دستک

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی

خرابی آخر کہاں ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جو دلچسپ بھی ہے اور ہر پاکستانی اس بارے میں سوچنے پر مجبور بھی ہے کہ ہم ایک محنتی،جفاکش،محب وطن اوربہترین اور اعلیٰ دماغوں سے لبریزایسے ملک کے باشندے ہیں جو قدرتی وسائل سے مالا مال بھی ہے مگر ہم اقوام عالم میں پسماندہ کیوں تصور کئے جاتے ہیں؟خرابی آخر کہاں ہے؟ اس کی ایک وجہ تو شاید یہ ہو سکتی ہے کہ قیام پاکستان سے قبل کچھ عناصر اور سیاسی جماعتیں ایسی بھی تھیں جو ریاست پاکستان کے قیام ہی کی سرے سے مخالف تھیں مگر قائداعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ جیسی اعلیٰ قیادت کے سامنے اُنکی دال نہ گل سکی اورکشور خداداد پاکستان جب ایک حققت بن کر دنیا کے نقشے پر ظاہر ہو گئی توابھی اس نوزائیدہ ریاست کو پوری طرح سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ ہمارے قائد ہمیں داغ مفارقت دے گئے تو اُن لوگوں نے بھی جو پاکستان کے قیام ہی کے مخالف تھے گِرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا اور اس ملک کی قیادت کے وارث بن بیٹھے اور اُنکا شمار پاکستان کے بڑے لیڈروں میں ہونے لگا مگر کردار اورگفتار کے اعتبار سے وہ آج بھی بھارت کی زبان بولتے ہیں اورپھر اُن میں سے ایک فریق ایسا بھی تھا جو رہتے پاکستان میں ہیں اور کھاتے بھی پاکستان کا ہیں مگر کردار میر جعفر اور میر صادق کا ادا کر رہے ہیں جو واقعتابکاؤ مال ثابت ہوئے ہیں اور وہ بھارتی خفیہ ایجنسی۔را۔کے لئے کام کرتے ہیں بلکہ وہ جس شاخ پر خود بیٹھے ہیں اُسے ہی کاٹ رہے ہیں مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔جناب الطاف کو جتنا عروج ملا تھا وہ شاید اُنہیں ہضم نہیں ہوسکا اوروہ بھی نمرود اورفرعون کی طرح متحدہ قومی محاذ کیلئے خدائی کے دعویدار بن بیٹھے مگر وہ یہ بھول گئے کہ خدا ایسے دعویداروں کا دماغ درست کرنے کیلئے ایک حقیر مچھر ہی کو کافی سمجھتا ہے یا پھر فرعون کی طرح غرق دریا کرکے نشان عبرت بنا دیتا ہے پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ۔گھر میں کوئی کَملا ہو تو اُسے سمجھائے۔ویہڑہ تے جئے ویہڑہ ہی کَملا ہووئے تے سمجھائے کیہڑا۔۔یعنی گھر میں کوئی نا سمجھ ہو تو اُسے خاندان اور محلے داروں کو سمجھانا چاہیے اگر سارے محلے کے لوگ ہی نا سمجھ ہوں تو اُنہیں خدا ہی ہدائت دے سکتا ہے۔متحدہ قومی محاذ کے قائد جناب الطاف حسین شاید منفرد راہنما ہیں جہنوں نے اپنی تقریروں کے بعد معافی مانگنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے وہ ایک دن پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی مالا جپتے ہیں اور دوسرے دن ہی وہ تردیدی بیان دیکر معافی کی درخواست ڈال کر پاکستانی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں اسطرح وہ ایک وقت میں محب وطن اور دشمن وطن کے سنگرام کی دلدل میں ایسے اُلجھتے ہیں کہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں کیلئے بھی مصیبت کا باعث بن جاتے ہیں اور خود تو لندن کی ٹھنڈی ہواوں سے لطف اندوزہوتے ہیں اور پاکستان میں اُس پنجابی کہاوت کی طرح کہ۔۔کھان پین نوں،پھاگ بھری تے دھون پنوان لئی جمعہ۔۔یعنی عیش و آرام کیلئے تو الطاف اور مصبتوں کا سامنا کرنے کیلئے پاکستان میں متحدہ کی رابطہ کمیٹی اور کارکُن رہ جاتے ہیں جو اپنے قائد کے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے رہتے ہیں چاہیے تو یہ تھا کے پاکستان میں موجود متحدہ کی اعلیٰ قیادت اپنے قائد کی حماقتوں کا فوری رد عمل ظاہر کرتی اور اُنکی بہودہ ہرزہ سرائی کا فوراََ نوٹس لیتی اور اُنہیں لگام ڈالنے کی کوشش کرتی مگر متحدہ نے ایسا کردار ادا نہیں کیا بلکہ اُن کے ہر بیان پر جھوم جھوم کر داد دیتی رہی جس کے نتیجے میں الطاف حسین اسقدر دیدہ دلیر ہو گئے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کیخلاف زہر اُگلنے لگے یقینا ایسے الفاظ بھارتی ایجنسی۔را۔نے ہی اُنکے مُنہ میں ڈالے ہونگے اب ہم سب دیکھ رہیں کے پاکستان میں متحدہ قومی محاذ کے راہنما جناب فاروق ستار اور انکے ساتھی بار بار لندن سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں مگر قوم پھر بھی اُنہیں شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ یہ ایک ٹوپی ڈرامہ ہے جو جناب فاروق ستار موجودہ تلخی کو ختم کرنے کیلئے رچا رہے ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ الطاف حسین کی مشاورت کے بغیر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اہم فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہو الطاف حسین نے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ایسی زبان استعمال کی ہے جس نے قوم کے دلوں پر زخم کر دئیے ہیں اور قوم ابھی تک ان زخموں کی تلخی کو دورنہیں کر پا رہی۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں اختجاجی ریلیاں نکال نکال کر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں گزشتہ روز بھی بلجیم میں پرویز اقبال لوہسر کی قیادت میں اختجاجی ریلی نکالی گئی اور ۷۱ ستمبر کو جرمنی میں بھی کشمیر میں بھارتی درندگی اور الطاف حسین کی ہرزہ سرائی کے خلاف زبرد ست اختجاج کیا جائے گا۔ اور اُنکے خلاف کاروائی کامطالبہ کیا جائے گا جرمنی میں موجود پاکستانیوں کی سیاسی،سماجی اور مذہبی تنظموں نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار الطاف حسین نے ایسا بیان دیا ہے کہ پاکستان کابچہ بچہ تلملا اُٹھا ہے بلکہ متحدہ کے اپنے کارکن بھی اس بیان کی مذمت کر رہے ہیں اس میں شک نہیں کہ متحدہ قومی محاذ ایک محب وطن قومی جماعت ہے اور ان کے آبا واجداد نے قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا ہے مگر الطاف حسین جیسے دشمن وطن افراد نے اس جماعت مشکوک بنا دیا ہے۔