پاکستان جرمن پریس کلب 29اکتوبر کے احتجاج کی بھرپور کوریج کریں گے
کشمیر کاز کے لیے ماضی میں بھی پریس کلب اور رانا لیاقت ایک صف میں کھڑے تھے
فرینکفرٹ(شان پاکستان)پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر سلیم بٹ کے مطابق عرصہ دراز سے کشمیر کا ز کےلیے پاکستان جرمن پریس کوشاں رہااور رہے گا۔بیس سال تک جناب مظفر شیخ مرحوم کشمیر احتجاج کی روح رواں رہے ان کی رحلت کے بعد بھی نذر حسین نے اس مشن کو جاری رکھا اور رانا لیاقت کا تعاون ہمیں ہمیشہ میسر رہا۔اگر کسی کو گمان ہے کہ پریس کلب کے خلاف پروپگینڈا کر کے ہمارے درمیان دیوار کھڑی کر سکتا تو یہ اس کا صرف وہم ہی ہو سکتا ۔شاید اس نادان کو یہ نہیں پتا کہ پریس کلب نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور رانا لیاقت نے بھی پریس کلب اور کیونٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بہتر امیج کے دن رات ایک کیے ہیں ۔ یہاں بہت ضروری سمجھوں گا جب سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ ہوا اور پاکستان نے نیٹو کی سپلائی بند کی تو بہت سارے لیڈران نیٹو کے خلاف احتجاج کرنے سے بھاگ گئے تو تب پاکستان جرمن پریس کو رانا لیاقت نے ایک آواز کہا کہ پاکستان کے لیے جان بھی حاضر ہے۔فرینکفرٹ میں آندھی بارش اور طوفانی شام کو احتجاج کیا گیا جس میں کیمونٹی نے بھر شرکت کی۔اگلے دن بون میں اقوام متحدہ میں سیکیورٹی کانفرنس تھی یہاں دنیا کی سیکورڑئی زیر گفتگو آنی تھی ۔پاکستان نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔حکومت کی خواہش پر اتوار کے دن میں بوں گیا اور ہال میں داخلہ کے لیے سیکورٹی پریس کارڈ بنواےتو ہاکستان سے خواہش کی گئی کہ کانفرس کے اندر سوالات کیے جائیں اور باہر محب وطن پاکستانی نیٹو کے خلاف احتجاج کریں ۔رات گیارہ بجے میں نے رانا لیاقت کو کال کی اور حالات سے آگاہ کیا تو رانا لیاقت کے الفاظ میرے لیے کافی تھے کہ بٹ صاحب اپ اندر سنبھالیں باہر میں سنبھالتا ہوں اور آدھی رات فرینکفرٹ میں میٹنگ کے لیے چلے آئے ۔راشد غوری ، توقیر بٹر اوردیگر ساتھیوںکے باہمی تعاون سے اقوام متحدہ کے باہر احتجاج کیا گیا۔
مگر نادان دوست تاریخ کا مطالعہ کیے بغیر کوشش کرتا ہےکہ پریس کو اور رانا لیاقت کو الگ کرے تاکہ احتجاج فرینکفرٹ تک محدود ہو کر رہ جائے اس کی کوریج نہ ہو۔اور کشمیر کاز مقامی سطح پر ہی اپنی اہمیت کھو بیٹھے۔ تو میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کشمیر کے لئے ہمیں گالی بھی دی جائے تو بہت کم ہو گا کیونکہ ہم اس کاز پر جان قربان کرنے کی قسم کھائی ہے۔اور دنیا کے ایوان تک کشمیریوں کی آواز پہنچائیں گے۔
رہی بات پچھلے دنوں پیش آنے والے واقعات کی۔
