ایک سو سیشن مکمل ہونے کے موقع پر ایک بڑی تقریبمنعقد کی گئی۔
سٹاک ہوم(نمائندہ خصوصی) )سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کے تحت ماہانہ درس قرآن کا سلسلہ ڈاکٹر عارف محمودکسانہ کے گھر پر نومبر 2007 سے شروع ہوا اور ایک سو سیشن مکمل ہونے کے موقع پر ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی سید اعجاز حیدر بخاری تھے جو کہ برانڈبی ، کوپن ہیگن بلدیہ کے منتخب کونسلر ہیں اور ڈنمارک میں کئی برسوں سے قرآن کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں۔سویڈن میں پاکستان کے سفیرجناب طارق ضمیر نے اس باربرکت محفل کی صدارت کی اور ڈاکٹر عاف کسانہ نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے۔ عمار آصف بٹ کی تلاوت قرآن حکیم سے تقریب کا آغاز ہوا جبکہ کاشف فرخ نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ایشین اردو سوسائیٹی کے صدر اور معروف شاعر جمیل احسن نے قرآن حکیم کے حوالے سے اپنا کلام پیش کیا۔ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے بتایا کہ اس ماہانہ درس قرآن میں شرکت کیلئے دعوت عام دی جاتی ہے۔یہ درس قرآن 2007 سے لیکر آج تک جاری ہے۔ ان سیشن کا مقصد قرآن حکیم کو موضوعات کے اعتبار سے سمجھنے ، اپنے روزمرہ کے مسائل کا حل اُس کی روشنی میں تلاش کرنے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔ ہر سیشن میں ایک متعین موضوع کی تمام آیات کو لیا جاتا ہے متعلقہ مضمون سے مکمل آگاہی ہوسکے۔ اس کے ساتھ ہیصحیح احا دیث اور فکر اقبال کی روشنی میں مزید تفصیل پیش کی جاتی ہے۔ نو سالوں پر محیط ایک سو دروس قرآن کے حوالے سے پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے انہوں نے وہ تمام موضوعات سے شرکاء کو آگاہ کیا جن پر سیشن ہوچکے ہیں۔ زندگی کے ہر گوشہ اور شعبہ کے موضوعات پر دروس کی تفصیل جان کر حاضرین نے اس عظیم کام کو بہت سراہا۔ ڈاکٹر محسن سلیمی نے قرآن اور سائنس کے حوالے سے پریزینٹیشن پیش کی اور بتایا کہ جس حقائق کو سائنس آج دریافت کررہی ہے اُن کا ذکر کتاب مبین میں پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے فلکیات، بیک بینگ، ایمبریالوجی اور دیگر سائنسی تحقیقات کے حوالے سے قرآنی آیات پیش کیں اور کہا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل نے اس سلسلہ میں بہت سیشن انہی موضوعات پر کیئے ہیں۔ تیمور عزیز نے کہا کہ قرآن حکیم کو سمجھنا ، اس پر عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا ہم سب پر فرض ہے اورسٹاک ہوم سٹڈی سرکل یہ کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔ حارث محمود کسانہ نے سویڈش زبان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں دین کے بارے میں بہت سے سوالات ہوتے ہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ انہیں اسلام کی تعلیم اس نداز سے دی جائے تاکہ وہ مطمن ہوکر اپنے دین پر کاربند ہوسکیں۔ شفقت کھٹانہ ایڈووکیٹ نے بھی سویڈش میں خطاب کرتے ہوئے سٹڈی سرکل کی اہمیت اور اسلامی تاریخ میں فہم دین دین کے حوالے سے اس ضمن میں ہونے والے کام پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل وقت کے تقاضوں کے مطابق کام کررہا ہے۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے اسلامی اسکالر اور بہت سی کتب کے مصنف سید شوکت علی نے انگریزی زبان میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے قرآن حکیم کی تعلیمات کا اجمالی خاکہ پیش کیا اور تدبر قرآن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ روز اول سے سٹڈی سرکل کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے او ر ان کا قرآن کا فہم مزید واضح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارف کسانہ کے اہل خانہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے گھر میں یہ سلسلہ جاری کئے ہوئے ہیں۔سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین نے کہا کہ قرآن عمل پر زور دیتا ہے اور ہمیں بھی چاہیے ہم اپنے عمل اور کردار سے دنیا کے سامنے اچھی تصویر پیش کریں۔ سویڈن قیام کے دوران ہر درس قرآن میں شرکت کرنا باعث سعادت اور قرآن کو سمجھنے کا نادر موقع ہے۔ کونسلر برکت حسین نے کہا کہ قرآن کی ان محافل میں شرکت کرنے ان کے بہت سے سوالوں کے جواب ملے ہیں اور اسلام کے بارے میں کئی غلط فہمیوں اک ازالہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر سہیل اجمل نے قرآن حکیم کی تعلیمات اور عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالے سے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے کہ والدین کا عمل بچوں کے لئے بہترین تربیت ہے۔ قرآن حکمت اور سچائی ہے اور اہل علم اس پر غوروفکر کرکے عوام الناس کی بھی رہنمائی کرتے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سید اعجاز حیدر بخاری صاحب نے ایک 100 سیشن مکمل ہونے مبارک باد پیش کی اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ انہوں نے سٹڈی سرکل کے اراکین کے جذبہ، لگن اور قرآن حکیم سمجھنے کے لئے مسلسل کوشش کو بہت سراہا۔ انہوں نے سورہ محمد کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے ، کیا تمھارے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ قرآن حکیم ام الکتاب ہونے کی وجہ سے تمام علوم کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ انہوں نے تمام اظہار خیال کرنے والوں کو بہت سراہا اور کہا کہ مجھے اس تقریب میں شرکت کرکے بہت خوشی ہوئی ہے۔ سفیرپاکستان جناب طارق ضمیر نے صدارتی خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ قرآن حکیم پر غوروفکر اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش قابل تحسین ہے اور جس انداز میں یہ سلسلہ جاری ہے وہ ایک منفرد مثال ہے ۔ روایتی انداز سے ہٹ کر قرآن حکیم کا فہم اور روزمرہ کی زندگی میں اپنے مسائل کا تلاش کرنا دراصل تدبر قرآن ہے۔ شخصیات اور فرقہ واریت سے ہٹ کر اسلام کی تعلیمات کے فروغ کی یہ ایک اہم کوشش ہے۔نو سال سے مسلسل اس عظیم کام کو جاری رکھنے پر سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کے اراکین، عارف کسانہ اور اُن کے اہل خانہ مباک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ میں قرآن پر تحقیق کا بہت کام ہورہا ہے اور دنیا پر یہ سچائی ظاہر ہورہی ہے۔ انہوں نے تمام مقرین کو سراہا کہ انہوں نے بہت علمی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور یہ تقریب بہت سے حوالوں سے ممتاز ہے اور ہمیشہ یاد رہے گی۔ انہوں نے کہا اسلام کی تعلیمات کو اپنے عمل اور اخلاق سے دوسروں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل بہت اہم کرادر ادا کررہاہے اور مجھے جب بھی موقع ملتا ہے اس کے تحت ہونے والے درس قرآن میں شرکت کرتا ہوں۔ انہوں نے شرکاء کی تعریف کی انہوں نے اس طویل سیشنمیں بڑے سکون کے ساتھ شرکت کی اور تمام مقررین کو اطمینان سے سنا۔تقریب کے آخر میں عارف کسانہ نیتمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور سید شوکت علی نے اختتامی دعا کی۔ باجماعت نماز عصر کے بعد شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف کھانا پیش کیاگیا۔ تقریب میں سفارت کانہ پاکستان کے منسٹر عرفان احمداور سابق سفیر ڈاکٹر عبدالستار بابر بھی موجود تھے۔ تمام شرکاء نے اس تقریب کو بہت سراہا اور کہا کہ وہ آئندہ ہونے والے ماہانہ درس قرآن میں باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔ سٹڈی سرکل کی معلومات اس ویب سائیٹ سے مل سکتی ہیں http://www.ssc.n.nu/

IMG_8630 IMG_8629 IMG_8628 IMG_8627 IMG_8626 IMG_8625 IMG_8624 IMG_8623 IMG_8622 IMG_8613 IMG_8612 IMG_8632 IMG_8631 IMG_8635