۔،۔ایک اور چھکا۔اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی-،-

ash

اے آر اشرف

یہ کہاوت تو آپ سب نے سُن رکھی ہو گی کہ۔۔آسمان سے گِرا کھجور میں اٹکا۔۔یعنی ابھی ایک مصبت سے جان چھوٹی نہیں تھی کہ دوسری آن پڑی ہے مطلب یہ کہ ابھی قوم پانامہ کی دلدل سے نکل نہ پائی تھی کہ کپتان نے ایک اور چھکا لگا دیا ہے جو اگرچہ ابھی تک فضا ہی میں اٹکا ہوا ہے اور حکمران جماعت کے متوالے اسے کیچ کرنے کی کوشش میں بھاگ بھاگ کر ہلکان ہو رہے ہیں اور کپتان کو اس طرح سیاست سے اوٹ کرنے کے سپنے دیکھ رہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے جنونی کپتان کو ہر صورت وکٹ پر براجمان دیکھنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بھی اپنے مورچہ سنبھال لئے ہیں اور اُنہون نے بھی وزیراعظم میاں نواز شریف سے استعفےٰ کا مطالبہ کر دیا ہے اور وہ بھی ہر جگہ۔۔گو نواز گو۔۔کے نعرے لگا رہے ہیں بلکہ اس ایشو پر تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ایک ہی ہے اُدھر جوئے کے عادی مریضوں نے بھی اس چھکے پر بڑی بڑی رقوم کا جوا کھیل رکھا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ۔ ۔ہما۔۔وہ فرضی پرندہ جس کے بارے میں مشہور ہے کے وہ جس کے سر پر بیٹھ جائے وہ بادشاہ بن جاتا ہے یا پھر اُسکے وارے نیارے ہو جاتے ہیں اگر تو یہ پرندہ کیچ کرنے والوں کے سر پر سایہ آفگن ہوتا ہے تو پھر یقینا۔نون لیگ ہی ۲۰۱۸ کے انتحابات میں کامیاب ہو گی اور اگر چھکا کیچ نہ ہوا تو پھر جناب عمران خان کے مقدر کا ستارہ چمک سکتا ہے مگر یہ ماننا پڑے گا کے اس چھکے نے ساری قوم کو ورطہ حیرت میں ضرور ڈال دیا ہے۔ جناب عمران خان نے الزام لگایا ہے کے میاں شہباز شریف نے پانامہ کیس سے دست برداری کی صورت میں اُسے دس ارب دینے کی پیش کش کی تھی اگر تو جناب عمران خان کا یہ الزام درست ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ۔۔بڑے میاں سو بڑے میاں۔چھوٹے میاں سبحان اللہ۔۔ اگر جناب عمران خان یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کپتان کے اس چھکے کو تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے دوسری جانب شریف برادران نے جناب عمران خان کے اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اُس شخص کا نام بتائیں جس کے ذریعے اُنہیں دس ارب روپے کی پیش کش کی گئی تھی اُنہوں نے اس سلسلہ میں کپتان کو قانونی نوٹس بھجوانے کی بھی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جناب عمران خان سات روز کے اندر اُس شخص کا نام ظاہر کریں ورنہ قانونی کاروائی کے لئے تیار ہو جائیں،جبکہ جناب عمران خان نے اسلام آباد میں ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت میں پہلے اُس شخص اور اس کے خاندان کے جان و مال کی حفاظت کی عدالت سے ضمانت لیں گے اور پھر اُس شخص کا نام ظاہر کرینگے دوسری جانب خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جناب عمران خان مجھ پر لگائے الزام کو ثابت کر دیں تو میں نہ صرف سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دستبردار ہو جاؤنگا بلکہ قوم سے اس کی معافی بھی مانگو گا۔اقتدار کا نشہ بھی کیا عجیب نشہ ہے کہ انسان اس پر اپنی عزت نفس اور جان و مال یعنی ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہو جاتا ہے مگر اقتدار کی کرسی کو چھوڑنا پسند نہیں کرتا پانامہ کے سکینڈل نے دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا جس کی بنا پر بہت سارے حکمرانوں نے کرسی اقتدار کو لات مار کر از خود اپنے آپ کو اختساب کیلئے پیش کر دیا تھا اور اُن ممالک کی عوام نے سکھ کا سانس لیااور اپنے معمولات کاسامنا روزمرہ کی طرح کرنے لگ پڑے لیکن کشور خدا داد پاکستان میں پانامہ کے ہنگامے نے اسقدر زور پکڑا کہ اس کا شور جگہ جگہ سُنائی دینے لگا اور آخرکار یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ گیا اور اب ایک لمبے انتظار کے بعد عدالت عظمیٰ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ بھی ایسا ہے کہ دونوں فریق اسے اپنی اپنی فتح قرار دیکر آپس میں میٹھائیاں بانٹ رہے ہیں لیکن لگتا یوں ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کا ستارہ ابھی گردش میں ہی ہے ابھی پانامہ کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل بھی نہیں پائی تھی جناب عمران خان کے دس ارب والے۔۔چھکے۔۔کاشور برپا ہو گیا اور ابھی عوامی حلقوں میںیہ بحث جاری ہی تھی کہ وزیراعظم ہاوس سے ڈان لیکس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا جسے پاک افواج کی جانب سے یہ کہہ کر یکسر مسترد کر دیا گیا کہ یہ نامکمل رپورٹ ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر آنے میں کتنا وقت لیتی ہے اور عمران کا ۔۔چھکا۔۔کیچ کرنے میں نون لیگ متوالے کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ہم تو بس اپنے وطن کیلئے دعا گو ہیں کہ خدا کشور خدا داد کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین