفادات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے کون نہیں جانتا کہ جس اصول کے تحت ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی سب سے پہلے اُس نام نہاد منصف نے ہی ایسی بددیانتی اور منافقت کا طریقہ اپنایا کہ دونوں قومیں بہترین ہمسائیوں کی طرح نہ رہ سکیں مقبوضہ کشمیر پربھارتی جارحیت کو اب ۸۶ سال ہونے کو ہیں اس دوران بھارتی افواج نے کشمیریوں پر ظُلم و بربریت اور درندگی کی تمام حدیں عبور کر دیں ہیں اور ایک اندازے کے مطابق اب تک تقریباََ ایک لاکھ سے زاید کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کیلئے اقوامِ متحدہ میں قرار داد کو پاس ہوئے بھی ایک عرصہ گذر چکا ہے مگر اس ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور یہی حال فلسطین کا ہے جہاں اسرائیل نے اُنکی سر زمین پر زبردستی قبضہ جما رکھا ہے اور وہاں درندگی اور بربریت کی داستانیں سُن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقوام مُتحدہ اپنی فعالیت کھو چکی ہے یا پھر بڑی طاقتوں کی کٹھ پُتلی بن چکی ہے جو کمزور قوموں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا نہیں چاہتی اس وقت کشمیریوں پر بھارتی افواج کے ظُلم و ستم اور درندگی و بربریت کے خلاف جرمنی کے علاوہ دنیا بھر میں اختجاج جاری ہے اور اختجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں لیکن جو ادارہ بنایا ہی اس مقصد کے لئے گیا تھا کہ دنیا بھر میں رونما ہونے والی ناانصافیوں کو روکا جا سکے اور تمام تر فیصلے عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کئے جائیں تاکہ آمن و امان اور سکون کی فضا قائم رہ سکے مگر اس ادارے کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ جس معاملے میں بڑی طاقتوں کے مفادات پوشیدہ ہیں یا وہ براہِ راست اُس میں ملوث ہیں تو اقوامِ متحدہ بھی پورے جوش و جذبے سے عملی کردار ادا کرنا شروع کر دیتی ہے اورجہاں بڑی طاقتور قومیں اپنی دلچسپی ظاہر نہیں کرتیں وہاں اقوامِ متحدہ بھی سو جاتی ہے۔قارئین آپ نے دیکھا ہو گا جب ۹/۱۱ کاسانحہ پیش آیا تھا جہاں چند ہزار افراد ہی دہشت گردی کا شکار ہوئے تھے تو امریکہ نے بغیر کسی تحقیق کے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا اور اقوام متحدہ بھی فوری طور پر امریکہ کی ہمرکاب بن گئی تھی پھر امریکہ اور برطانیہ نے عراق میں بغیر کسی ثبوت اور تصدیق کے حملہ کر کے دس لاکھ سے زاید عراقیوں کے خون کی ہولی کھیلی۔ مگر اقوام متحدہ کا ادارہ خاموش تماشائی بنا ظُلم ہوتا دیکھتا رہا حتکہ عراق مکمل طور پر تباہ ہو گیا مگر اس ادارے کی رگِ عدل و انصاف نہ جاگ سکی۔دنیا اچھی طرح جانتی ہے شاید یہی وجہ ہے دہشت گردی کے ناسور میں تیزی بڑھتی ہی جا رہی ہے پہلے تو دہشت گردی افغانستان۔پاکستان۔بھارت اور مشرق وسطیٰ تک محدود تھی مگر اب یورپ بھی بُری طرح اس سرطان کی لپیٹ میں آچکا ہے اس وقت مقبوضہ کشمیر انتہائی سنجیدہ اور حساس مسئلہ ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں کی طرح پھٹ کر تباہی کی صورت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور انکے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں اگر مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ موجود ہے جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