-،-پانامہ کیس۔سچ کی تلاش کا سفر ابھی جاری ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
بالآخر صبر آزلمحات کے بعد ماپانامہ لیکس کا فیصلہ آگیاجسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں اپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1میں پانامہ لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں پر فیصلہ سنایایہ فیصلہ 540صفحات پر مشتمل جسے جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا سپریم کورٹ کے اس فیصلہ میں ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7دن کے اندر JTIتشکیل دینے کا حکم جاری کیاجو دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے سپریم کورٹ کے اسی بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے گی،ہر دو ہفتے بعد بھی رپورٹ بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم ،عدالتی فیصلے میں نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے،اس کمیٹی میں ایف آئی اے،آئی ایس آئی۔سٹیٹ بینک آف پاکستان ،ملٹری انٹیلی جنس ،نیب ،سیکیورٹی اینڈ ایکسچینچ کے نمائندے شامل ہوں گے،بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اختلافی نوٹ لکھا جن کے نزدیک وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے انہوں نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے تمام جوابات مسترد کر دئیے،قطری خط کے بارے میں سخت ریمارکس فیصلہ میں سامنے آئے ہیں تاہم عدالت کا کوئی بھی فیصلہ ہو اکثریتی ہی قبول کیا جاتا ہے بہر حال مسلم لیگ (ن ) کے لئے آج جشن کا مقام ہے اور وہ پاکستان کے ہر شہر میں منا بھی رہے ہیں ،سپریم کورٹ کا یہی بینچ قائم رہے گا اور قسمت کے دھنی ایوان اقتدار پر براجمان رہیں گے واضح رہے کہ اسی بینچ نے کہا تھا ۔NAB۔دفن ہو چکا ہے اور دفن شدہ چیز انکوائری کرے گی،سچ کی تلاش میں جو کچھ ہوتا رہا وہقارئین کے سامنے ہے، 23فروری کو اس کیس کی آخری سماعت ہوئی پاکستان کی تاریخ کا یہ واحد عدالتی فیصلہ ہے جو سماعت کے 57روز کے طویل صبر آزماء اوراعصاب شکن طوالت بعد سنایا گیا ،اس کیس میں معزز جج صاحبان کی جانب سے 270سخت ترین سوالات کئے گئے البتہ مجموعی طور پر فریقین کے وکلاء کو6ہزار سے زائد سوالات کا سامنا کرنا پڑا، ،111گھنٹے کے قریب بحث و دلائل کی بھرمار رہی جن میں24ممالک کے حوالے دئے گئے ،مسلم لیگ (ن) جانب سے فیصلے کے وقت کا اعلان ہوتے ہیں پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں دھمکی آمیز بینرز لگنے شروع ہو گئے،شہر اقتدار میں سیاسی پارٹیوں کے گٹھ جوڑ کا لامتناعی سلسلہ شروع ہو گیا،عدالت اعظمیٰ اور ریڈ زون میں ریڈ الرٹ جاری اورسیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات میں پولیس اور رینجرز کے تین حصار قائم کئے گئے پانامہ کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شروع دن سے ہی کوشش رہی کہ یہ مقدمہ عدالت میں نہ جائے ،سابق صدر آصف زرداری نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا۔عمران ہر بال پر چھکا مارنا چاہتا ہے ،انوکھا لاڈلہ کھیلنے کو مانگے چاندنی ۔قوم کی ترجمانی کرنے والے خورشید شاہ نے اگر یہ معاملہ پارلیمنٹ میں ہوتا تو انتہائی قلیل وقت میں دودھ کادودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ،(خورشید شاہ پھر کیوں زرداری کے لاپتہ ساتھیوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے بازیاب نہیں کروا سکے درحقیقت یہ سب قوم کے ساتھ برسوں سے ہوتا کھلواڑ ہے)، مولانا فضل الرحمان تو عدالت میں اس کیس کی سماعت کو وقت کا ضیاع کہتے رہے الراقم کے نزدیک مولانا کا بیان بہت قابل غور بلکہ قابل تحسین ہے،آج کل پی پی پی ور مسلم لیگ (ن) میں بہت دوریاں سادہ لوح عوام کو نظر آ رہی ہیں ،واضح رہے یہ سب ڈرامہ اور نورا کشتی ہے یہ تو آنے والے انتخابات میں، سیٹ توسیٹ Adjstmntپر بھی تیار ہو چکے ہیں تا کہ دونوں کو اتنی اکثریت حاصل ہو سکے کہ مسقتبل میں ایک دوسرے کی لوٹ مار کا تحفظ کیا جا سکے،مسلم لیگ کی جانب سے متبادل وزیر اعظم کی دوڑ میں ۔