۔،۔ پاناما لیک سے ڈان لیک تک۔محمد ناصر اقبال خان۔،۔

nnn

محمد ناصر اقبال خان
مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی ماضی میں ایک دوسرے کے بدترین دشمن تھے یاآج بہترین دوست ہیں ،اس بات کافیصلہ میں پاکستانیوں پرچھوڑتا ہوں۔پاکستان میں ”منافقت” کو” قومی مفاہمت” کانام دیاجاتا ہے۔ہمارے ملک میں اقتدار کیلئے اتحادبنے یاپھراحتساب کے ڈر سے سیاستدانوں نے ایک دوسرے کوسہارادیا۔ سیاستدان اپنے بچاؤکیلئے ڈیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو ڈھیل دیتے ہیں،اوراس ڈھیل کے نتیجہ میں بے لگام ہوجاتے ہیں۔یہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کریں یادشمنی مگر پاکستان کے دشمن ان کے دوست کیوں ہیں۔نریندرمودی کوجس اندازمیں جاتی امراء مدعواوروہاں اس کااستقبال کیاگیاو ہ ناقابل برداشت اورناقابل فراموش ہے ۔جس ملک میں ارباب اقتدارکی لگام ایک موثراورمتحرک اپوزیشن کے ہاتھوں میں ہوتی ہے وہاں میٹروبس اوراورنج ٹرین سے متنازعہ اورمہنگے منصوبوں پرقومی وسائل کاضیاع نہیں ہوتا بلکہ عوام کاپیسہ ان کی صحت اورتعلیم پرصرف کیاجاتا ہے ۔سرمایہ دارسیاست میں آئے توسیاست اورتجارت کافرق مٹ گیا،آج بھی ایوانوں میں ضمیر نیلام ہوتے ہیں۔جس نے سیاست کوعبادت کی بجائے تجارت سمجھا اس نے خوب پیسہ بنایااور عہدحاضر میں دولت سے بڑی کوئی طاقت نہیں ، جہاں افرادطاقتورہوں وہاں ادارے کمزور پڑجاتے ہیں اورکوئی کمزورادارہ کسی طاقتورفرد کااحتساب نہیں کرسکتا۔پاناما لیک پرعدالت میں سماعت تومحض تلاشی تھی،احتساب ہوناابھی باقی ہے۔اگرپاکستان میں احتساب کا رواج ڈالنااورعوام کوسیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں استحصال سے بچانا ہے توپھرنیب اورپولیس کوپاک فوج کے ماتحت کرناہوگا ورنہ سیاستدان ان دونوں اداروں کو قیامت تک سراٹھانے نہیں دیں گے۔کچھ سیاستدانوں نے دوستی و دشمنی کی طرح سیاست اورتجارت کے بنیادی اصول بھی فراموش کردیے ہیں۔پاکستان کی دوحکمران پارٹیوں نے نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کوکیا کچھ نہیں کہا۔ ان پارٹیوں کے سربراہان ایک دوسرے کی نگاہوں میں غداراورسکیورٹی رسک ہوا کرتے تھے۔ماضی کے اخبارات ان کے الزامات سے بھرے پڑے ہیں۔شیر اورتیر نے اے آرڈی کے پیالے میں بھی ایک ساتھ پانی پیاکئی اور برس تک شیروشکر رہے، ان کی طرف سے کبھی عوام کومتحد کرنے کی سعی نہیں کی گئی لیکن انہوں نے خوداقتدار کیلئے اتحاد کرلیاتھا۔اب بھی یہ محض عمران خان کوروکنے کیلئے متفق اورمتحد ہیں کیونکہ اگرعمران خان اقتدارمیں آگیا توپھر موروثی سیاست کاانجام اورسیاست میں سرگرم سرمایہ داراشرافیہ کابے رحم احتساب اٹل ہے۔جس وقت پرویز مشرف صدرمملکت تھے ان دنوں دونوں پارٹیاں وفاقی کابینہ میں تھیں۔پرویز مشرف ایوان صدر سے گئے توآصف زرداری وہاں آگئے مگرایوان صدرمیں آئینی تبدیلی کے باوجودعوام کی تقدیرنہیں بدلی۔