-،-دال میں کالا -ایم سرور صدیقی-،-

jka

ایم سرور صدیقی

صدیوں پہلے عظیم فلاسفر افلاطون نے کہا تھا سیاست سے کنارہ کشی کا مطلب ہے تم پرکمترلوگ حکومت کریں اس کا کہا سچ ثابت ہوا آج اقتدار میں کمتر ہی نہیں کمینے لوگ بھی آگئے ہیں جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت کو یرغمال بنالیا ہے ان کو ملک، قوم،آئین ،قانون،جائز ناجائزسے کوئی غرض نہیں فقط اپنا فائدہ عزیزہے اور اس فائدے کیلئے کسی بھی حد سے گذر جانے کو تیارہیں غورکریں تو یہی لوگ وطنِ عزیز میں مسائل ہی نہیں فسادکی جڑ ہیں شنیدہے علامہ اقبالؒ ایک پیر صاحب کے مہمان تھے خاصے عقیدت مند اردگرد جمع تھے جو ایک ایک کرکے پیرصاحب کے پاس آتے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اپنا مسئلہ بیان کرتے پیرصاحب کی دعا لیتے رخصت ہوجاتے کئی کچھ نذر نیاز بھی پیش کرتے کافی دیر تک یہ سلسلہ چلتارہا اکثر عقیدت مندوں کی حالت ان کے کپڑوں اور ظاہری صورتِ حال سے عیاں تھی علامہ اقبالؒ بڑی دلچسپی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اسی اثناء میں ایک شخص اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ د عاکے لئے پیرصاحب کے پاس آیا جھک کر عقیدت سے ان کے پاؤں کو چھوا ۔ہاتھوں کو بوسہ دیکر100روپیہ نذر کیا پھر وہ اور اس کی بیوی دونوں رونے لگ گئے پیرصاحب نے بڑے پیارسے دونوں کے سرپرہاتھ پھیرا مسئلہ پوچھا وہ شخص روتے ہوتے کہنے لگا پیر صاحب دعا کریں ہمارا5000کا قرض اتر جائے لینے والے نے بہت ذلیل کیا ہوا ہے۔ علامہ اقبالؒ سے نہ رہا گیا انہوں نے کہا پیرصاحب دعاپانچ ہزار ایک سو کے لئے کریں یہ غریب آپ کے درپر حاضری کیلئے100روپیہ بھی قرض لے کرہی آئے ہوں گے(ہم کو میسرنہیں مٹی کا دیا بھی–ہے پیرِ مغاں کا گھر قمقموں سے روشن )علامہ اقبالؒ کا یہ شعر ایسی صورِ ت حال کی عکاسی کرتاہے آج کے حالات دیکھیں تو لگتاہے موجودہ جمہوری حکومت اسی شعرکو نافذکرنے پر تلی ہوئی ہے اربوں ڈالرکے قرضے لینے کے باوجود اگر پھر بھی پاکستان دیوالیہ ہونے کو ہے تو حکمرانوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے غلطیاں کہاں ۔ کیسے اورکیوں ہورہی ہیں؟ پہلے پہل تو محض احساس تھا اب تویقین ہوچلاہے کہ حکمران سوچتے ہی نہیں ہیں آج قومی اثاثے فروخت کرنے کی بات بڑی شد و مدسے کی جارہی ہے اس کے حق میں رات کو دن ،،اور دن کو رات ثابت کرنے والوں نے دلیلوں کے انبار لگادئیے ہیں کہ ایسے لوگ ہمیشہ مزے میں رہتے ہیں جن کا مسلک ہے ہو چلو ادھرجدھرکی ہوا چلے۔کوئی پوچھنے کی جسارت کرسکتاہے کہ حضور دنیا میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہوکرتاریخ کا نیا ریکارڈقائم کر چکی ہیں اور آپ نے عوام کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے حج اور عمرے کے اخراجات میں ہزاروں کا اضافہ کردیا یار کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے جو پاکستانی بچے ابھی دنیا میں نہیں آئے اپنی پیدائش سے پہلے ہی ایک لاکھ پچیس ہزار کے مقروض ہیں پھر بھی ملک دیوالیہ ہونے کی باتیں ہمارے پیارے وزیرِ خزانہ نے دوسال پہلے ایسا کمال کردکھایا پوری دنیا میں آج تک ان کی ’’ذہانت ‘‘ دور اندیشی اورسمجھ داری کی واہ،واہ ہورہی ہے انہوں نے دنیا کی تاریخ کا منفرد قرضہ لے کرتاریخ میں اپنے آپ کو’’ امر‘‘کرلیاہے جتناقرضہ لیاگیا 4سال بعد اصل رقم سے زیادہ واپس کرنے کا معائدہ یا باری تعالیٰ تو توقادرِ مطلق ہے تو تو دلوں کے بھید بھی جانتاہے تو ہی بتاپہ پاکستان کے ساتھ ہو کیارہاہے؟ حاتم طائی کی قبرپر لات مارنے والے وزیرِ خزانہ نے آج تک وضاحت نہیں کہ ان کڑی شرائط پر یہ قرض لینے کی ضرورت کیا تھی اور اتنی بڑی رقم کا کیا ہوا؟ کون سے منصوبے پر صرف ہوئی؟۔ہاں یاد آیامیاں نوازشریف کو تیسری بار وزیرِ اعظم بننے کے فوراً بعد برادر ملک سعودی عرب نے کروڑں ریال تحفے میں دئیے جس سے نہ صرف حکومت کو اقتصادی سنبھالا ملا بلکہ امریکن ڈالر کے مقابلہ پاکستانی کرنسی کو استحکام نصیب ہوا یہ بھی آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ اتنی خطیررقم پاکستان کو کیونکردی گئی؟ اور اس سرمائے سے کون سے منصوبے پای�ۂ تکمیل تک پہچائے گئے؟ عوام کی حاکمیت جمہوریت کا اصل حسن ہے یہ احساس خوشگوارہے کہ اب پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں لیکن جب تک جمہوریت اشرافیہ کی لونڈی بنی رہے گی ملک میں جمہوریت رہے یا ڈکٹیٹر آئیں کیا فرق پڑتاہے حکمرانوں کی کوشش ہونی چاہیے کہ جمہوریت کے ثمرات سے عوام تک پہنچیں مہنگائی ،بیروزگاری،کرپشن کا خاتمہ ، امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے صحت ،تغلیم اور بنیادی حقوق سب کیلئے یکساں ہوں تو ایک روشن مستقبل کی بنیادررکھی جا سکتی ہے مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہر پاکستانی حکومت کا دامن ان ترجیحات سے خالی ہے اس کے اللے تللے ہی ختم نہیں ہوتے پوری دنیا میں شاید سب سے زیادہ پروٹوکول ہمارے حکمرانوں کاہے جس کی وجہ سے سرکاری اہلکار اپنی اصل ڈیوٹی دینے کی بجائے حکومت میں شامل اشرافیہ کے’’ بیگارکیمپوں‘‘میں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ جب بھی چاروں صوبوں کی کسی بھی اسمبلی یا سینٹ میں ارکان کی تنخواہ اورمراعات دگنی کرنے کا بل پیش کیا گیا مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نے اس بل کی مخالفت نہیں کی اسے کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو۔ کسی نے درست ہی کہاہے جمہوریت سیاسی پارٹیوں کے مک مکا کا نام ہے ۔صدیوں پہلے عظیم فلاسفر افلاطون نے کہا تھا سیاست سے کنارہ کشی کا مطلب ہے تم پرکمترلوگ حکومت کریں اس کا کہا سچ ثابت ہوا اب اقتدار میں کمتر ہی نہیں کمینے لوگ بھی آگئے ہیں۔ آج سرکاری اداروں کی نجکاری کیلئے حکمران بڑا زور دے رہے ہیں پی آئی اے ،سٹیل ملزسمیت کئی قومی ادارے بیچنے کی تیاریاں زوروں پرہیں ماضی میں بھی کئی منافع بخش ادارے اونے پونے فروخت کئے جا چکے ہیںPIAکو حکمران اس لئے بیچنا چاہتے ہیں کہ یہ خسارے میں جارہی ہے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ہر ملک کی اپنی ایک ایئر لائنزہوتی ہے جو اس دنیا بھر میں اس ملک کی شناخت کا سبب بنتی ہے حکمران اس شناخت کی نجکاری کررہے ہیں جبکہ میٹرو بس کو سالانہ اربوں روپے سبسٹڈی دی جارہی ہے اور مالٹا ٹرین پراخراجات کا تخمینہ300ارب لگایا جارہاہے پھر اس کو چلانے کے لئے بھی سالانہ اربوں روپے سب سٹڈی دی جائے گی یہ بھی تو خسارے کا سودا ہے صاف ظاہرہے یہ منصوبے بھی قومی خزانے پر سفیدہاتھی ثابت ہوں گے صرف40ارب سالانہ سبسٹڈی کی خاطرقومی ائیرلائنزکو بیچنے کی منطق سمجھ سے با لاہے ۔چلو بالفرض حکومتPIA،سٹیل ملز،ریلوے اورایسے کئی ادارے بیچ دے تو سوچنا پڑے گا کبھی یہ ادارے خسارے میں نہیں تھے انتہائی منافع بخش تھے ان کو بہترمنصوبہ بندی سے اب بھی منافع بخش بنایا جا سکتاہے دوسرا قومی ادارے عوام کو بہترسہولیات کی غرض سے چلائے جاتے ہیں حکومتوں کا مقصد کاروبارکرنا ہوتاہی نہیں۔۔قومی اثاثے بیچنا کوئی اچھی بات نہیں حکمرانوں کو سوچنا چاہیے ہم آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جارہے ہیں؟ ماضی کے حکمرانوں نےPTCL،پاکستان ریلوے،سٹیل ملز،PIA جیسے درجنوں قومی ادارے قائم کئے ہم انہیں بہتر بنانے کی بجائے کیونکر بیچنے پرتلے ہوئے ہیں قومی اثاثوں کو ہر قیمت پر بیچنے کی خواہش کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاملہ کچھ اورہے یا دال میں کالا کالا ضرورہے یہ بھی ہو سکتاہے دال ہی ساری کالی ہو۔