ہوا کیا کہ میٹنگ کےبعد جب سب لو گ قونصلیٹ سے بار آگئے(جیسا کہ ساتھی صحافی افتخاراحمد لکھ چکے ہیں)مکمل قونصلیٹ سے باہر۔گیٹ سے باہر، تو رانا لیاقت نے کہا کہ چوہدری صاحب اکھٹے تصویر بنواتے ہیں،مگر چوہدری صاحب کا جواب تھا کہ مجھ جیسے منافق سے تصویر نہ بنوایں،تو رانا لیاقت کا کہتا تھا کہ ہم ٖآپ کی پہلے بھی عزت کرتے تھے آ بھی کرتے ہیں،اور آپ کی خدمات کو عزت دیتے ہیں،اسی تقرار میں رانا لیاقت نے کہا کہ ہمیں معاف کریں ہم نے سیکھا ہے کہ بڑوں کی عزت کی جائے،وہاں کھڑے نوجوان کو لگا کہ شاید کو جھگڑا ہو گیا،وہ چوہدری صاحب سے محاطب ہوا ،جس کا جواب چوہدری صاحب نے بھی سختی سے دیا،ہاتھاپائی ہو گئی۔
آپ سب کو پہلے ہی بتا چکا ہو کہ واقعہ کے فوری بعد میرے اور رانا لیاقت کے درمیاں بات ہوئی میں نے واقعہ کی مذمت کی جو رانا لیاقت نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا مجھے خود افسوس ہے کہ انجانے میں یہ کیسے ہو گیا۔جس کی لیے وہ افسودہ تھے۔جس دن میاں نواز شریف جرمنی آئے تو میں ان کے ساتھ موجود تھا جب میاں نواز شریف نے کہا کہ رانا صاحب اب آپ جرمنی کے صدر ہیں تو اسی وقت رانا لیاقت نے کہا۔۔ ۔۔۔۔۔میاں نواز شریف صاحب آپ کی امیدوں پر پروا اتروں گا انشاللہ۔۔۔۔۔اور پہلی فرصت میں پارٹی سے مشورہ کے بعد چوہدری شفیق کو پاکستان مسلم لیگ ن جرمنی کا چیئرمین مقرر کر دیا
اگر مجھے کہا جائے کہ رانا لیاقت نے جان بوجھ کر چوہدری شفیق پر حملہ کروایا تو مجھے یاد ہے وہ دن جب میاں نواز شریف نے آپ کو صدر بنایا تو رانا لیاقت نے سب پارٹی ارکان کی عزت کی خاطر کیا جواب دیا تھا،جب چوہدی شفیق بار بار ٹیلی فون کرنے پر بھی نہیں مل رہے تھے۔
واقعہ ہوا اور اس کے بعد پریس کلب میں میٹنگ ہوئی۔جو پہلے ڈورن بش میں رکھی گئی اور پریس کلب نے شرکت سے مکمل انکار کر دیا۔ پھر میٹنگ آفن باخ رکھنے کا کہا گیا کہ پریس کانفرنس کی جائے تو میں نے ان نہائت اسرار پر ایک گھنٹہ کی حامی بھری کہ صرف دو سے تین بجے تک جرمن وقت پر آوں گااور چلا جاوں گا۔ پھر کہانی بدلی میں چاہتا تھا کہ کیونٹی میں تلخیاں نہ بڑھیں اور سب کو بٹھا کر کچھ حل نکالا جائے۔مجھے خرم شاہ صاحب نےیقین دلایا گیا کہ میٹنگ میں سب اچھا کر دیا جائے گااس لیے میٹنک پریس کلب میں رکھی جائے۔کمرشل قونصلر رضوان طارق صاحب کی بھی کال آگئی کہ قونصلر جنرل صاحب بھی ماضی پر مٹی ڈال کر بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں ۔میں ان کو بھی ہاں کہا ۔کیونکہ مسلہ قونصلیٹ سے ہی حل ہوسکتاتھا اس سے مجھے امید بندھ گئی
میٹنگ کا آغاز ہوا تو مجھ سے کیے گئے وعدے ہوا میں اڑا دیے گئے۔ پریس کلب کے ممبران میرا منہ دیکھتے رہے،اور میں خرم شاہ ساحب کا منہ دیکھ رہا تھا کہ ہو کیا گیا اور میں نےممبران کو کیا بتایا تھااور ہو کیا رہا تھا۔۔
پرویز اختر نور صاحب نے ڈرتے ڈرتے صلح کی بات کی تو اس کے بدلے ان کو باقی میٹنگ میں خاموش بیٹھنا پڑا۔کشمیر کونسل کے فاروق صاحب نے بلیک ڈے کی اہمیت سے آگاہ کیاتو کہا گیا کہ 29 کو نہیں تو پانچ نومبر کو منا لیں گئے۔سوئے بچے کا منہ چومنے کا سوچ کر انہوں نے اپنی خواہش ہونٹوں کو کاٹتے ہوئے حلق سے اوپر نہیں آنے دی۔جبکہ حدیث سےبات کا آغاز کرتے ہوئے کہا یہ بھی تھاکہ اللہ کو وہ بندے بہت پسند ہیں جو دو ناراض بھائیوں میں صلح کرواتے ہیں۔۔۔۔۔
ان کی انکھوں کے سامنے اپنے جذبات کی تسکین کے لیے کشمیر بلیک ڈے کو دھکا دے کر اگلےمہینے کی پانچ تاریخ تک پہنچانے کا عہد کیا گیا۔یقیننا کشمیر کے اس بیٹے کی انکھوں میں انسو تو آئے ہوں گیے مگر سبھی انا کے نشے میں تھے جو نہ دیکھ سکے۔
جب سب کو کہا گیا کہ ہاتھ اٹھا کر ساتھ دینے کا وعدہ کیا جائے تو تبھی میزبان نے کہا( جس کی گواہی اسی کشمیر کے بیٹے نے دی کہ پاکستان جرمن پریس کلب نے کسی گروپ کا حصہ بنے سے انکار گردیا)کہ ہم کسی عہد کز پابند نہیں کہ کسی میٹنگ کا حصہ بنیں گے۔ ۔ ایک صاحب کی طرف سے کہا گیا کہ پریس کلب والے غدار ہیں تو میں نے کہا کہ پاکستان جرمن پریس کشمیر کے لیے ہر احتجاج کو کور کرے گا۔چاہے کچھ بھی سوچ لیں
جب کہا گیا کہ رانا لیاقت کا بائیکاٹ کیا جائے تو کہا کہ نوکر کیا اور کیا نخرہ۔جب ہم نز قسم کھائی ہے کہ کشمیریوں پر ہونے والے تمام مظالم کو دنیا کے سامنے لائیں گے تواس لیے ہم کسی کا بائیکاٹ نہیں کریں گے کیونکہ جب پاکستان کی بات ہو گی یا کشمیر تو ہمیں کور کرنا۔اور رانا لیاقت کے آج کے واقعہ کو جس کی رانا لیاقت نے خود مذمت کر دی ۔کیا رانا لیاقت کی ساری عمر کی خدمات کو فراموش کر دیا جائے۔۔
مجھے نہیں پتا رانا لیاقت یا اس کے لوگ کیا سوچتے ہیں مگر مجھے پتا کہ اس بندے نے پاکستان کے لیے میرا کتنا ساتھ دیا ۔اگر دوست سے غلطی ہو بھی جائے تو اس کی اصلاح کی جاتی ہےنہ کہ دوست کو چھوڑ دیا جاتا۔۔۔اور دوست بھی وہ جس نے ایم پی اے ہونے کے باوجود میری ایک کال پر اپنی ساری ٹیم کو پاکستان کی خدمت پر لگا دیا۔۔۔۔۔۔
جب اتنا لمبا لکھ ہی دیا تو تھوڑا سا اور پڑھ لیں
ذکر قونصل جنرل کا ۔۔ واقعے سے پہلے قونصلر جنرل سے ملاقات ہوئی تو اپ نے پوچھا کہ کیمونٹی کو کیا مسلہ ہے
میں نے دو الفظ کہا کہ آپ ہمیں چائے نہیں پوچھتے جب ہم قونصلیٹ آتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ ان کو شاید اس بات کی تب سمجھ نہیں آئی ہو گی۔مگر اب سمجھ گئے ہوں گے
کچھ مسائل تھے جو ہمارے ساتھی جرنلسٹ افتخار صاحب نے پیش کیے کہ دور دراز علاقوں سے آنے والوں کچھ مسائل ہیں۔مگر ان کو تو بولنے کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا ۔۔کیونکہ افتخارصاحب سمجھ بیٹھے کہ دور دراز سے آنے والے پاکستانیوں کو کمیونٹی کہا جاتا۔جبکہ اہل فرینکفرٹ تو قونصلیٹ کو اپنی باندی سمجھتے۔اس لیے وہ کسی اور کے مسائل پر وقت ضائع کر ،ہمیں گوارہ ہی نہیں۔
جب قونصلر جنرل قونصلیٹ میں تعینات کیےجاتے ہیں تو ایک اعلی حضرت کی طرف سے اعلان جہاد کیا جاتا کہ مخترم کا تعلق ایک مذہبی فرقہ سےہے ۔بات ہم تک پہنچی کہ صاحب جہاں وقت گزار کر آرہے ہیں ہم انُکو وہاں سے جانتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں تو کچھ مخترم ہمارے آفس آتے ہیں کہ ہم پاکستان کال کریں ہم تو مسجد کم ہی جاتے ہیں اس لیے ہماری زبان پر اہل ایمان کو یقین کہاں۔۔کال کی جاتی ہے تو بندہ کہتا کہ میں تین سال صاحب کے نیچے کام کرتا رہا ہوں۔۔ پوچھاجاتا کہ مخترم کس مسجد میں جمعہ پڑھتے تھے تیں بار ایک ہی سوال سے تنگ آکر جواب دیا جاتا کہ میں سید /شاہ اچھی طرح بتا رہا ہوں کہ ان کا تعلق کسی ایسے فرقے سے نہیں اور رہی بات کہ جمعہ کہاں پڑھتے ہیں تو میں نے سید ہونے کے باوجود کبھی جمعہ نہیں پٹھا تو ان کو کہاں دیکھوں گا
جی جس بندےپر آتے ہی الزامات کی بھرمار کر دی جائے وہ آپ سے فاصلہ تو رکھے گا۔سامنا ہو بھی جائے تو جلدی بات ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر ہم تو چائے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔۔کچھ بھائیوں کو اگر نہ پتا ہو تو بتا دوں قونصلر جنرل وزیر اعظم کا نمائندہ ہوتا۔یعنی جرمنی میں قونصلر جنرل ہی آپ کا وزیر اعظم ہوتا ہے۔اب مجھے شکا ئت ہے قونصلیٹ سے اور لکھتے ہوئے لکھ ڈالا کہ ندیم احمد ہم سے معافی مانگے ۔۔پریس کلب کا صدر تو ہو سکتا آپ کے سامنے جھک جائے مگر سلیم بٹ آپ کے سامنے کیوں جھکے۔
سب بھائیوں سے درخواست کروں گا سیاست چھوڑیں پاکستان کو اس وقت آپ کی بہت ضرورت ہے اس کے لئے ایک ہو جائیں ۔انا کی باتیں کرتے ہیں تو کشمیر میں شہید کیے جانے والے بھائیوں ۔ظلم و تشدد کی شکار بہنوں اور معصوم بچوں کے قتل کو اپنی انا کا مسلہ بنائیں۔بھارت کے بڑھتے ہوئے ظالم کو اپنی انا کا جز بنائیں ۔
جب رانا لیاقت مسلم لیگ ن اور توقیر بٹر تحریک انصاف پاکستان کی سیاست سے ہٹ کر اووسیز پاکستان کے لیے ایک پلیٹ فارم پر کشمیر کاز پر ایک ہیں تو باقی کیا رہ جاتا۔۔مت بولیں کہ رہ تو نام اللہ ہی جاتا ہےسب جاناہے
آخر میں شکر گزار ہوں گا ،اپنے سب کرم فرماوں کا کیا بات کا کیا سے کیا بنا دیا۔اللہ تبارک تعالی ہمیں ہدائیت دے کہ اشتہار نہ لگنے پر ہم کیمونٹی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔شکرگزار ہوں اپنے تمام صحافی بھائیوں کا جہنوں نے مشکل حالات میں بھی صبر کا دامن تھامے رکھا۔شکر گزار ہوں رانا لیاقت کا کہ آگ لگانے والوں کی پروا کیے بغیر مکمل رابطے میں رہے۔شکر گزار ہوں چوہدری شفیق کا کہ کسی بھی انتقامی کاروئی سے منع کرتے رہے۔