-،-پانامہ کیس ‘عدالتی فیصلہ آئینی ضرور ہے مگر اسلامی نہیں ہوسکتا ‘ ایم آر پی-،-
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پانامہ کیس کے عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے محب وطن روشن پاکستان پارٹی کے قائد و چیئرمین امیر پٹی نے کہا ہے کہ عدلیہ ہمارے لئے محترم ومعززہی نہیں بلکہ پاکستان ‘ عوام اور آئین کی محافظ ہونے کیساتھ انصاف کی ذمہ دار بھی ہے اور اگر پانامہ کیس میں کسی کو انصاف ہوتا دکھائی نہیں دیتا تو اسے اس فیصلے کیخلاف درخواست کا حق حاصل ہے البتہ قوم اس بات پر پریشان ضرور ہے کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے پاس وزیراعظم اور ان کے صاحبزادوں کو طلب کرکے سرمائے کی قطر منتقلی کے حوالے سے سوالات پوچھنے کا استحقاق نہیں تھا تو 126روز تک 35سماعتیں کرنے کی بجائے روز اول ہی جے آئی ٹی تشکیل دے دی جاتی اور فیصلہ محفوظ کرتے وقت عدلیہ کو اس بات اک ادرا ک ہوا کہ اسے وزیراعظم سے جواب طلبی کا اختیار نہیں ہے تو پھر دوماہ تک عوام کو فیصلے کا انتظار کرانے اور فیصلہ محفوظ کرنے کی بجائے اسی وقت سنا دیا جاتا تو عدلیہ پر عوامی اعتماد بھی مجروح نہ ہوتا اور اس پر نظریہ ضرورت و جانبداری کے الزامات بھی لگتے جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک وزیراعظم کو ان کے عہدے سے معطل کرنے کے احکامات نہ دینا آئین و قانونی عمل تو ہوسکتا ہے مگر اسلام کے اصول مساوات کیخلاف ہے اور چونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اسلئے کسی بھی حکمران کو کسی بھی الزام کی شکل اپنی بیگناہی کے ثابت ہوجانے تک یا تو خود مستعفی ہوجانا چاہئے یا پھر اسے معطل کرنا عدلیہ کا فریضہ ہے جس سے انحراف پاکستان کے اسلامی تشخص کیلئے ایک بدنما داغ ہے !