احسن اقبال ۔سب سے آگے ہیں ،ان دو بڑی پارٹیوں کی خواہش یہی ہے کہ الیکشن قبل از وقت ہو جائیں ۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ انوکھامقدمہ جو میگا کرپشن کا سب سے بڑا سکینڈل گذشتہ سال 3اپریل کو دنیا بھر میں وسطی یا شمالی امریکہ کے چھوٹے سے ملک ۔پانامہ ۔جس کی معیشت کا دارمدار بینکنگ سیاحت سے ہے میں سے ایک کروڑ پانچ لاکھ خفیہ دستاویزات جاری ہوئیں ،بیسٹن اوپرمیٹر اور فریڈرک اوبر مائرنامی دو صحافیوں نے پانامہ میں چھپی دولت کو ظاہرکیا تھا،ان دستاویزات کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک کے سیاستدان اورکاروباری شخصیات نے پانامہ میں آف شور کمپنیاں بنا رکھی تھیں ،اس خفیہ دولت کی مالیت 7کھرب 60ارب ڈالر بتائی گئی جو دنیا کی دولت کا قریباً8فیصد بنتی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ظاہر ہو تا جا رہا ہے،پانامہ پیپرز کے مطابق پاکستان کے سیاستدان بھی خفیہ دولت بنانے میں کسی سے پیچھے نہ رہے،نواز شریف کے بیٹوں حسین نواز ،حسن نوازاور بیٹی مریم نواز بھی کئی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں،درجنوں پاکستانیوں جن کے نام آف شور کمپنیوں میں آئے ان میں سب سے زیادہ کمپنیاں سیف اللہ خاندان کی ہیں ،دنیا میں ہلچل مچانے والی اس رپورٹ کے نتیجہ میں بھارت،آسٹریلیا،نیوزی لینڈسمیت79ممالک میں میں تحقیقات کا آغاز ہوا،آئس لینڈ میں پارلیمنٹ کے گھیراؤ کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا،پاکستان میں بر سر اقتدار خاندان کا نام آف شور کمپنیوں میں آنے کے بعد ایک شور مچ گیا،وزیر اعظم نواز شریف نے سرکاری ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خاندان نے کرپشن نہیں کی انہوں نے پانامہ لیکس پر عدالتی کمیشن کا اعلان کیا،اپوزیشن نے اسے مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ ست اؤزخود نوٹس کا مطالبہ کر دیا ،الیکشن کیشن کا بیان جاری ہوا پانامہ لیکس میں ایسا کچھ نہیں جس کا نوآٹس لیا جائے ،قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہنگامہ آرائی ،واک آؤٹ اور تحاریک التوا جمع کر وائی گئیں،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے ،حکومتی حلقوں سے بھی سخت مؤقف اپنانے کافیصلہ کر لیا گیا،مشترکہ احتجاج کے لئے کئی سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے بحال ہو گئے ،اسی دوران 13اپریل کو نواز شریف علاج کے لئے لندن پہنچ گئے جس سے کئی نوعیت کی افواہوں نے جنم لیا،اس صورتحال پر امریکہ کا یہ مؤقف سامنے آیا کہ ۔پانامہ لیکس پر نواز شریف کا فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے،15اپریل کو رجسٹرار سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ابھی تک حکومت نے کمیشن بنانے کے لئے رابطہ نہیں کیا،پانامہ کے وزیر آئیون زرک نے انکشاف کیا کہ پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار لیکس کے بعد ان سے ملنے آئے تھے،کبھی پاناہ لیکس پر تحقیقاتی کمیشن پراتفاق،کبھی انکار،نواز شریف نے ایک بار پھر کہا کہ ہمارے دامن صاف ہیں ماضی میں بھی کڑے وقت دیکھے ہیں تاہم اپوزیشن نے نئی حکومتی تجویز کوبھی مسترد کرتے ہوئے ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا،جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بھی یکم مئی سے کرپشن کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب لٹیروں کو جیل جانا ہو گا،جنرل راحیل شریف نے بھی نواز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس کا معاملہ جلد حل کیا جائے ،اس دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تحقیقات کے لئے کئی ٹرمز آف ریفرنسTORبنے اور مسترد ہوے،16مئی کو عمران خان شریف خاندان کے لندن میں موجود 5فلیٹوں کی دستاویزات سامنے لے آئے،میاں نواز شریف نے لندن سے ہی اقتصادی کا بینہ کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کے دوران نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی یہ واحد اور انوکھا واقعہ تھا، ٹی او آرز پر حکومت اور اپو زیشن پر ڈیڈ لاک جاری رہا ا س دوران لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس زاہد وحید نے مریم نواز کی لندن موجود4فلیٹس کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی، 24جون کو پی ٹی آئی،27جون کو پی پی پی اور30جون کو عوامی تحریک نے شریف فیملی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کر دیا،9جولائی کو 48روز بعد نواز شریف علاج کے بعد لندن سے واپس وطن پہنچ گئے،29جولائی کو الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نا اہلی درخواستوں پر سماعت کا فیصلہ کیا،پی ٹی آئی جہاں ایک طرف عوامی تحریک کا آغاز کر چکی تھی وہیں اس نے قومی اسمبلی میں بھی 15اگست کو منی لانڈرنگ پر ریفرنس دائر کر دیا،16اگست کو عمران خان نے سپریم کورٹ جانے اور3ستمبر سے پاکستا ن مارچ کرنے کا ایک ساتھ اعلان کیا،17اگست کو الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کا نوٹس جاری کر دیا،24کو سراج الحق اور29اگست کو پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پانامہ تحقیقات کے لئے درخواستیں جمع کرائیں،30اگست کو رجسٹرار سپریم کورٹ نے یہ درخواستیں اعتراض لگا کر واپس کر دیں،20ستمبر کو پانامہ کیس پر وزیر اعظم کے خلاف انکوائری نہ کرنے پر لاہور ہائی کورٹ نے وفاق ،نیب،ایف بی آراور ایک آئی اے کو نوٹس جاری کر دئیے،23ستمبر کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف درخواست جمع کرائی،27ستمبر کو سپریم کورٹ نے عمران خان ، جماعت اسلامی ،شیخ رشید،وطن پارٹی اور وکیل طارق اسدکی درخواستوں پر اعتراض ختم کر کے انہیں سماعت کے لئے منطور کر تے ہوئے اوپن سماعت کا فیصلہ کیا،28ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مزید سماعت ختم کر دی اور کہا اب پانامہ کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی،7اکتوبر کو عمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کر دیا،14اکتوبر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے پانامہ کیس سماعت کے لئے 20اکتوبر مقرر کر دی ،نواز شریف نے اس سماعت کا خیر مقدم کیا،20کو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی پہلی سماعت پر وزیر اعظم،حسن نواز،حسین نواز،مریم نواز،کیپٹن(ر) صفدر،اسحاق ڈار،چیر مین ایف بی آر،چیرمین نیب،ڈی جی ایف آئی اے اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو 2ہفتے میں جواب طلب کر لیا،اس سماعت پر عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس بادشاہ کو قانون کے نیچے لانے کا پہلا قدم ہے،22اکتوبر کو سپریم کورٹ نے پانامہ کی مزید سماعت کے لئے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کر دی ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے اعلان پر وفاق اور پنجاب کی پوری قوت لگا کر عمران خان کی اور ان کے ساتھیوں کی انٹری نا ممکن بنا دی گئی ،پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ق)،عوامی تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کو گھروں سے پکڑ کر دور دور کے اضلاع میں قائم جیلوں کا مہمان بنایا گیا، شہر اقتدار کی چھوٹی گلیوں میں بھی رینجرز دستے گشت کرتے نظر آئے ،سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کی باقاعدہ سماعت کے اعلان پر عمران خان پر بہت پریشر تھا اس کے باوجود انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد بنی گالا میں پریس کانفرنس کے دوران اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ۔یوم تشکر ۔منانے کا اعلان کر دیا،عمران خان کے اس اچانک فیصلے پر ڈھیروں باتیں ہوئیں مگر ان کا وہ مؤقف درست تھا،سپریم کورٹ نے پہلی سماعت پر فریقین کو متفقہTOR,s وقت دیا اور کہا کہ اگر فریقین متفق ہوئے توعدالتی کمیشن جس کا سربراہ عدالت اعظمیٰ کاجج ہو گا،اس دن عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ملک میں ہیجانی کیفیت ہے کیس کو طول نہیں دے سکتے روزانہ سماعت کر کے فیصلہ دیں گے،وسری سماعت پر وزیر اعظم کے بچوں نے جواب داخل کرانے کیلئے دو ہفتوں کی استدعا مسترد کرتے برہمی سے انہیں صرف تین دن کا ٹائم دیا،نواز شریف کے بیان میں کہا گیاتمام اثاثے ڈکلیر کر چکا ہوں پانامہ میں میرا نام نہیں اور نہ ہی کسی بچے کی کفالت کرتا ہوں،اسحاق ڈار کا جواب تھا منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں پرویز مشرف نے زبردستی بیان لیا تھا،کیپٹن صفدر نے کہا اثاثے نہیں چھپائے اور اہلیہ مریم نواز کی کوئی آف شور کمپنی نہیں،اسی دوران پانامہ لیکس پرسپریم کورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت کے دائرہ اختیار پر نئی بحث چھیڑ دی گئی،5نومبر ۔ عدالت نے کہا ۔سب سے پہلے صرف وزیر اعظم کا کیس سنا جائے گا،وکیل سلمان بٹ نے کہا وزیر اعظم کے زیر کفالت کوئی نہیں اور نہ ہی ان کے بیٹے کوئی عوامی عہدہ رکھتے ہیں۔مریم نواز کاخودمختار ہیں ان پر تمام الزامات غلط ،ان کی بیرون ملک کوئی جائداد نہیں نیلسن اور نیسکول حسین نواز کی ملکیت ہیں وہ صرف ان کی ٹرسٹی ہیں ،حسین نواز نے بھی کہا نیلسن اور نیسکول اس کی ملکیت ہیں،میاں شریف کی سٹیل ملز بیچ کر قانونی طریقے سے لندن میں جائداد خریدیں وہ 16سال سے بیرون ملک مقیم ہیں،انہوں نے اپنے والد کو خطیر رقم تحفہ میں دی،حسن نواز نے کسی بھی ملکیت سے صاف انکار کیا،عدالت نے تما م فریقین کو 15نومبر تک شواہد جمع کرانے کا حکم جاری کرنے کے بعد سماعت ملتوی کردی،15نومبرکی سماعت پر وزیر اعظم کے بچوں نے سلمان بٹ کی جگہ اکرم شیخ کو اپنا وکیل کر لیا،اس سماعت پر عدالت میں ۔قطری خط ۔عدالت میں جمع کرا یاگیا،اس روز عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا ۔یہ کیا شواہد ہیں سب اخباری تراشے اور الف لیلہ کی کہانیاں ہیں ،انور ظہیر جمالی نے کہا فریقین نے اتنے دستاویزات جمع کرائے ہیں ان پر توکیس سالوں تک جاری رہ سکتا ہے قطری خط جب ریکارڈ پر آئے گا تو خود بخود عام ہو جائے گا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے ۔شریف فیملی کے پہلے جمع کرائی گئی دستاویزات اور قطر کے شاہ کے خط میں پیش کردہ مؤقف میں تضاد پایا جاتاہے،شیخ عظمت سعید نے کہا۔نیب چیر مین خود ساختہ جلا وطنی پر چین چلے گئے،پاکستاأ کے عوام سچ جاننا چاہتے ہیں سچ کو دستاویزات کے ذریعے دفن نہ کیا جائے،اس روز اکرم شیخ نے 397صفحات پر مشتمل مزید دستاویزات جمع کرا دیں،16نومبرکو وزیر اعظم کے بچوں کے مؤقف اختیا کیا کہ تحریک انصاف کی پیش کردہ تمام دستاویزات جھوٹ پر مبنی ہیں انہیں مسترد کیا جائے ،18نومبر کو پینچ کے سربراہ نے کہا نیب ،ایف آئی اے ،ایف بی آر جیسے ادارے بنا تو دئیے جاتے ہیں مگر کام نہیں کرتے تاہم وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سو فیصد تصدیق تک کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے تحریک انصاف ٹھوس ثبوت پیش کرے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا۔وزیر اعظم نے خطاب میں غلط بیانی کی اس کے نتائج برآمد ہوں گے،چیف جسٹس نے مزید سماعت30نومبر تک ملتوی کر دی،18نومبر پی ٹی آئی کے وکیل حامد خاں نے کیس سے علحدگی اختیار کر لی،اس دوران حکومت نے کالا دھن کو سفیدکرنے کے لئے پر اپرٹی کا صرف ایک فیصد ٹیکس دے کر قانونی پوزشین حاصل ہو جانے کا قانون منظور کر لیا،30نومبر کو جسٹس شیخ عظمت سعید نے اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔آپ بتائیں دستاویزات کیو ں چھپائی جارہی ہیںآپ کہتے ہیں صرف شیر ہولڈر ہیں اس کا بھی ثبوت دینا ہو گا،عظمت سعید نے نعیم بخاری سے کہاشریف خاندان کاآف شور کمپنیوں سے تعلق ثابت کرنا ہو گااگر یہ ثابت ہو گیا تو سارابوجھ شریف خاندان پر ہو گا قطری سرمایہ کاری سے لندن فلیٹس خریدے لیکن جدہ سٹیل ملز کی وضاحت نہیں کی گئی.6.دسمبر کو نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے وزیر اعظم وکیل سلمان اسلم بٹ سے تین سوالات کئے 1۔وزیر اعظم کے بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں ان کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا؟2۔مریم صفدر کے نواز شریف کے زیر کفالت ہونے کی وضاحت کریں اور3۔ واضح کریں کہ وزیر اعظم کی تقریروں میں جو تضاد ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ؟اس موقع پر جسٹس کھوسہ نے کہا الزامات کے خلاف ثبوت فراہم کرنا ملکیت تسلیم کرنے والوں کی ذمہ داری ہے یوسف رضا گیلانی کو پہلے سزا ہوئی پھر وہ نا اہل ہوئے انکل ،گرینڈ سن اور گرینڈ فادر کے ذریعے رقم منتقلی نے ہمیں الجھا  رکھا ہے،چیف جسٹس ظہیر جمالی نے نیب اور ایف آئی سمیت دیگر بڑے اداروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگر اتنے بڑے ادارے کام نہیں کر رہے تو انہیں بند کر دیں، 7نومبر کو عدالت اعظمیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا۔شواہد ناکافی ہیں کیوں نہ کمیشن بنا دیں اس کے لئے تمام فریقین کل جواب دیں اس سے قبل جسٹس اعجاز کا کہنا تھا وزیر اعظم کی تقریر میں قطری خط کا ذکر نہیں اور ہمارے لئے مشکل بات یہ ہے کہ اس قطری خط میں سرمایہ کاری کا ریکارڈ ہی موجود نہیں،آصف سعید کھوسہ نے کہا۔عدالت قانون سے ہٹ کر فیصلہ نہیں کرتی نواز شریف نے خود کہا تھا تمام ریکارڈ موجود ہے اب قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کوس سیاسی کہہ دیا گیا ہے،8نومبر کو عمران خان نے تجویز کردہ کمیشن کا رد کرنے کا اعلان کر دیا،9نومبر کو سپریم کورٹ نے مختصر سماعت کے بعد کہاسپریم کورٹ اب اس کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں از سر نو کرے گی ،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے نئے چیف جسٹس کا حلف اٹھا کر خود کو پانامہ کیس سے الگ رکھتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا دیگر جج صاحبان میں جسٹس گلزار ،جسٹس افضل خان،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے،3جنوری کے پی ٹی آئی نے مزید دستاویزات جمع کرا دیں دوسری جانب وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے وکیل تبدیل،نواز شریف نے مخدوم علی خان،حسین نواز کے سلمان اکرم راجہ جبکہ مریم نواز نے شاہد حامدکو نیا وکیل مقرر کیا،4جنوری کو نئے بینچ نے پانامہ کیس کی سماعت کی بینچ کے سربراہ جسٹس کھوسہ نے کہاپہلا مؤقف ہے دوبئی کا کاروبار فروخت کر کے قطر میں بزنس شروع ہوا دوسرا یہ ہے دوبئی سٹیل بیچ کر سعودی عرب بھیجی گئی اور تیسرا مؤقف ہے جدہ بزنس کے لئے سعودی بینکوں سے قرضہ لیا گیا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ایک ہی رقم تین مختلف جگہوں پر بیک وقت کیسے بھیجی گئی؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اگر رقم جدہ بھیجی گئی تو اس کا کوئی ریکارڈ تو ہوگا اس بات کی وضاحت ضروری ہے،جسٹس گلزار نے کہا آخر یہ رقم کہاں سے آئی جس کی کہیں ترسیل کاکوئی ریکارڈ نہ دوبئی،نہ سعودی عرب اور نہ ہی لندن میں ہے ،سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت روانہ کی بنیاد پر کرنے کا بھی فیصلہ سنا دیا،5جنوری کو وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایک بار پھر قوم سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے 70کے عشرے میں دوبئی میں کاروبار شروع کیاچند سال بعد فروخت کر کے جدہ میں سٹیل مل لگائی جسے بعد ازاں فروخت کر کے حاصل شدہ رقم بچوں کو کاروبار کے لئے دی ان کے بڑے بیٹے حسین نواز1994اور حسن نواز 2002سے لندن میں مقیم ہیں،تاہم ان کے بیٹوں کے جواب مختلف تھے،5جنوری کی سماعت کے دوران جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے تو کہا تھا ہمارے پاس بچوں کے بزنس کا سار ریکارڈ موجود ہے جو عدالت میں پیش کیا جائے گا اب وہ کدھر ہے؟میں خود قطری خط کے حوالے سے حیران ہوں 12ملین درہم کے علاوہ 43ملین ڈالر بھی ہیں جس کے بارے میں پوچھا جائے گا عدالت کو کوئی جلدی نہیں تمام فریقین کو پورا موقع دیا جائے گا تا کہ کوئی تشگنی نہ رہے لندن فلیٹس میں تضادات ہوا تو شریف فیملی کو عدالت طلب کیا جا سکتا ہے ،شیخ عظمت سعید نے کہا عدالت صرف سچ جاننا چاہتی ہے لوگ بھی سچ جاننا چاہتے ہیں اور جب ہم سچ تک پہنچ جائیں گے تو عدالت کے سامنے سب معاملہ آسان ہو جائے گا،6جنوری۔سپریم کورٹ نے کہا ۔منروا۔کی ملکیت آف شور کمپنیان کب اور کیسے بنیں شریف فیملی ثبوت دے ورنہ تحریک انصاف کا دعویٰ درست سمجھیں گے،مریم صفدر اور اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جس پر آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا یہاں عدالت کے دائرہ اختیار کا کوئی معاملہ نہیں ہم کوئی بھی ریکارڈ یا دستاویزات طلب کر سکتے ہیں عدالت کو بے اختیار نہ سمجھا جائے بار ثبوت ان افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے جن کے قبضہ میں جائیداد ہو، 9جنوری۔میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے درمیان تحائف کا ثبوت بھی مانگ سکتے ہیں بالخصوص ان کے بیٹے کی جانب سے 81کروڑ روپے بطور تحفہ ،سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے 16سوالات میں سے ایک کا بھی ٹھیک جواب نہیں دیا،10جنوری۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاعدالت کے سامنے ایک منتخب وزیر اعظم کو محض مفروضہ کی بنیاد پر نا اہل قرار دینے کا معاملہ ہے جو خطرناک عدالتی نظیر ہو گی،11جنوری۔پی ٹی آئی کے وکیل اور شیخ رشید کے دلائل آج مکمل ہو گئے ،شیخ رشید نے اپنے دلائل کے دوران قطری خط کو رضیہ بٹ کا ناول قرار دیا،ان کے بعد وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کیا،عدالت نے کہاکہ سیاسی جماعتیں مرضی کا انصاف چاہتی ہیں جسٹس عظمت سعید نے کہا ابھی بھی یہ تعین کرنا باقی ہے کہ لندن فلیٹس کب خریدے گئے؟12جنوری۔وزیر کے وکیل کے دلائل کے دوران آصف سعید کھوسہ نے کہا فریقین نہیں چاہتے سچ سامنے آئے اگر وزیر اعظم نے پوار سچ نہیں بتایا تو کیا یہ غلط بیانی نہیں ہو گی؟وزیر اعظم نے تو کہا تھا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو نا چائیے اور ان کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے لیکن لگتا ہے اس کھلی کتاب کے بعض صفحات غائب ہیں،(اسی پر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ایک ورکرز کنونشن میں جملے کسے تھے ۔میاں صاحب کی کتاب کے اوراق پورے ہیں اگر کسی کو نظر نہیں آ رہے تو اس کی بینائی کمزور ہے )بعض مقدمات میں دستاویزی ثبوت شواہد نہیں ہوتے ایسے مقدمات میں عدالت کو حالات و واقعات پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے وزیر اعظم کے وکیل کو عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا،جسٹس اعجازالاحسن ۔شریف فیملی کے بیانات میں تضادات ہیں وزیر اعظم کی تقریرلکھی ہوئی تھی فی البہدیہ نہیں،جسٹس افضل خان۔جان بوجھ کر کی جانے والی غلط بیانی کے نتائج سنگین ہوں گے13جنوری۔وزیر اعظم کے وکیل کے دلائل جاری رہنے کے بعد سماعت16جنوری تک ملتوی ہوئی،جبکہ BBCنے دعویٰ کیا کہ لندن فلیٹس 90کی دہائی میں نیلسن اور نیسکول نے خریدے اور اب تک ان کی ملکیت تبدیل نہیں ہوئی،16جنوری۔وزیر اعظم کے وکیل نے استثنیٰ کی بات آج پھر دہراتے ہوئے کہا ۔جہاں ریکارڈ متنازع ہو وہاں سپریم کورٹ براہ راست کاروائی نہیں کر سکتی جس پر عدالت کی جانب سے ریمارکس آئے کہ اگروزیر اعظم نے غلط بیانی نہیں کی تو استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں؟17جنوری۔معاملہ بیانات میں تضادات کا ہے وزیر اعظم کوصدر جیسا استثنیٰ حاصل نہیں جو آئین کے آرٹیکل248کے تحت صدر مملکت اور گورنر ز کو حاصل ہے برطانوی عدالت بھی کہہ چکی ہے کرپشن کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا سپریم کورٹ،جسٹس کھوسہ نے کہا۔بچے سچ بول رہے ہیں یا ان کے والد؟پارلیمانی تقریر کا بطور شواہد جائزہ لیا جا رہا ہے،جسٹس عظمت سعید۔ایک الزام ہے کہ آپ کی تقریر حقائق کے مطابق نہیں دوسرا الزام تقاریر میں تضاد اور تیسرا یہ کہ تقریر اور دستاویزات کے مؤقف میں بہت تضاد ہے،18جنوری۔حسن نواز نے والد کو52کروڑ کے تحائف دئیے یہ رقم کہاں سے آئی سپریم کورٹ،جسٹس کھوسہ۔وزیر اعظم کی تین تقاریر اور عدالت میں جمع بیانات میں بہت فرق ہے عدالت کو اعتماد میں لیا جائے بصورت دیگر بڑے سوالیہ نشان ہیں کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے یہ رقوم غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجی گئیں رقوم کی منتقلی کی تفصیلات دینا لازم ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن۔حسن نواز کی طرف سے تحفے کی رقم2002میں بھیجی گئی جبکہ جدہ سٹیل مل 2005میں فروخت ہوئی بتایا جائے حسن نواز کے سٹیل مل کے علاوہ اور کیا کیا کاروبار ہیں؟ہم رقم کا ماخذ جاننا چاہتے ہیں اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی؟رقم تحفے میں دینے کی وجوہات کیا ہیں؟حسن نواز نے ہر بار صرف والد کو ہی کیوں تحفے بھیجے؟جسٹس گلزار۔شریف خاندان کی جانب سے نواز شریف ہی جواب دہ اور ذمہ دار ہیں ،عدالت نے وزیر اعظم کی تقاریر میں تضاد کی باقاعدہ وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہیں یہ کالا دھن سفید کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی؟جماعت اسلامی کے وکیل توفیق بٹ کی جانب سے وزیر اعظم نا اہلی کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لی گئی،19جنوری۔زیر اعظم کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہامسئلہ آف شور کمپنیاں نہیں بلکہ وزیر اعظم کی نا اہلی کا ہے 20کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کو بھی دیکھنا ہو گااس کیس میں پوری قوم متفق ہے کیونکہ اس میں وزیر اعظم فریق ہیں اسی حوالے سے یہ کیس خالصتاً عوامی نوعیت کا ہے،20۔ہمین مفروضوں میں مت گھسیٹیں سپریم کورٹ،جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل شروع کئے،23جنوری۔سڑکوں پر جو ہونا تھا وہ ہو چکا ،فیصلے کا انتظار کریں سپریم کورٹ،جسٹس کھوسہ۔وزیر اعظم کی تقریر ایک تسلیم شدہ دستاویز ہے جس پر مزید شواہد کی ضروت نہیں،24جنوری۔جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل ختم جبکہ دلائل کا آغاز شاہد حامد نے کر دیے،عدالت نے آج واضح کر دیا کہ ضرورت پڑی تو وزیر اعظم کو عدالت بلایا جا سکتا ہے،25جنوری۔میاں شریف کی جائداد کے بٹوارے کی تفصیلات طلب،26جنوری۔ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے آج ایک اور قطری خط عدالت میں پیش کر دیا پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے قطری خطوط کی آمد سے ایک نئی روایت ڈال دی گئی،سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو بچوں کی جانب سے ملنے والی رقم اور بطور تحفہ تقسیم کا گوشوارہ طلب کر تے ہوئے کہاعدالت کے ذمہ بڑا کام ہے تما م آپشن کھلے ہیں ،جسٹس آصف کھوسہ۔مریم نواز نے زمین انہی تاریخوں میں خریدی تھی جن تاریخوں میں حسن نواز نے رقم تحفہ میں بھیجی،مقدمہ میں تاریخیں بہت اہم ہیں،27جنوری۔منی لانڈرنگ سے متعلق اسحاق ڈار کا اعترافی بیان طلب ،نیب نے بتایا انہیں مشروط معافی دی گئی ، 30جنوری۔سپریم کورٹ میں میاں شریف کی جائداد تقسیم کا ریکارڈ بند لفافے میں پیش کر دیاگیا جبکہ نیب نے حدیبیہ پیپرز کیس میں اسحاق ڈار کا مکمل ریکارڈعدالت کے حوالے کیا،جسٹس عظمت سعید شیخ۔کیا قطر جانے والی رقم اونٹوں پر گئی،12ملین درہم فیکٹری کے واجبات کیسے ادا ہوئے؟گلف فیکٹری تو خسارے میں چل رہی تھی پھر1ملین درہم کا منافع کیسے ہوا؟31جنوری۔قطری سرمایہ کیسے بنا نہ حسن نواز نے پوار سچ بولا۔سپریم کورٹ۔جسٹس شیخ عظمت سعید دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال داخل سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی،6فروری۔وزیر اعظم کے وکیل چھٹی پر چلے گئے،9فروری۔سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی دوبارہ سماعت کے لئے 15فروری کی تاریخ مقرر کر دی،15فروری۔کوئی فریق مکمل سچ نہیں بول رہادلدل میں دھنستے جا رہے ہیں ،سپریم کورٹ،حسن نواز کے انٹرویوز کا ریکارڈ طلب،شیخ عظمت سعید۔ادھر ادھر کی چھلانگیں نہ ماریں اصل ریکارڈ کہاں ہے ؟وہ پیش کریں دستاویز ہیں تو وہ پیش کر دیں سب باتیں مان لیں گے ایک نہ ایک دن تو سچ سامنے آنا ہی ہے،راجہ سلمان اکرم کے دلائل بھی مکمل ،16فروری۔نیب اور ایف بی آر کے چیر مین ریکارڈ سمیت طلب سخت سوالات ہوں گے،جسٹس اعجاز الاحسن۔یہ بات ہضم کرنا بہت مشکل ہے کہ اتنی جائداد لینے والا اس کا کوئی ریکارڈ نہ رکھے ،21فروری۔چیر مین نیب نے سپریم کورٹ کو ۔کورا۔جواب دیا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں دائر کروں گا،آپ نے اپنے ختیارات کو دفن کر دیا ہے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ادارے مفلوج ہونے کا یہ آئیڈیل کیس ہے چیر مین نیب کو سپریم کورٹ کی وارننگ،22فروری۔نیب وفات پا چکا اس نے وزیر اعظم سے تفتیش کا پہلو6فٹ نیچے دفن کر دیا ہے ،سپریم کورٹ،اٹارنی جنرل کے دلائل بھی آج مکمل ہو گئے جو ریاست کی بجائے فرد واحد کی وکالت کرتے رہے جس پر شیخ عظمت سعید کو کہنا پڑا کہ آپ بطور اٹارنی جنرل دلائل دیں پارٹی نہ بنیں،ہم نے تمام سوال سیدھی طرح پوچھے مگر کوئی جواب نہیں دے رہاانالزامات کو لے کر کہاں جائیں صرف جواب مانگ رہے ہیں،23فروری ۔پانامہ کیس کی اخری سماعت پر عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ۔پانامہ کیس فیصلہ محفوظ ،ہر پہلو کا جائزہ لے کر تفصیلی فیصلہ جاری کریں گے،عدالت نے قرار دیا کہ پانامہ کیس ایسا فیصلہ نہیں کہ مختصر فیصلہ سنا دیں فیصلہ عقل و دانش کے مطابق رکیں گے،ہم نے اللہ کو جان دینی ہے ،عدالت نے ہمیشہ غیر متنازعہ حقائق پر فیصلے کئے اور یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے ،یہ مقدمہ ٹرائل نوعیت کا نہیں تھا،اس لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا۔ایسا فیصلہ دینا چاہتے ہیں جسے 2سال بعد بھی درست مانا جائے،قارئین سچ کی تلاش کا یہ سفر جاری ہے دعا کریں وہ کبھی تو سامنے آئے۔۔۔