آج چیئرمین سینیٹ رضاربانی جمہوریت کادم بھرتے ہیں اورانہیں جمہوریت کاعلمبردارسمجھاجاتا ہے ،انہیں فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دینے کاپچھتاوا ہے شایدانہوں نے آنسوبھی بہائے مگر انہیں پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹرعاصم کی ضمانت پررہائی کاکوئی افسوس نہیں۔انہوں نے اپنے ساتھی شرجیل میمن کی وطن واپسی پرتاج پوشی کوبرانہیں سمجھا ۔انہیں ”را”کے رابطہ کاراورسہولت کار عزیز بلوچ کے ہوشرباانکشافات کے باوجود آصف علی زرداری کی قیادت پراظہاراعتماد کرتے ہوئے پیپلزپارٹی میں ہونے پر کوئی ندامت نہیں۔رضاربانی جس طرح وزراء کی سرزنش کرتے ہیں اس طرح عزیر بلوچ کے انکشافات کی روشنی میں آصف زرداری کی بازپرس بھی کریں یاپھرشعبدہ بازی چھوڑدیں۔رضاربانی پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواہاں ہیں لیکن عوام کی پستی سے انہیں کوئی سروکار نہیں،ان کے اس ڈھونگ سے سیاست کے”رانگ نمبر ”تومتاثرہوسکتے ہیں لیکن عام آدمی انہیں اپناہیروہرگزنہیں سمجھتا۔رضاربانی کویہ بات کون سمجھائے کہ پارلیمنٹ اپنے آپ نہیں بن جاتی بلکہ عوام کے ووٹوں سے پارلیمنٹ کاوجودبنتا ہے لہٰذا ء اس ملک میں پارلیمنٹ سے زیادہ عوام کواہمیت دی جائے ۔عوام کوپست کرکے پارلیمنٹ بالادست نہیں ہوسکتی ۔شعبدہ بازی سے ریاست کاکوئی شعبہ اپ گریڈ نہیں ہوگا۔ بھارت اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پربدحواسی میں پاکستان کودھمکا رہا ہے مگر ہمارے حکمران اورسیاستدان باہم دست وگریبان ہیں۔اِن دنوں پنجاب اورسندھ کی حکمران پارٹیوں میں سی پیک کولے کر لفظی جنگ چھڑی ہوئی ہے ،دونوں کا دعویٰ ہے سی پیک ہم نے شروع کیااوراس کاکریڈٹ ہمیں دیاجائے جبکہ حقیقت میں سی پیک کاکریڈٹ پاک فوج کوجاتا ہے۔جس پاک فوج کے سرفروش جوان سی پیک کی تعمیرسے تکمیل تک دشمن کے مدمقابل سینہ تان کر جام شہادت نوش جبکہ دشمنوں کاناپاک وجودبارود سے چھلنی کریں گے کریڈٹ بھی اس قابل رشک قومی ادارے کوجائے گا۔جس طرح پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل (ر)راحیل شریف کی سی پیک کے ساتھ کمٹمنٹ ایک مثال تھی ٹھیک اس طرح دبنگ جنرل قمرجاویدباجوہ بھی انتہائی جانفشانی سے سی پیک کودرپیش خطرات اورچیلنجز کومانیٹر اوران کامقابلہ کررہے ہیں۔پاک فوج سی پیک کاپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ۔پڑوسی ملک چین نے پاکستان کی ناکام اوربدنام سیاسی قیادت نہیں بلکہ انتھک دفاعی قیادت پراعتماد اورانحصار کرتے ہوئے سی پیک بنانے کااصولی فیصلہ کیا ۔سی پیک چین کی معاشی شہ رگ ہے جس طرح کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔پاک فوج سی پیک کی ضامن اورسٹیک ہولڈرہے اسلئے سی پیک ضروربنے گا۔ایٹمی ومعاشی طاقت چین اپنی شہ رگ کی حفاظت کس طرح کرے گایہ اسے بتانے،سمجھانے یاسیکھانے کی ضرورت نہیں۔چین کیلئے بھارت کے بازوآزمائے ہوئے ہیں،امریکہ اپنے اتحادی بھارت کی خاطر چین کے مدمقابل نہیں آئے گا۔اگربھارت کوزمینی حقائق کاادراک ہوتاتووہ سی پیک کوہرگز اپنے سرپرسوارنہ کرتا ۔جہاں انسان اپنے اپنے اندازسے چال چلتے ہیں وہاں قدرت بھی چال چلتی ہے ۔ہندوستان کے وجود سے اسلامی ریاست پاکستان کاقیام اتفاقیہ نہیں بلکہ پاکستان کا خالق جو حقیقی قادراورکارسازہے وہ پاکستان کے قیام کارازاوراس کامقام جانتا ہے۔گوادر نے پاکستان کی کایا پلٹ دی ہے ،ماضی میں ہندوستان کوسونے کی چڑیا کہاجاتا تھا لیکن عنقریب پاکستان کوسونے کی چڑیاکہاجائے گا۔چین اپنے دیرینہ دوست پاکستان کے ساتھ محبت کی خاطر نہیں بلکہ اپنی ناگزیر ضرورت کے تحت سی پیک کوآغاز سے انجام تک بنائے گااوراپنی معاشی بقاء کیلئے سی پیک کودشمن” شیطانی تکون” سے بچائے گا۔بھارت کی بدقسمتی کادوراس دن شروع ہوگیا تھا جس روزنریندرمودی وزیراعظم منتخب ہوا تھا۔یہ بات میں اس وقت بھی اپنے کالم میں لکھی تھی مگر اسے منطق کومذاق سمجھا گیا مگر اب کوئی اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔مودی کی طرح اس کاروحانی بھائی ڈونلڈ ٹرمپ کادورصدارت بھی امریکہ کی بدقسمتی سے عبارت ہے۔ پاناما لیک کامعاملہ ابھی تک ایک معمہ بناہوا ہے ،طویل اورمسلسل سماعت کے باوجود پاکستان کے عوام فیصلے کے منتظر ہیں جبکہ فیصلہ” محفوظ” ہے۔اب تک ”محفوظ” فیصلے کوبنیادبناکر کئی اشعار اورلطیفے سوشل میڈیا پرگردش کررہے ہیں۔اگرفیصلے درست اوربروقت نہ ہوں تو اداروں اورعوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں ۔پاناما لیک کافیصلہ کب اورکس کے حق میں آئے گا ،کیاوزیراعظم کونااہل قراردے دیاجائے گا ،یہ وہ سوال ہے جو خاص وعام ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں مگر مستندجواب کسی کے پاس نہیں ہے۔میں سمجھتاہوں اب پاناما لیگ کافیصلہ سنادیاجائے ورنہ عوام کا انتظاراضطراب میں تبدیل ہوجانے کاڈر ہے۔بے یقینی سے معاشروں میں بے چینی پیداہوتی ہے،ہمارامعاشرہ بے یقینی اوربے چینی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔حکمران جماعت کاکہنا ہے ،ہم” بیگناہ ”ہیں اورہمیں کلین چٹ مل جائے گی جبکہ پی ٹی آئی کے قائدین اورکارکنان ”انصاف”کی کامیابی کیلئے پرامید ہیں۔پارٹیوں کی شکست نہیں انصاف کی جیت اہم ہے کیونکہ انصاف کی شکست سے ملک شکست وریخت سے دوچارہوجاتے ہیں۔پاناما لیک کولے کرہرکوئی تجزیہ کاراورمبصر بناہوا ہے۔جواری بھی اس بات پرجواکھیلنے میں محو ہیں ۔پاناما لیک کے فیصلہ کی بابت مختلف افواہیں زیرگردش ہیں ،سیاسی پنڈت بھی ایک دوسرے سے استفسار کررہے ہیں۔شنید ہے اپریل کے اندر اندرفیصلہ آجائے گا ،فیصلے کے بعدشایدحکمران جماعت کو نیا وزیراعظم منتخب کرناپڑے۔،قوم کوانصاف کے ایوانوں سے بہت امیدیں ہیں،خدانخواستہ امید ٹوٹ جائے توبہت کچھ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ۔پاناما لیک کافیصلہ محفوظ ہونے سے اب تک وزیراعظم ہاؤس میں سرگرمیاں معمول کے مطابق نہیں ہیں،وہاں سے دستاویزات نامعلوم مقام پرمنتقل کرنے کی اطلاعات بھی ہیں مگر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوئی۔پاناما لیک کافیصلہ جوبھی آئے حکمران جماعت کی سیاست اورساکھ راکھ کاڈھیر بن گئی ہے ۔حکمران جماعت نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے قومی وسائل سے جہازی سائز کے اشتہارات کوہتھیاربنایا ہے،یہ اشتہارات حکمران جماعت کے کس حدتک کام آتے ہیں اس کیلئے انتخابی نتائج کاانتظارکرناپڑے گالیکن حکمران جماعت خالی اپنے اشتہارات پرانحصار نہیں کرے گی بلکہ ان کے پاس 2013ء والی ٹیم کے کئی اہم ارکان ابھی موجوداورسرکاری مراعات سے مستفیدہورہے ہیں ،2013ء والی تاریخ دہرانے کا قوی امکان ہے ۔پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی والے اس بار نادیدہ قوتوں کاکس طرح مقابلہ کرتے ہیں اس بات کافیصلہ ان پرچھوڑدیاجائے۔پاناما لیک نے میاں نوازشریف جبکہ ڈان لیک نے مریم صفدر کی سیاست کوگرہن لگادیاہے ،چودھری نثارعلی خان نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں ”ڈان لیک”رپورٹ پراتفاق ہونے اورآئندہ چندروزتک اس کے منظرعام پرآنے کاعندیہ دیا ہے۔ ڈان لیک رپورٹ جس دن ضرورمنظرعام پرآئے گی اس روزکئی سیاسی” ڈان” منظرعام سے اوجھل ہوجائیں گے ۔محاورہ ہے ڈائن بھی سات گھر چھوڑدیتی ہے لہٰذاء ڈان لیک میں جوکوئی ” ڈان”ملوث ہے اس ڈان کے کان کھینچ کراسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیاجائے،تاہم ”ڈان”کے سہولت کار بھی قابل گرفت اورسخت سزاکے مستحق ہیں ۔میاں نوازشریف نے اپنی صاحبزادی مریم صفدر کیلئے بہت بڑے خواب دیکھے تھے مگرہرخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اورآزادی کے نتیجہ میں بسااوقات انسان بربادی کی تاریک راہوں پرچل پڑتا ہے۔مریم صفدرکووزیراعظم ہاؤس میں میڈیا سیل بنانے اوراپوزیشن رہنماؤں پرسیاسی حملے کرنے کامشورہ کس نے دیا،ظاہر ہے خوشامدی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارہوتے ہیں۔پرویز رشید کی قربانی کافی نہیں اورنہ کسی کی معافی سے ڈان لیک کی تلافی ہوگی۔مریم صفدر کوجس کام کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا اس میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی۔پاناما لیک اورڈان لیک شروع دن سے پاکستان کے اہل سیاست اوراہل صحافت کیلئے ہاٹ ایشو بنے ہوئے ہیں ،ان دونوں موضوعات پربہت کچھ لکھا اورکہاگیا اورابھی مزید کافی کچھ لکھااورکہاجائے گا۔مختلف طبقات کے لوگ اس پراپنے اپنے اندازسے تبصرے کررہے ہیں ،پاناما لیک بارے سماعت توختم ہوگئی مگر حکمران جماعت کیلئے کوفت اورخفت کاسلسلہ ابھی تک تھما نہیں ہے ۔ پنجابی کاایک محاورہ عرض ہے، ”جنہاں کھادیاں گاجراں ٹیڈ اوہناں دے پیڑ ”۔