دستک

ashraf
اے آر اشرف

مولا جٹ کون نوری نت؟

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کے حکومت نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے جمہوری حق کو تسلیم کرلیا ہے اور اُنکے پُر امن راہونڈ اختجاجی مارچ میں کسی قسم کی مزاحمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے یقینا یہ ایک اچھا اقدام ہے جسے تحریک انصاف کے علاوہ سیاسی اور عوامی حلقوں نے سراہا ہے ورنہ کچھ روز پیشتر تک تو پاکستان مسلم لیگ ن کی ڈنڈا بردار جان نثار فورس جسطرح ٹی وی چینلوں پر ڈنڈوں۔گنڈاسوں سے لیس ہو کر ڈنڈ بیٹھکیں لگا لگا کر اپنی قوت کی تشہیر کر رہی تھیں اور جواب میں تحریک انصاف کی یوتھ فورس ڈنڈوں اور بلوں سے لیس ہو کر چھکے اور چُکے مارنے کی پریکٹس کر رہی تھیں تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم پنجابی فلم مولا جٹ۔دیکھ رہے ہیں بلکہ اس فلم کے چند ڈائیلاگوں نے بھی بہت شہرت پائی تھی۔جیسے۔نہا دھو کے۔تے۔باوضو۔ہو کے رہیا کر۔بوٹی بوٹی۔نوں غسل کون دے گا۔اور میں ٹبر دے ٹبر کھا کے وی ڈکاڑ نہیں مار دا۔ قارئین اگر آپ کو فلم۔مولا جٹ۔دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وطن عزیز میں آجکل حکومت اور تحریک انصاف کے مابین معرکہ آرائی کی نوعیت بھی بالکل۔فلم مولا جٹ۔کے دو اہم کرداروں۔مولا جٹ۔اور۔نوری نت۔ جیسی ہی نظر آئے گی مگر مجھے یہ فیصلہ کرنے میں تھوڑی دقت کا سامنا ہے اور میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ۔حکومت۔اور۔تحریک انصاف۔میں سے۔مولا جٹ۔کون ہے اور۔نوری نت۔کون بنے گاجہاں تک فلم کی کہانی کا تعلق ہے اُس میں۔مولا جٹ۔کو اچھائی کا علمبردار ظاہر کیا گیا ہے اور۔نوری نت۔کو بُرائی کا لیکن دونوں ہی طاقت کے نشے میں اسقدر مست دکھائے گئے ہیں کہ انسانی خون کی اُنکے ہاں کوئی اہمیت ہی نہیں فلم میں تو نوری نت لاشوں کے انبار لگا رہا ہے اور مولا جٹ بھی اپنے مخالفوں کی لاشوں پہ لاشیں گرا رہا ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ لاشیں چاہے مولا گرا رہا ہو یا پھر نت۔ ماری تو بیچاری عوام ہی جا تی ہے اگر سابقہ تاریخ کا تجزیہ کیا جائے توپنجاب حکومت کو تو ایک بار پہلے بھی ماڈل ٹاؤن لاہور میں عوامی تحریک کی چودہ لاشیں گرانے کا تجربہ بھی رکھتی ہے شاید اُسی سانحہ کی یاد دلانے کیلئے پنجاب حکومت کے ترجمان جناب زعمیم قادری نے اپنے مخالفوں کی ٹانگین توڑنے کی دھمکی بھی دی تھی بہرحال چوہدری نثار کی کوشش رنگ لائی ہے یا خادم اعلیٰ کی دانش کا کمال ہے یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ محاذ آرائی سے گریز کیا جائے ویسے بھی ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے ایک طرف ہماری پاک افواج نے دہشت گردی کے خلاف اپریشن۔ضرب عضب۔شروع کرکے کشور خداداد سے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کا عزم کر رکھا ہے اور اس ضمن میں پاک افواج کی ملک و قوم کے دفاع کیلئے بے مثال قربانیاں ہیں جسے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائے گا دوسری جانب ہمارا دائمی دشمن بھارت ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتاکشمیریوں کی حالیہ تحریک آزادی نے مودی سرکار کو پاگل بنا دیا ہے کہ بھارت کی سات لاکھ فوج تمام تر ظُلم و ستم۔ بربریت اور درندگی کے تمام تر حربے آزمانے کے باوجود بھی کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اورپنجابی کہاوت کی طرح۔ڈگی کھوتے توں۔تے۔غصہ کمہار تے۔بھارت اپنی تمام تر ناکامیوں کا الزام پاکستان کے سر تھونپ دیتا ہے ابھی حال ہی میں اُس نے بغیر کسی تحقیق کے اُڑی حملے کا الزام بھی پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی تھی اور مُنہ کی کھانی پڑی تھی ان حالات کے پیش نظر حکومت اور حزب اختلاف دونوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی بہت لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ معاملات کو سُلجھایا جاسکے جہاں تک پاناما لیکس کے انکشافات کا تعلق ہے صرف حزب اختلاف ہی نہیں اُسکی پوری پاکستانی قوم غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتی ہے اور اس دھاندلی میں جو بھی ملوث ہے اُسکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ہماری جناب عمران خان سے بھی عرض ہے کہ وہ سولو فلائی کرنے کی بجائے ساری اپوزیشن کی مشاورت سے فیصلے کریں اور کسی کے گھر کا محاصرہ کرنے والی بھڑکیں مارنا چھوڑ دیں اس سلسلے پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف قابل داد ہے کے اُنہوں نے کسی کے گھر کا محاصرہ کرنے کے عمل کی مخالفت کی ہے۔اب ۰۳ ستمبر بھی کچھ زیادہ دور نہیں دیکھتے ہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف میں سے۔مولا جٹ۔کون۔نوری نت۔بنے گا