سینچری کا سفر (حصہ دوم ) عارف محمود کسانہ سویڈن
ان سو نشستوں میں ہم نے زندگی کے اہم اور زندہ مسائل کو لیا اور ہرایک موضوع پر نشست منعقد کی۔ موضوعات کی تفصیل سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دین کے ہر گوشہ اور عملی زندگی کے ہر موضوع کو لیا گیا ہے نشستوں میں لئے گئے موضوعات کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔ اسلام اور سیکولر ازم، حدود اللہ، حج اور قربانی، پردہ، تعدادِ ازواج، آدابِ معاشرت اور اخلاق، آخرت، قیامت، حیات بعد الموت، برزخ، حشر،عذاب و ثواب، اجتہاد، حلال و حرام، سود یعنی ربوٰ، صلوٰۃ یعنی نماز، صوم یعنی روزہ، قرآن کی معاشی تعلیمات، زکوٰۃ، تقدیر، عائلی زندگی، نکاح، طلاق،عدت، عذابِ قبر،ایصالِ ثواب، مغفرت، شریعت، علم و عقل،قرآن اور سائینس، تخلیقِ کائنات، تخلیقِ انسان، تخلیق آدام، ارتقا ، ابلیس، مومن، کردار، نبوت و رسالت، حضور قرآن کی روشنی میں، اسباب زوالِ اْمت اور حل، عورت قرآن کی روشنی میں، دْعا،عدل و انصاف، ظلم،توبہ، ختمِ نبوت، دہشت گردی، اھم قرآنی الفاظ اور اصطلاحات کے معنی اور مفہوم، حْرمتِ رسول، سائنس اور قرآن، ا،مور مملکت اور قرآن، سیرتِ رسولِ پاک سے میں نے کیا سیکھا جزا وسزا کا قرآنی قانون ، تصورِ الہ، ہدایت اور گمراہی، آیات متشبہات اور محکمات، حقوق انسانی، مذہبی آزادی اور اعتدال، جہاد، درود شریف کا مفہوم اور مقام رسالت، لین دین اور تجارت، ماحولیات اور قرآن، فساد فی الارض، فرقہ واریت، خواب قرآن و حدیث اور جدید سانسی تحقیقات کی روشنی میں، جھوٹ بولنا، خوف خدا، محبت الہی اور محبت رسولؐ ، تواہمات، انسان کے بارے میں قرآن نے کیا کہا، اسلام کیا ہے ، ہم میں عمل کی کیوں کمی ہے، قرآن حکیم اپنے بارے میں، حلم، عفو ، جہاد اور دہشت گردی، حریت آزادی ،شرک، روزہ کیوں فرض ہے، یورپ میں مقیم مسلمانوں کے مسائل اور قرآنی تعلیمات میں اْن کا حل،عبد کامفہوم، بگ بینگ، تخلیق کائنات اور قرآن، خدا نے کائنات کیوں بنائی،کائنات کیسے بنی، قرآن اور سائنس کی یکجائی،بدعت سے مراد، رسول اکرم ؐکی ولادت باسعادت، فضول خرچی، میل جول اور سلام کرنا، قوانین خداوندی،جہنم میں عوام اور لیڈروں کے مکالمے اور قرآن،روزے کا مقصد قرآن کی روشنی میں، فلسفہ تاریخ سورہ الشعراء کی روشنی میں،نزول قرآن اور خطبات اقبال، انداز گفتگو ، اور گھریلو زندگی۔ بہت سے احباب کی خوہش ہے کہ ان تمام موضوعات پر ہونی والی نشستوں میں پیش کئے جانے والے مواد پر مشتمل ایک کتاب شائع کی جائے جس سے وہ لوگ بھی استفادہ کرسکیں جو شرکت نہیں کرسکتے۔ یہ تجویز نہایت اہم ہے اور انشاء اللہ کوشش کریں گے کہ ان تمام دروس کو کتابی صورت میں پیش کیا جاسکے۔سٹاک ہوم سٹڈی سرکل ایک سو سیشن مکمل ہونے کے موقع پر ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں ڈاکٹر محسن سلیمی، جمیل احسن، حارث کسانہ ، شفقت کھٹانہ ایڈووکیٹ ، کونسلربرکت حسین، تیمور عزیز، سید شوکت علی،ڈاکٹر سہیل اجمل ، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین اور مہمان خصوصی کونسلرسید اعجاز حیدر بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل نے قرآنی تعلیمات کے فروغ میں عظیم کردار ادا کیا ہے اور اس کے تحت ہونے والے ہر درس سے ہمیں قرآن حکیم کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ فرقہ واریت سے بالا تر ہوکر مضامین کے اعتبار سے قرآن حکیم کو سمجھانے کا سلسلہ نو سال سے جاری ہے۔ درس قرآن کے ساتھ فکر اقبال سے آگاہی اضافی خوبی ہے۔ ان محافل میں شرکت کرنے ان کے بہت سے سوالوں کے جواب ملے ہیں اور اسلام کے بارے میں کئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ہے۔ سفیرپاکستان جناب طارق ضمیر نے صدارتی خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ قرآن حکیم پر غوروفکر اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش قابل تحسین ہے اور جس انداز میں یہ سلسلہ جاری ہے وہ ایک منفرد مثال ہے ۔ روایتی انداز سے ہٹ کر قرآن حکیم کا فہم اور روزمرہ کی زندگی میں اپنے مسائل کا تلاش کرنا قابل تحسین کوشش ہے اور یہ تقریب بہت سے حوالوں سے ممتاز ہے اور ہمیشہ یاد رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل بہت اہم کرادر ادا کررہاہے اور مجھے جب بھی موقع ملتا ہے اس کے تحت ہونے والے درس قرآن میں شرکت کرتا ہوں۔ انہوں بہت اہم بات کی کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت میں قرآن ہمارے حق یا مخالفت میں گواہی دے گا۔ اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہ کس طرح ہم اپنے حق میں گواہی لے سکتے ہیں۔ سٹڈی سرکل کے تحت مستقبل میں نوجوانوں اور خواتین کی تعلیم و تدریس اہم ترجیح ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے مصروف عمل رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں میں عشق رسول اکرمﷺکی شمع روشن ہو او ر ہم قرآن حکیم سے زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی لے کر اپنا سفر حیات طے کرتے جائیں اور ایک مرد مومن کی زندگی بسر کریں۔ ہم اپنے حصے کا کام کرتے جائیں کیونکہ
شکوہ ٗظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا– اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کلام اللہ انسانوں کے لیے زمان و مکاں کے ہر دور میں رہنمائی ہے۔ یہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ ہماری شاہراہ زندگی پر درست سمت میں سفر کے لیے ہمارا Navigator ہے۔ یہ کوئی عام خیال کے مطابق مذہبی کتاب نہیں بلکہ صحیفہ فطرت ہے جو انسان کو اْس کے مقام سے آشنا کرتی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسائل کو کتاب اللہ کی روشنی میں ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔کلام اللہ ہمارے پاس ہو بہو اسی شکل میں پہنچا جس طرح وحی الہی کے مطابق رسول اللہﷺنے اسے ترتیب دیا۔ یقین کامل، جہدِ مسلسل اور خلوص نیت سے فکری و ذہنی انقلاب ممکن ہے اور اللہ کی رحمت پر ایمان ہے کہ آنے والا کل انسانیت کے لیے بہتر ہوگا۔
ذرات کو سیمابی کردے گی سبک سیری –چھٹ جائے گی رستے کی تاریکی و بے نوری

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے