-،-شرمناک ہندو انتہا پسندی اور سجن جندال ( پہلو ۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
بھارتی ریاست آسام کے علاقہ میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے چوری کے الزام میں دو مسلمان نوجوانوں ابوحنیفہ اور ریاض الدین کو پیٹ پیٹ کر وحشت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیاان پر الزام لگایا گیا کہ وہ کامساہاری کے پاس ایک مخصوص چراہ گاہ سے گائے چوری کر کے لے جا رہے تھے،اس سے قبل راجستھان سے گائے لانے والے ہریانہ کے ایک تاجر کو گؤ رکشوں نے اسی طرح ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا،انڈین ریاست گجرات میں نئے قانون کے مطابق گؤ کشی کی سزا عمر قیدہے،انڈیا کی وسطی ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راج سنگھ قانون ہاتھ میں لینے کے حق میں ہیں ان کے مطابق انسانی جان کی قیمت گائے کی قیمت سے زیادہ نہیں انہوں نے ہی 1999میں بابری مسجد کی جگہ ایودھیا مندر کی تعمیر اور گؤ رکشا (گائے کے تحفظ )کے لئے ۔شری رام بھاسینا گؤ رکشا دل ۔نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور گائے کے ذبیحے کے خلاف تحریک چلائی،( بابری مسجد کے شہادت کے وقت ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو سزا دینے کی بجائے راجستھان کا گورنر بنا دیا گیا) مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوتی انتہا پسندی اور مظالم کے خلاف بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ سب سے آگے ہیں،صوبہ اتر کھنڈ کے پوراسی گڑھوال ضلع کے پنچوڑ نامی گاؤں میں پیدا ہونے یوگی کا اصل نام آنند سنگھ جو ایک فارسٹ رینجر کے بیٹے ہیں،دوران تعلیم یوگی نے کٹر ہندو قوم پرستی کی علمبردار بھارتی جنتیا پارٹی جو1980 میں قائم کی گئی میں شمولیت اختیار کی،اٹل بہاری واچپائی ،لعل کرشن ایڈوانی اور نریندر مودی کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے،2002میں صوبہ گجرات میں بی جے پی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا،2014کے جنرل الیکشن میں یہ بھارت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ابھر کر سامنے آئی، پاکستان سے زائد آبادی پر مشتمل ریاست اتر پردیش جو لاہور سے تقریباً711کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے المعروفUPآبادی کے لحاظ سے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اور رقبہ کی مناسبت سے انڈیا کی پانچویں بڑی ریاست ہے،75 اضلاع پر مشتمل اس ریاست کا دارلخلافہ لکھنؤ جبکہ بڑی عدالت الہ آباد میں ہے،دریائے گنگا کے انتہائی زرخیز اور گنجان آباد میدانوں پر پھیلی ہوئی اس ریاست کی سرحدیں نیپال کے علاوہ بھارتی ریاستوں ہما اچل پردیش،ہریانہ ،دہلی ،راجستھان،مدھی پردیش،جھاڑ کھنڈ اور بہار وغیرہ سے ملتی ہیں،اتر پردیش قدیم اور وسطی بھارت کی طاقتور ترین سلطنتوں کا گھر تھا،اسی ریاست میں تاریخی مذہبی اور سیاحتی مقامات آگرہ ،وارالنسی،رائے بریلی،کوسانبھی،بلیا،شراوستی،گورکھپور،چوری چوراکشنی نگر،لکھنؤ،جھانسی،الہ آباد،دہلی،بدیوال،میرٹھ،متھرا،مظفر نگر اور شاہجہاں پورشامل ہیں،زراعت کے شعبہ میں بھی یہ مقام بے حد اہمیت رکھتا ہے بھارت میں ہر پانچ فروخت ہونے والے ٹریکٹروں میں سے ایک اسی ریاست میں بکتا ہے،یہ ریاست ملکی اناج کاکل 5واں حصہ پیدا کرتی ہے ،یہ ریاست بھارت کی تیسری بڑی معیشت ہے ،شمالی بھارت کے2150کلومیٹر طویل دریائے گنگا جوہندو مذہب میں اہم ترین حیثیت کا حامل اور جسے مقدس سمجھتے ہوئے اس کی پوجا کی جاتی ہے ،الہ آباد کے مقام دریائے گنگا اور جمنا ایک ہو جاتے ہیں ہندو دھرم کے نزدیک اس جگہ کو بہت متبرک خیال کیا جاتا ہے،850میل طویل دریائے جمنا کوہ ہمالیہ سے نکلتا ہے اور جنوب کی جانب بہتا ہوا الہ آباد تک پہنچتا ہے،دہلی ،ہرندوان،متھرا اور آگرہ گنگا جمنا کے کنارے ہی آباد ہیں الہ آباد سے متھرا تک اس میں کشتیاں چل سکتی ہیں،گنگا جمنا شمالی بھارت اور بنگلہ دیش کے علاقہ میں ایک عظیم اور زرخیز خطہ تشکیل دیتے ہیں اس علاقہ میں آبادی کی کثافت دنیا میں سب سے زیادہ ہے روئے زمین پر موجود ہر بارہواں شخص جو دنیا کی کل آبادی کا 8.5فیصد ہے اسی جگہ رہتا ہے،ریاست اتر پردیش میں ہندو آبادی79.73فیصد،مسلمان19.26فیصد باقی کا تعلق سکھ،بدھ شٹ وغیرہ شامل ہیں،1989تک اس ریاست میں کانگریس بر سر اقتدار رہی اس کے جنتا دل،سماج پارٹی ،بھوجن سماج اور بھارتی جنتیا پارٹی کی جھولی میں اس ریاست کا اقتدار چلا آ رہا ہے،ہندو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے یوگی ادتیہ ناتھ اس ریاست کا 21واں وزیر اعلیٰ ہے جس کے اقتدار میںآتے ہی مسلمانوں کی زندگی اس خطہ میں مزید اجیرن بن چکی ہے،اب اس حکومت نے جمعتہ الوداع ،عید میلادالنبیؐ سمیت کئی سالانہ تعطیلات ختم کر دی ہیں،سیات میں یوگی آدتیہ کی شناخت ایک فائر برانڈ ہندو کے طور کی جاتی ہے،انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز بیانات سے کیا،انہوں نے انتہا پسند ہندو نوجوانوں پر مشتمل ۔ہندو یوا واہنی۔نامی ملیشیا کی بھی بنیا رکھی یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو باالخصوص ہندو مخالف سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے میں اپنی مثال آپ ہے، ان کے مطابق ۔اگر ان کا بس چلے تو ملک کی تمام مساجد کے اندر ہندو دیوی ،دیوتاؤں کی مورتیاں رکھوا دوں۔پوری دنیا میں بھگوا(ہندو )پرچم لہرا دوں۔مکہ اور مدینہ میں غیر مسلم نہیں جا سکتا ،ویٹیکن میں غیر عیسائی نہیں جا سکتا تو پھر ہندو مقام دنیا میں سب سے بہتر،مقدس اور اعلیٰ ہے جہاں ہر کوئی آ جا سکتا ہے،کہا ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کرانے پر ہم100مسلمان لڑکیوں کو ہندو دھرم میں لائیں گے ایک ہندو کے قتل میں بھی 100مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے گا،دوسرے الفاظ میں ہندوستان میں گائے تو محفوظ ہے مگر انسان غیر محفوظ ہے ،گائے کے پوچاریوں کے حوالے سے عالمی رپورٹ کہتی ہے۔ایشیاء میں سب سے زیادہ گائے کا گوشت انڈیا سے ہی برآمد کیا جاتا ہے،چیف جسٹس آف ہندوستان کے ان ریمارکس پر بھی انتہا پسند ہندو بہت سیخ پا ہیں ۔بھارت کا نام ہی۔گائے کی ریاست ۔