-،-ہائے پروٹوکول ۔۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی-،-

prof.Abdullah

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
سورج دیوتا سوا نیزے پر آکر زمین پر آگ کے گو لے برسا رہاتھا گرمیوں کا بھر پو ر آغاز ہو چکا تھا شہر کی سڑکوں پر حسب معمول ٹریفک کا سیلاب اُمڈا ہوا تھا میں دوپہر کے وقت اپنے دوست کو الوداع کر نے ائیر پو رٹ جانے کے لیے نکلا ہوا تھا میں گا ڑیوں کے ہجوم میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا ۔ میرے اطراف سینکڑوں گاڑیاں رکشے بسیں اور موٹر سائیکلیں چل رہی تھیں ‘ٹریفک کا اژدھام تھا بمپر سے بمپر اور لا ئٹ سے لائٹ چپکی ہو ئی تھا ٹریفک جو پہلے آہستہ چل رہی تھی اب بلکل ہی بند ہو گئی تھی گا ڑیوں کے ہا رنوں کا طوفان بد تمیزی جا ری تھا جب ٹریفک کا فی دیر حرکت میں نہ آئی تو ڈرائیور گاڑی سے نیچے اُترا اور انسانوں کے سیلاب میں گم ہو گیا میں نے گرمی سے ڈرتے ڈرتے شیشہ نیچے کیا تو جھلسا دینے والی لُو نے میرے چہرے کو جھلسا کر رکھ دیا با ہر شور ہی شور ‘ہارن ہی ہارن بج رہے تھے تھوڑی دیر میں پریشان شکل کے ساتھ ڈرائیور صاحب نے آکر اطلا ع کا میزائل یہ ما را کہ کو ئی اہم شخصیت گزرنے والی ہے اِس لیے پروٹوکول لگا ہے میرے پیچھے چند گاڑیوں کے پیچھے ایمبولینس جو کہ مریض کو جلدی ہسپتال لے جانے کے لیے مسلسل سائرن بجا رہی تھی میں جلدی با ہر نکلا تا کہ اُس مریض کی مدد کی جاسکے لیکن ٹریفک تو اب بند ہو چکی تھی ایمبو لینس کے اندر کو ئی عورت اپنے میاں کے ساتھ بیٹھی تھی جو بار بار پریشان اور مدد طلب نظروں سے دائیں با ئیں دیکھ رہی تھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اُس کے چہرے کی زردی اور خو ف میں اضافہ ہو تا جا رہا تھا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کس طرح اڑ کر اپنے میاں کو ہسپتال پہنچا دے اوپر سے سورج کی گرمی نیچے سے تا رکول کی گرم سڑک ہم شاید کسی دہکتے ہو ئے تنور میں سانس لے رہے تھے عورتیں بچے سراسمیگی کے عالم میں دائیں با ئیں دیکھ رہے تھے شدید پیاس سے عورتوں اور بچوں کا بر احال تھالو گ بار بار گھڑیاں اور مو بائل فون پر وقت دیکھ رہے تھے ‘کئی مو بائل فون اپنے کانوں سے لگا ئے اپنے پیا روں کو اطلا ع دے رہے تھے لوگوں کی اخلا قیات جواب دے چکی تھیں صبر کے پیمانے لبریز ہو چکے تھے ایمبولینس میں بیٹھی خا تون نے با ہر آکر دھا ڑیں مار کر رونا شروع کر دیا آخر نوجوانوں نے مریض کو با ہر نکا لا موٹر سائیکل پر بیٹھایا اور فٹ پا تھ پر دوڑ لگا دی نوجوان بیچارے کو شش کر رہے تھے کہ کسی طرح مریض کو ہسپتال پہنچایا جا سکے ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے ہو ں گے کہ آگے فٹ پا تھ پر گاڑیاں چڑھتی نظر آئیں اب وہ رکنے پر مجبور تھے کہ اب کیا کریں ٹریفک میں پھنسا ہر انسان حکمرانوں کو برا بھلا کہہ رہا تھا کہ ان کی وجہ سے ہم ذلیل ہو رہے ہیں میں نے ٹائم دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ میں دوست کو الوداع نہیں کر سکوں گا لہذا اب نہ میں ائیر پو رٹ اور نہ ہی گھر واپس جا سکتا تھا اب میرے پاس صبر کے علا وہ اور کو ئی چارہ نہ تھا اور پھر کا فی دیر بعد پروٹوکول سائرن کی آواز آئی اب گاڑیوں کا لشکر ہارن بجاتا سنسان سڑک کو انجوائے کر تا ہوا گزرنا شرو ع ہوا پو لیس اور پروٹوکول کی گاڑیاں پھر صاحب اقتدار لوگوں کی جہازی گاڑیاں گزرنے لگیں اب جیسے ہی ٹریفک کھلی تو گاڑیاں پھر حرکت میں آگئیں پاکستانی قوم کا جلد باز مزاج اب سامنے آیا مو ٹر سائیکل سواروں نے اندر گھس گھس کر آگے نکلنے کی کو شش شروع کر دی ہر گاڑی والا جلدی میں تھا اُس نے دوسروں سے پہلے جانے کے لیے بے ترتیبی سے گاڑیاں آگے لے جانے کی کو ششیں شروع کر دیں اِن کی ان حرکتوں سے رہا سہا نظام بھی بے ترتیبی میں بدل گیا اب چند بھڑکیلے لوگوں نے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیا ٹریفک پو لیس والے تھوڑی دیر تو ٹریفک کو بحال کر نے کی کوششوں میں لگے رہے لیکن جب لوگوں نے ان سے تعاون نہ کیا تو وہ بھی مو قع سے فرار ہو گئے اب بے لگام انسان جانوروں کی طرح ایک دوسرے سے بھڑ رہے تھے گالی گلوچ کا بازار گرم تھا ہر کو ئی خو دکو پاکستان کا مالک اور بڑا بدمعاش سمجھ کر دوسرے کو روند کر آگے بڑھنے کی کو شش کر رہا تھا اسی دوران ایک گا ڑی جو بند تھی اُس نے سٹارٹ ہو نے سے انکار کر دیا اب اُس کا ساکن ہو نا بھی ٹریفک کو اور زیا دہ الجھا رہا تھا ہمیں سڑک پر پھنسے ہو ئے ڈیڑھ گھنٹے سے زیا دہ کا وقت ہو چکا تھامیں سوچ رہا تھا اِ س ڈیڑھ گھنٹے میں کتنے انسانوں کو مردہ لوگوں میں تبدیل کیا ہو گا وہ مریض جو مو ت سے چند منٹ کے فاصلے پر ہو گا جن کو بر وقت طبی امداد دے کر بچایا جا سکتا تھا اُن کے ساتھ کیا بیتی ہو گی انٹرویو پر جانے والوں کی کیا حالت ہو تی ہو گی امتحان میں جا نے والے طالب علم کس طرح اِس پل صراط پر لٹکے ہوئے ہوں گے ریلوے ائیرپورٹ پر جا نے واے کتنے مسافر اپنی ٹکٹوں سے ہا تھ دھو بیٹھے ہو نگے اُن کے جہاز اور ٹرینیں اُن کے جانے سے پہلے ہی جا چکی ہو نگی غریب عوام کے کتنے پیسوں کا نقصان ہو چکا ہو گا گھر سے نکلنے والا ہر بندہ اپنے پو رے دن کا شیڈو ل بنا کر رکھتا ہے اُس کے سارے دن کا روڈ پر بری طرح ستیا ناس ہو چکا تھا اُس کے سارے پروگرام ختم ہو چکے ہو نگے حکمران جب پر تعیش بڑی جہازی گاڑیوں میں سنسان سڑکوں پر برق رفتاری سے سفر کرتے ہیں تو ان کو بے زبان انسان نظر نہیں آتے جو گھر سے اپنی منزل پر جانے کے لیے نکلتے ہیں لیکن اِس پروٹوکول کی بد ولت زندگی اور مو ت کے کھیل سے گزرتے ہیں وطن عزیز کی تاریخ میں آپ دیکھ لیں جب بھی کو ئی سیاستدان اقتدار پر نہیں ہو تا تو وہ سادگی اور پروٹوکول کے نہ ہو نے کی با ت کر تا ہے لیکن اُسی سیا ستدان کو جب ہم مسند اقتدار پر جلو ہ افروز دیکھتے ہیں تو وہ ما ضی کی تمام با تیں بھول کر پرانے حکمرانوں کے رنگ میں رنگا نظر آتا ہے ہما رے حکمران اقتدار میں آکر خو دکو خلفاء راشدین کے جانشین قرار دیتے ہیں تویقین جانئے اِن کی عقل پر ما تم کر نے کو دل کر تا ہے اِن کی اطلا ع کے لیے عرض ہے کہ یا رغار حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خلا فت سنبھا لنے کے بعد اپنے کندھے پر کپڑے کا تھان رکھا اور بازار کا رُخ کیا تو لوگوں نے پو چھا یا امیر المومنین آپ کدھر جا رہے ہیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ بولے مزدوری کر نے کپڑا بیچنے اور پھر تا ریخ انسانی کے سب سے بڑے حکمران جن کے با رے میں غیر مسلم بڑے سے بڑا نقا د بھی یہ کہتا ہے کہ اگر کو ئی اعظم تھا تو وہ حضرت فاروق اعظم ؓ جن کی سلطنت کئی ملکوں میں پھیلی ہو ئی تھی جب اپنی خلا فت کے دور میں دو پہر تیز دھوپ گر می میں بیت المال کے اونٹ ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو لوگوں نے کہا یا امیر المومنین یہ کام آ پ کا نہیں غلاموں کا ہے تو فاروق اعظم ؓ بو لے امت کا مجھ سے بہتر خادم اور کون ہو سکتا ہے کیا تا ریخ انسانی کے سب سے بڑے حکمران اِسطرح پروٹوکول کے جلو میں نکلتے تھے بلکل نہیں اور ہما رے حکمران جن کے نا مہ اعمال اُ ن کی سیا ہ کاریوں سے بھر ے پڑے ہیں جب عوام کی دولت لوٹ کر الیکشن جیت کر مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہو تے ہیں تو یہ سورج کو بجھنے کا حکم دیتے ہیں اور ہوا ؤں کو رُخ تبدیل کر نے کا کہتے ہیں لیکن اس عوام کش نظام میں ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام پر شکنجہ کسا جا رہا ہے آپ حکمرانوں کی کو ئی آسائش اگر دیکھ لیں تو اُس کی جڑوں میں غریب عوام کا لہو ہی نظر آئے گا عوام کو تکلیف دے کر حکمرانوں کو خو شی حاصل ہو تی ہے اگر آپ غور سے دیکھیں تو یہ ثابت ہو تا ہے کہ حکمران اپنی آسائش کے لیے عوام کو اذیت دیتے ہیں عوام جیتے ہیں یا مر تے ہیں حکمرانوں کو اِس سے کچھ غرض نہیں ہے وہ اپنی زندگیوں کو پر آسائش بنا نے کے لیے غریب عوام کو بڑی سے بڑی مشکل میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے پرو ٹوکول اور سکیو رٹی پوری دنیا میں ہو تی ہے لیکن عوام کی زندگی اجیرن بنا کر نہیں ‘حکمران جب بڑی جہا زی گا ڑیوں میں سنسان سڑکوں پر بر ق رفتاری سے گزرتے ہیں تو اُس وقت انہیں دائیں با ئیں کھڑے لوگ ‘گا ڑیا ں اور عوام کی آہیں ‘سسکیاں ‘چیخیں ‘بد دعائیں ‘جھولیاں پھیلا کر آسمان کی طرف دیکھتی نگاہیں نظر نہیں آتیں اور جب کسی غریب کی آہ عرش عظیم سے ٹکڑا جاتی ہے تو کا ئنا ت کا اکلوتا وارث زمینی حکمرانوں کو کیڑے مکو ڑوں کی طرح روند ڈالتا ہے ۔