سینچری کا سفر (حصہ اول) عارف محمود کسانہ سویڈن

arif-kasana
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صرف عقلِ انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتی بلکہ اسے رہنمائی کی ضرورت ہے جو وحی یعنی قرآنِ حکیم سے ہی مل سکتی ہے۔زندگی کے عملی مسائل اور مغربی معاشرہ میں قرآنی فکر سے رہنمائی کے لئے نومبر 2007 ء میں کچھ احباب نے سٹاک ہوم سٹڈی سرکل تشکیل دیا تاکہ قرآنِ حکیم کو سمجھ کر اور اس پر عمل کرتے ہوئے سفر زندگی اس کی روشنی میں طے کیا جائے۔ یہ بھی ایک حسین اتفاق ہے کہ اس عظیم کام کا آغاز پیامبر قرآن، حکیم لامت علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر ہوا۔ نو سال سے قرآن فہمی کا یہ سفر مسلسل جاری ہے اور ایک سو دروس کی تکمیل سے اہم سنگ میل عبور کیاہے ۔ سینچری کا یہ سفر علمی و دینی افکار کی رہنمائی میں جاری رہا۔ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کے تعارف اور طریقہ کار کی تفصیل سابق وفاقی وزیر جناب ڈاکٹر غلام حسین نے افکار تازہ میں یوں لکھی ہے کہ’’ عارف کسانہ فہم قرآن میں بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ قرآن فہمی میں ان کا علم و فضل کافی عمیق ہے اور پُر تحقیق ہے۔ کافی سالوں سے وہ اپنے گھر میں ماہانہ محفل قرآن باقاعدگی سے منعقد کرتے ہیں جس میں موضوع پہلے دیا جاتا ہے اور اس موضوع کو قرآنی حوالوں سے بیان کرتے ہیں اس دینی محفل میں پڑھے لکھے پاکستانی شوق سے شرکت کرتے ہیں۔محفل کا آغاز عارف کسانہ قرآنی آیات اور تفسیر کے ذریعے ٹی ویسکرین پر کمپیوٹر کے ذریعے بیان کرتے ہیں اور دوستوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں اورپھر سب حاضرین باری باری موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور بہت اچھے ماحول میں دو گھنٹے کی محفل میں ایمان تازہ کرنے اور قرآن فہمی کا موقع ملتاہے۔ مجلس کے اختتام پر High Tea سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔ ان محافل میں جو دوست باقاعدگی سے شمولیت کرتے ہیں وہ خود بھی صاحب علم و دانش ہوتے ہیں اور اکثر ہمارے پاکستان کے سفیر صاحب بھی تشریف لاتے ہیں۔پاکستان سے باہر ایسی دینی ، علمی محفلیں اﷲ تعالیٰ کا خاص انعام اور رحمت باری تعالیٰ ہیں کہ ہم لوگ سویڈن میں رہتے ہوئے بھی اپنے دین اور کلچر کے قریب تر رہتے ہیں اور دین اسلام کے بارے میں سیر حاصل معلومات میسر ہوتی ہیں۔ہر نشست کے بعداُس کی تفصیل ویب سائیٹwww.ssc.n.nu پر دی جاتی ہے اور ای میل کے ذریعہ دنیا بھر میں علم و دانش کے متلاشیوں کو بھیج دی جاتی ہے تاکہ وہ بھی فہم قرآن سے فیضیاب ہوسکیں۔اس ماہانہ مجلس میں دینی معاملات کے علاوہ فکر اقبال،سائنسی و تحقیقی موضوعات،سماجی معاملات، حالاتِ حاضرہ اورسیاسی امورپر بھی بحث ہوتی ہے اور صاحب علم دوست مختلف موضوعات پر اپنے مقالے بھی اس محفل میں پڑھتے ہیں اورپھر دیگر دوست اس پر تبصرہ کرتے ہیں‘‘۔
قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے تصریف آیات کا اصول اپنایا گیا ہے یعنی ہم قرآن حکیم کو مضامین کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک موضوع پر قرآن حکیم کی تمام آیات کو ایک نشست میں لیا جاتا ہے اوراس طرح سے متعلقہ موضوع کے بارے میں مکمل فہم حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اُن آیات کی مطابقت میں صحیح اور احسن احادیث مبارکہ بھی پیش کی جاتی ہیں۔ اسوہ حسنہ اور تاریخ اسلام میں اگر اُن کی بابت کچھ موجود ہو تو اُسے بھی شامل کیا جاتا ہے۔ متعلقہ موضوع کے بارے میں علوم جدیدہ اورفکرا قبال سے رہنمائی درس کا ایک اہم جزو ہوتا ہے ۔ زندگی کے عملی مسائل بھی موضوع میں لازمی زیر بحث آتے ہیں۔ سیشن کا دسرا حصہ راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن ہوتا ہے جس میں تمام شرکاء کو آزادانہ اظہارِ خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔ قرآن حکیم پر غور وفکر اورزندگی کے عملی مسائل کا حل تلاش کرنے میں سویڈن میں موجود برصغیر سے تعلق رکھنے والے اہل علم و دانش جن میں ڈاکٹر، انجنئیر ، ماہرین تعلم، سیاستدان، تاجر، طالب علم اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے احباب شرکت کرتے ہیں۔پاکستان کے علاوہ بھارت اور بنگلہ دیش کے صاحبان علم ودانش کا ایک حلقہ سٹاک وہم سٹڈی سرکل کی صورت میں قائم ہوگیا ہے جو دین کے حوالے سے فکری رہنمائی کرتا رہے گا ۔فرقہ واریت، شخصیات اور غیر ضروری بحث سے اجتناب کیا جاتاہے۔ ان محافل میں شرکت کرنے والے اپنے پس منظر میں مختلف مکاتب فکر رکھتے ہوں گے لیکن کبھی بھی فرقہ وارانہ بحث اور ماحول پیدا نہیں۔ جب قرآن کی دعوت دی جاتی ہے تو فرقوں کا کوئی تصور نہیں رہتا اور قرآن نے واضح کیا ہے کہ وہ اختلاف مٹاتا ہے۔ ہر ماہ مہینہ دو گھنٹے کی یہ محفل قرآن فہمی کے ساتھ فکر اقبال اور اردو کے فروغ کے لئے بھی کوشاں ہے۔۔ اردو ہم عصر ڈنمارک کی نائب مدیرہ ہمانصر نے اپنے ایک تحقیقی مقالے’’ سویڈن اور مسلمان‘‘ میں ہماری اس کوشش پر کچھ اس طرح سے تبصرہ کیا کہ ’’سٹاک ھولم اور اس کے مضافات میں اس سلسلے میں ڈاکٹر عارف کسانہ ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ہم وطنوں بلکہ سویڈش حلقوں میں بھی اپنی اسلامی دینی و رفاعی اور سماجی خدمات کی بنا پر قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عارف کسانہ دینی درس و تدریس کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو سویڈش سماج میں آگے بڑھانے کے لیے مختلف اجتماعات منعقد کرتے اور سویڈشوں کے ساتھ مشترکہ میل ملاپ کے مواقعے مہیا کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے حلقے میں ’’ قرآن فہمی ‘‘ اور مسلمان بچوں کی ’’ دینی تعلیم ‘‘ کا باقاعدہ ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور یہ حلقہ بتدریج وسیع ہوتا جا رہا ہے‘‘۔اردو نیٹ جاپان کے ایڈیٹر ناصر ناکا گاوا اپنے دورہ سویڈن کے دوران سٹڈی سرکل کی ایک نشست میں شریک ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں اپنے سفرنامے میں لکھا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کی ماہانہ نشست کا بنیادی مقصد قرآن کی روشنی میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرنا اور متعلقہ موضوع پر تبادلہ خیالات کرکے قرآن حکیم کی تعلیمات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ہے۔ یہ باعث مسرت ہے کہ تمام شرکاء وقت کی پابندی کا خیال رکھتے ہیں۔ نشست میں تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ اہم افراد شرکت کرتے ہیں۔ دو گھنٹے کی نشست میں قرآنی تعلیمات پر کھل کر تبادلہ خیالات ہوتا ہے ۔ قرآن حکیم کو محض برکت اور ثواب حاصل کرنے والی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ عملی زندگی کی رہنماء کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اس علمی نشست میں روایتی درس قرآن کی بنائے اہل علم ہمارے روزمرہ کے عملی اور زندہ مسائل کا حل قرآن حکیم کی روشنی میں تلاش کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور عالم اسلام کے حالات کو اگر دیکھا جائے تو سٹاک ہوم سٹڈی سرکل جیسی علمی و عملی تنظیموں کی اشد ضرورت ہے۔ میرے لئے یہ ایک اعزاز تھا کہ میں ایک نشست میں شامل ہوا جس میں شرکت کرکے مجھے بہت خوشی ہوئی اور میرے حوصلے بلند ہوئے۔ ( جاری)

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے