جس سے نیکی کرو۔اُس کے غضب سے ڈرو۔دستک

atta_ur_rehman_ashraf

حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول پوری انسانیت کو درس عبرت دیتا ہے،ہم اپنے برادر ملک افغانستان کے پینتیس لاکھ شہریوں کی جس محبت اور جذبہ ایمانی کے ساتھ کئی دہایوں تک میزبانی کرتے رہے ہیں اس کا صلہ افگانی صدر جناب اشرف غنی نے دشمن ملک بھارت کی گود میں بیٹھ کر ادا کر دیا ہے۔ سُنا تھا خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ تبدیل کرتا ہے یا پھر نریندر مودی کی ابلیس جیسی فکر کا اثر تھا کے جناب اشرف غنی کی سوچ پر بھی ابلیس غالب آ گیا تھا اور یہ بھی ایک اپنی جگہ پر تاریخی حققت ہے ہندو بنیا ہمیشہ دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ کے ہی وار کرتا ہے۔اور آجکل اُسے ہمارے اپنے برادر کا کندھا دستیاب ہو گیا ہے جیسے سقوط مشرکی پاکستان کے موقع پر بھارت کو شیخ مجیب الرحمان مل گیا تھااور اب بھارت نے جناب اشرف غنی کی سرکار کو کچھ ایسے سبز باغ دیکھائے ہیں کہ وہ بھی نریندر مودی کی ہی زبان بولنے لگے ہیں،کہاوت ہے کہ چور چوری تو چھوڑ سکتاہے مگر ہیرا پھیری وہ کبھی نہیں چھوڑتا پھر دنیا جانتی ہے کے جناب نریندر مودی کی گردن پر تو ہزار مسلمانوں کے خون ناحق کے داغ اب بھی نمایاں ہیں اور وہ وزیراعظم بھی تعصب اور مسلمان دشمنی کا کارڈ استعمال کرکے ہی بنے ہیں لیکن آفسوس اس بات کا ہے برادر ملک کے صدر سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسے شخص کے گرویدہ ہو جائیں گے جس سے کسی مسلمان کیلئے بھلائی کی اُمید رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مُترادف ہے جناب اشرف غنی کو بھی جلد احساس ہو جائے گا کہ اُن کے اپنے ہی برادر پر تیروں کی بارش کرنا اُن کے اپنے ملک اور قوم کے لئے بھی کتنا نقصان دہ ہے پھربھارتی وزیراعظم کا پاکستان آ کر جاتی امرا کا دورہ بھی ایک دھوکہ اور دکھاوا تھا اور ہمارے وزیراعظم جناب نواز شریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر بن بلائے مہمان شرکت کرنا بھی محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھااور جناب نواز شریف شاید نریندر مودی کی مکاری کو دوستی سمجھ کر اُسے اور اُس کی برات کو بغیر کسی ویزہ کے۔جپھے مارمار کر حقِ میزبانی ادا کرتے رہے اور بھارت سے تجارتی راہ و رسم کے خواب دیکھتے رہے کہ شاید بھارت سے تجارت کا آغاز کر کے تلخیوں میں نرمی لائی جا سکے مگر نہ تو ہمارے وزیراعظم کے تحفے تحائف کسی کام آسکے اور نہ ہی بغیرکسی ویزہ کے آئی برات کا دولہانہ استقبال ہی کوئی اثر دیکھا سکا اور جناب نریندر مودی نے بھی اپنی طینت کے مطابق بھارت پہنچتے ہی نئے محاذ کھول دئیے یوں تو بھارتی خفیہ ایجنسی ۔۔را۔۔نے پاکستان کے خلاف سازشوں کا ایک نیٹ ورک قائم کر رکھاہے اور اُسکے ایجنٹ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک بیٹھ کر سازشوں میں مصروف رہتے ہیں یہ بھارتی خفیہ ایجنسی۔۔را۔۔اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ ٓاج کل اُسے افغانستان جیسے براد ر ہمسائے ملک نے اُسے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے پناہ دے رکھی ہے اور ۔را۔۔آسانی سے پاکستان کے اندر گھس کے دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے میں کامیاب رہتی ہے پھر ہمارے مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز کی کانفرنس میں شرکت پر بھارتی حکومت نے جو میزبانی کا حق ادا کیا ایسا رویہ گھٹیا سوچ ہی کا نتجہ ہو سکتا ہے اُس موقع پر اگر ہمارے مشیر خارجہ بھارتی رویے کے خلاف بائیکاٹ کر کے واپس چلے آتے پاکستانی قوم کی نظر میں ہیرو قرار پاتے مگر وہ بیچارے بزرگ سیاستدان ہوتے ہوئے بھی اپنے وزیراعظم کی منشا کے بغیر ایسی کوئی غلطی کرنے پر آمادہ نہ ہو سکے اُنکی نسبت بھارت میں مقیم ہمارے ہائی کمشن جناب عبدالباسط نے پھر بھی جُرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے ادبی کرنے پر بھارتی اہلکار کو شیٹ آپ کہہ کر خاموش کرا دیا تھاہماری حکومت سے استدعا ہے کہ ایسے لوگوں پر احسانات کرنے کا سلسلہ بند کرے اور افغانی مہاجرین کو جلد از جلد اُنکے وطن واپس بھیجنے کا نیک کام انجام دے کیونکہ ایسے سانپوں کو دودھ پلانے کا کیا فائدہ جو ڈنک مارنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