رکھ دیا جائے،بھارت کی سب سے بڑی ریاست میں انتہا پسند نریندر مودی اور اسی کی جماعت کے خبیث یوگی نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی جا رہی ہے،مودی کا ہی یار غار جو اتفاق سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا بھی دوست ہے،چند روز قبل رات کے وقت سجن جندال کابل سے اپنے دو ساتھیوں سوکیت سنگال اور وریندر ببر سنگھ کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے پر اسلام ائیر پورٹ اترے جہاں حسن نواز اور راحیل منیر نے ان کا استقبال کیا اور بغیر ویزہ کے مری روانہ ہو گئے(چودہدری شجاعت بطور وزیر اعظم انڈیا گئے مگر انہیں ان کی مرضی مطابق ایک جگہ نہ جانے دیا گیااسی طرح سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس بھگوان داس کو بھی واہگہ بارڈر پر روکا گیا تھا) جہاں نواز شریف ان کے منتظر تھے جندال نواز ملاقات کسی کمرے کی بجائے لان میں ہوئی تاکہ گفتگو راز ہی رہے ،ہندوستان ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے اس ملاقات سے دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں کشمیر پر مذاکرات سے بریفنگ دی علاوہ ازیں سارک کانفرنس سے متعلق اور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں الائنس کا ٹاسک سجن جندال کو سونپا گیا ان کی یہ ملاقات اسی سلسلہ کی کڑی تھی ترکی کے صدر طیب اردزدگان کا کشمیر سے متعلقہ بیان کی ٹائمنگ بھی اسی سے ملتی ہے ، بھارت کے سٹیل ٹائیکون سجن جندال کے اس متنازع دورے کے حوالے سے دفتر خارجہ نے چپ سادھ رکھی ہے جبکہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی کمیٹی بھی اسے زیر بحث لایا گیا مگر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور ان کی ٹیم شرکاء کے سوالوں کا جواب نہ دے سکے،اطلاعات کے مطابق نواز شریف اور مودی کے مشترکہ دوست نے ممکنہ طور پر بیک ڈور چینل رابطوں کے سلسلے میں پاکستان کا یہ مختصر دورہ کیا،سجن جندال کا خاندان بھارت کا 19واں امیر ترین خاندان ہے جس کا سٹیل کاروبار دنیاکے متعدد ممالک میں پھیلا ہوا ہے،ان کا بھارت کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی بڑا اثرو رسوخ ہے جندال کی کمپنی JSWدنیا کی چھٹی بڑی سٹیل مینو فیکچرنگ کمپنی ہے،سجن جندال کے دورے کو اس لحاظ سے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ ان کی آمد سے ایک روز قبل بھارتی جاسوس کلبھوشن یا دیوبھارتی ہائی کمیشن گوتم بمبانوائے نے ۔را۔سے تعلق رکھنے ایجنٹ کی سزا کے خلاف دفتر خارجہ میں اپیل دائر کی تھی لیکن اس دورہ کو مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی صورت حال سے زیادہ منسلک کیا گیا،سجن جندال نے 2014میں کھٹمنڈو میں منعقدہ سارک کانفرنس کے دوران نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ایک خفیہ میٹنگ کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا،چند سال قبل سٹیل تھارٹی آف انڈیا کی سربراہی میں قائم کمپنیوں کے افغان آئرن اینڈ سٹیل نامی کنسورشیم نے جس میں جندل گروپ کے سب سے زیادہ حصص ہیں افغانستان کے صوبے بامیان میں خام لوہا نکالنے کی کامیاب بولی لگائی تھی، پاکستان کے زمینی راستے سے گذر کر وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچنا بھارت کا دیرینہ خواب ہے، یہ امر بھی بہت حیران کن ہے کہ جغرافیائی مجبوریوں کے باوجود بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا ۔دوستیاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔بھارت دشمنی حدوں کوچھو رہی ہے اور دوسری جانب دوستی بھی۔ہم جیسے کلبالتے رہیں گے مگر یہاں معاملات ۔فکس۔ہونے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔۔