۔،۔ نوازشیں ہی نواز شیں ۔،۔ طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال-،-

butt

طارق حسین بٹ شانؔ
بے شمار امیدوں اور خواہشوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ۲۰ اپریل کا دن بھی خدا خدا کر کے آپہنچا اور پھر دو بجے وہ تاریخی فیصلہ بھی سنا دیا گیا جسے سننے کیلئے پوری قوم بے تاب تھی ۔ پاکستانی چیلنز نے ایک ایسی فضا تیار کر رکھی تھی جس میں ہیجانیت زیادہ اور حقائق کا پہلو کم تھا کیونکہ انھیں بھی تو اپنا مال بیچنا ہوتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ سارے پرائیویٹ چیلنز اپنی طے شدہ پالیسی کے مطابق اپنے دماغ میں بسائی گئی مخصوص تصویر سے عوام کا دل لبھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کی حسرت و حواہش تھی کہ عوام ان کی بنائی گئی تصویر کو ہی حقیقی سمجھ لیں اور جو کچھ انھیں دکھایا اور سمجھایا جا رہا ہے ا سے ہی حتمی توقعات کا لباس پہنا دیں اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب و کامران رہے کیونکہ عوام کی اکثریت نے مائنڈ سیٹ بنا لیا تھا کہ ۲۰ اپریل کو میاں محمد نواز شریف کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائیگا اوران کی پیسہ سیاست ہمیشہ کیلئے دفن ہو جائیگی ۔ نواز شریف کو نا اہل قرار دینے سے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ کرپشن کے تمام در وازے سختی سے بند ہو جائیں گے اور یوں شفافیت کے ایسے نئے کلچر کا آغاز ہو گا جس سے پاکستان پر ترقی کے نئے امکانات کھل جائیں گے لیکن بوجوہ ایسا ہو نہیں سکا۔پی ٹی آئی کے چیر مین عمران خان میاں محمد نواز شریف کو گھیر گھار کر عدالت تک تولے آئے لیکن اس کے بعد کیا ہوا اب تاریخ کا حصہ ہے۔عمران خان نے اپنا کام انتہائی ایمانداری اور دیانتداری سے سر انجام دیا تھا لیکن پاکستان کے مقدر میں ابھی وہ سحر طلوع ہونے میں وقت لگے گا جس کا خواب ہر پاکستانی اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہے۔عمران خان کو دل برداشتہ نہیں ہو نا چائیے کیونکہ کرپشن جیسے کارِ خیر کا خاتمہ اسی کے ہاتھوں سر انجام پا نا ہے۔سوال یہ نہیں ہے کہ کون جیتا اور کون ہارا بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن کا خاتمہ ہو سکے گا؟ کیا پاکستان میں انصاف کا سورج طلوع ہو سکے گا؟اور کیا پاکستا ن میں دیانتداری کو اپنا مقام مل پائیگا؟سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ محفوظ کرنے پر اعلان کیا تھا کہ سپریم کورٹ ایک ایسا فیصلہ صادر فرمائے گی جسے صدیوں یاد رکھا جائے اور انھوں نے اپنا ذاتی فیصلہ لکھ کر اپنے الفاظ کی لاج رکھ دی ہے۔انھوں نے اپنے فیصلے میں میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کی سفارش کی تھی لیکن ان کی تاریخ ساز رائے تاریخی فیصلہ بننے سے ایک ہاتھ دور رہ گئی۔تاریخ کاستم تو دیکھئے کہ ایک دفعہ اختلافی فیصلہ وزیرِ اعظم ذولفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھنے سے بچا نہیں پایا تھا جبکہ آج کے اختلافی فیصلے سے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نا اہل ہونے سے بچ گئے۔یہ سچ ہے کہ پاکستانی عدالتیں میاں برادران کے خلاف فیصلہ دینے میں اتنی با جرات نہیں ہیں جتنی وہ دوسری جماعتوں کے خلاف فیصلہ دینے میں ہیں۔اپریل ۱۹۹۲ ؁ میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن ک الزامات پر میاں محمد نواز شریف کی حکومت تحلیل کی تو سپریم کورٹ نے ان کی حکومت کو بحال کر دیاتھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے ڈ کشنر یوں میں لفظ چمک کا اضافہ کیا تھا۔لوگ اب تک چمک کے لفظ کو اپنی اپنی بساط کے مطابق لباسِ معنی پہناتے رہتے ہیں لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود لفظ چمک کی چمک ابھی تک ماند نہیں پڑی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بھی دو دفعہ کرپشن کے الزامات کے تحت برخاست کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے دونوں دفعہ ان کی حکومت کو بحال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔عدالت کے اس طرزِ عمل کے خلاف ایک نئی ٹرم بھی متعارف ہو ئی تھی اور وہ یہ تھی کہ لاڑکانہ کا وزیرِ اعظم اور لا ہور کا وزیرِ اعظم ۔بات تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے سچ کہی تھی یہ الگ بات کہ یہ بات بہت سوں کو اچھی نہیں لگی تھی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو اکثریتی فیصلہ سے ملک کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذولفقار علی بھٹو کو سرِ دار کیوں کھینچ دیا جاتا؟جب کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ درد سے بلبلا اٹھتا ہے اور حالتِ درد میں وہ اپنی زبان سے سچائی کا ہی اظہار کرتا ہے۔،۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) اس فیصلے سے بلا واسطہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ پی پی پی تو اس مقدمہ میں فریق تھی ہی نہیں۔پی پی پی نے اپنی دنیا الگ بنائی ہوئی ہے۔وہ کسی ایسے جھمیلے میں نہیں پڑنا چاہتی جہاں اس کے بھی برہنہ ہونے کے امکانات ہوں۔میاں محمد نواز شریف کا نا اہل ہونا پی پی پی کے کئی سیاستدانوں کو بھی ننگا کرسکتا تھا کیونکہ پی پی پی کے کئی راہنما کرپشن مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔اس وقت تو حالت یہ ہے کہ پی پی پی کی اعلی قیادت،کارکن اور کئی وزرا پر اربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات ہیں اور یہ لوگ کسی بھی حالت میں کرپشن سے توبہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ کرپشن ان کا اوڑ ھنا بچھونا ہے۔ سپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ پاکستان میں کرپشن کو مزید بڑھاوا دے گا کیونکہ اب تو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بھی میاں محمد نواز شریف کو صادق و امین بنا کر پیش کر دیا ہے۔عمران خان کا موقف یہ تھا کہ آئین کی دفعہ ۔۔۶۲۔۔ ۶۳۔۔کے مطابق دنیا بھر میں اربوں روپوں کی جائدادیں خریدنے اور انھیں چھپانے کے بعد میاں محمد نواز شریف صادق و امین نہیں رہے اس لئے انھیں نا اہل قرار دیا جائے ۔ان کی اس درخواست پر کاروائی تو ہوئی لیکن آج ۲۰ اپریل کو دو کے مقابلے میں تین ججز کے اکثریتی فیصلہ نے میاں محمد نواز شریف کو نا اہل ہونے سے بچا لیاہے۔ کیا وہ واقعی صادق اور امین ہیں یا انھیں زبردستی صادق اور امین بنا یا گیا ہے؟ یہ ہے وہ سوال جو ہر کوئی ایک دوسرے دے پوچھ رہا ہے۔ جس فیصلے کے انتظار میں قوم ساری رات سو نہیں وہ ایک سطری تھا ۔اور فیصلہ یہ تھا کہ میاں محمد نواز شریف کو پیش کردہ ثبوتوں کی بنا پر نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔انھوں نے منی ٹریل میں قطری شہزادے کی جو کہانی تخلیق کی ہے اور اس سلسلے میں جو مواد عدالت میں جمع کروایا ہے عدالت اسے تسلیم نہیں کرتی ۔سات دنوں کے اندر اندر ایک جے آئی ٹی تشکیل دی جائے جس میں چھ ممبران ہو ں اور جے آئی ٹی رپورٹ ساٹھ دنوں میں سپریم کورٹ میں پیش کی جائے ۔اس کے بعد فیصلہ ہو گا کہ جے آئی ٹی میں پیش کردہ منی ٹریل کی کہانی عدالت کو مطمئن کرتی ہے یا کہ نہیں اور اسی پورٹ کی بنیاد پر میاں محمد نواز شریف کی اہلیت یا ناہلیت کا فیصلہ ہوگا۔آج کے فیصلہ کے بعد مسلم لیگ (ن) بغلیں بجا رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی دفاعی انداز اختیار کئے ہوئے ہے۔عدالتِ عظمی نے اپنے فیصلے میں میاں محمد نواز شریف کوجس طرح محفوظ راستہ دیا ہے عوام کی اکثریت سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدل و انصاف کا خون کرنے سے تعبیر کر رہی ہے ۔نوازشوں کی بارش کی انتہا تو دیکھئے کہ جے آئی ٹی بنانے کا کام بھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو سونپ دیا گیا ہے ۔سوچیئے کہ وہ جے آئی ٹی جس کے ممبران میاں برادران کے ذاتی غلام ہو ں گے کیا وہ میاں محمد نواز شریف کے خلاف کوئی فیصلہ صادر کر سکے گی ؟ہم نے اس سے قبل بھی جے آئی ٹی رپورٹ کا حشر دیکھا ہے۔ماڈل ٹاؤن واقعہ کی جے آئی ٹی کا کیا بنا ؟کیا ۱۴ مقتولین کی جے آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر آ سکی؟ کیا انھیں انصاف مل گیا؟۔جسٹس باقر کی رپورٹ کا جوحشر ہوا وہ کسی سے مخفی نہیں ہے لہذا یہ کیسے یقین کر لیا جائے کہ جو کچھ کئی حشروں سے ہو تا چلا آ رہا ہے وہ آئیندہ نہیں ہو گا؟پہلے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ جن لوگوں کو جے آئی ٹی کے حکم پر عدالت میں پیش ہونے کاکہا جائیگا کیا وہ بہانہ بنا کر پیشی کی تا ریخیں التوا میں نہیں ڈالیں گے؟ آصف علی زرداری کوسر توڑ کوششوں کے باوجود کئی سالوں تک سوئیس عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا ۔وہی پرانا بہانہ دل کی بیماری۔اگر بوگس قطری خط عدالت میں پیش کیا جا سکتاہے تو بیماری اور لاغر پن کے کئی بوگس سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں پیش کئے جا سکتے ہیں لہاذ عدالت نے حکومت کے ہاتھ میں ایسا لیور دے دیا ہے جس سے وہ قت حاصل کرنے میں کا میاب ہو جائیگی ۔۲۰ اپریل کا دن بلا شبہ میاں محمد نواز شریف کی فتح کا دن ہے اور ان کی اس فتح میں عدلیہ پہلے کی طرح پوری یکجہتی کے ساتھ میاں برادران کے ساتھ جم کر کھڑی ہے۔،۔