دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
گُلو بٹ اِن جرمنی

نشہ دولت کا ہویا شراب کا،طاقت کا ہو یا اِقتدار کا جب حد سے تجاوز کر جائے تو مسائل کاسبب بنتا ہے۔ہم یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے گُلو بٹوں کا دائرہ کار صرف اور صرف پاکستان تک ہی محدود ہے جہاں وہ چودہ معصوم جانوں کا خون آسانی سے بہا کر بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکتے کیونکہ اقتدار کا ہما ہر وقت اُنکے سروں پر سایہ آفگن رہتا ہے مگر ہمارا یہ اندازہ خیال خام ہی ثابت ہوا کیونکہ چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے گُلو بٹوں نے پاکستان قونصلیٹ فرانکفرٹ کے سامنے اپنی ہی جماعت کے چیرمین چوہدری محمد شفیق پر حملہ کر کے اُسے لہو لہان کر کے یاد دلایا کہ شاہی آداب کو بھول کر۔کلمہ حق۔کہنا گستاخی اور شاہی آداب کی توہین تصور کیا جاتا ہے لہذا ائندہ زبان کھولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیا کریں اور تسلی کر لیا کریں کہ جس سے بات کر رہے ہیں وہ کوئی شاہی دربار ی تو نہیں ورنہ گلو بٹوں کی فوج جماعتی کارکن یا عام آدمی کا فرق بھول کر آداب شاہی سکھانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوتی ہیں اور یہی غلطی پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر جناب سلیم بٹ۔ جناب شبیرکھوکھر اور پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر جناب وجیع الحسن جعفری سے ہو گئی کہ وہ شاہی اجازت کے بغیر ہی چوہدری شفیق کو بچاتے بچاتے خود بھی گُلو بٹوں کے غضب کا شکار ہو کر زخمی ہو گئے اس دلخراش واقعہ کی تفصیلات یوں بیان کی جاتی ہیں کہ پاکستان قونصلیٹ فرانکفرت جرمنی میں بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی اور ظُلم و بربریت کے خلاف اختجاجی ریلی نکالنے کے سلسلے میں جرمنی کی تمام سیاسی اور مذہبی تنظموں کا اجلاس تھا جس میں بھارتی افواج کی دہشتگردی اور بے گناہ اورنہ ہتھے ایکصد پندرہ کشمیریوں کی شہادت کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی گئی اجلاس کے اختتام پر جب چوہدری محمد شفیق قونصلیٹ سے باہر نکلے تو پنجاب اسمبلی کے رکن رانا لیاقت علی کے ہمراہ آئے ہوئے گُلو بٹوں نے صرف اس بنا پر کہ وہ رانا لیاقت کے ساتھ تصویر نہیں بنوانا چاہتا تھا اُس پر حملہ کرکے اُسے شدید زخمی کر دیا اور پھر جرمن پولیس نے آکر سب کو گھیرے میں لے لیا اس موقع پر ہمارے قونصلر جنرل نے بھی اننتہائی سرد مہری اور بے حسی کا ثبوت دیا جبکہ پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر سید وجیع الحسن نے قونصلر جنرل جناب ندیم احمد کو بتایا کہ چوہدری محمد شفیق شدید زخمی ہو گئے ہیں اُنکی مرہم پٹی کا انتظام کیا جائے غالباََ وہ بھی شاید شاہی گُلو بٹوں سے خوف زدہ تھے اور اُنہوں اس معاملہ کو سُلجھانے کی بجائے مزید اُلجھا دیا اور جرمنی میں مقیم کیونٹی کے غیض وغضب کا نشانہ بنے اس سے پیشتر بھی قونصلر جنرل فرانکفرٹ کی دعوت پر کمیونٹی کی طرف سے بلائے گئے ایک اجلاس میں رانا لیاقت علی کے چھوٹے بھائی رانا طاہر نے نازیبا الفاظ استعمال کرکے اجلاس کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر سید وجیع الحسن جعفری کی دانش مندی اور برد باری سے تصادم کا خطرہ ٹل گیا۔اگر اُسی روز جناب قونصل جنرل میزبانی کا فرض ادا کرتے ہوئے مرتکب افراد کی قونصلیٹ میں داخلے پر پابندی کے احکام جاری کرتے تو شاید چوہدری شفیق پر حملہ کی نوبت نہ آتی اور نہ ہی۔اس غیض وغصہ کی بنا پر جرمنی کی تمام بڑی تنظموں کے چالیس نمائندگان کو پاکستان جرمن پریس کلب میں آ کر ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت پیش آتی اور نہ ہی پاکستان مسلم لیگ جرمنی کے نائب صدر جناب انجم چوہان کو اس گلو گردی کے خلاف اختجاجاََ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے اور نہ ہی پاکستانی کمیونٹی ۹۲ اکتوبر کو قونصلیٹ کے تحت کشمیربلیک ڈے کے اختجاج کا مکمل بائکاٹ کرنے کا اعلان کرتی۔ پریس کانفرنس اب فیصلہ کیا گیا کہ اگر قونصلیٹ سے اُنکے معاملات طے نہ پائے تو پاکستانی کمیونٹی۵ نومبر کو بھارتی قونصلیٹ کے سامنے اپنے طور پر زبردست اختجاجی مظاہرہ کرے گی دوسری جانب قونصلیٹ جنرل جناب ندیم احمد بھی اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے ہوئے کمیونٹی سے معافی مانگنا چاہتے تھے مگر کمیونٹی نے چند مطالبات کی منظوری تک معافی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اُنکے مندرجہ ذیل مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے قونصلیٹ کی تمام تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا ۱۔دونوں واقعات میں ملوث افراد کے قونصلیٹ کی حدود میں داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔۲ ایک پریس کانفرنس کر کے دونوں واقعات کی مذمت کی جائے۔۳قونصلیٹ میں ہونے والی کسی تقریب میں شرکت نہیں کی جائے گی البتہ میڈیا ارکان کو استشنیٰ حاصل ہو گا۔۴کشمیر بلیک ڈے کے اختجاج جو ۹۲ اکتوبر کو بھارتی قونصلیٹ کے سامنے ہونوالا ہے شرکت نہیں کرئے گی۔۵ مارکٹائی میں ملوث افراد کی نہ صرف نشاندہی کی جائے گی بلکہ حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ کو بھی رپورٹ کریں گے۔۶ قونصلیٹ سے مذکرات کیلئے ایک سات رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جن کے نام یہ ہیں۔۱۔سید سجاد حسین نقوی۔۲۔سید وجیع الحسن جعفری۔۳۔سید خرم شاہ۔۴۔راجہ امجد نواز۔۵۔چوہدری رفیق احمد۔۶۔شیخ منیر احمد۔۷۔جناب راسد نسیم میرزا۔