۔،۔ تاریخ ،سائنس اور صحیفہ فطرت ۔۔ عارف محمود کسانہ ۔،۔

rr

عارف محمود کسانہ
بہت سے لوگ جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی شامل ہیں اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ دین کے بارے میں صرف علماء ہی بات کرسکتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ جیسے طب کے بارے میں وہی بات کرسکتاہے جس نے اس کی تعلیم حاصل کی ہو اور انجنئیرنگ کے بارے میں ایک پیشہ وارانہ ڈگری رکھنے والے کی رائے ہی معتبرہوتی ہے اور اسی طرح دیگر پیشوں کے بارے میں بھی متعلقہ پیشے کے ماہر کو ہی بات کرنی چاہیے اور یہی اصول دین کے بارے میں بھی لاگو ہوتا ہے کہ مذہبی علماء کے علاوہ کسی اور کودین کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔ یہ دلیل بظاہر بہت وزنی معلوم ہوتی ہے اور درست بھی ہوتی اگر دین ایک پیشہ ہوتا۔ا سلام ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک نظام زندگی ہے اور ہر مسلمان کے لئے یہ برابر کی ذمہ داری ہے۔ دور صحابہ میں بھی ایسا نہیں تھااور کسی صحابی نے دین کو پیشہ نہیں بنایا اور نہ ہمارے آئمہ اکرام نے ایسا کیا۔ مزید براں یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جنہیں ہم مذہبی علماء کہتے ہیں وہ اپنی آٹھ سالہ درس نظامی کی تعلیم میں قرآن حکیم سے صرف سورہ بقرہ پڑھتے ہیں اس اعتبار سے انہوں نے خود صرف ڈھائی سپارے پڑھے ہوتے ہیں اور پورے قرآن حکیم کی تعلیم انہوں نے خود بھی حاصل نہیں کی ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب عظیم کو نازل کرنے والے نے اس کی تعلیم و ترویج کا بندوبست کہیں اور کیا ہوا ہے۔ ایک طویل فہرست ہے ان سکالروں کی جنہوں نے قرآن پر تحقیق کی اور اس کے فہم کو عوام تک پہنچایا۔ اس پر الگ سے ایک کالم لکھنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن سب کے لئے ہے اور سورہ قمر میں چار بار وضاحت سے اعلان کردیا کہ اسے سمجھنا نہایت آسان ہے۔ قرآن ایک نور ہے اور اسے خارج سے روشنی کی ضرورت نہیں بلکہ یہ اپنی وضاحت خود کرتا ہے البتہ یہ فرمایا کہ اگر کسی چیز کا تمہیں علم نہ ہو اہل ذکر سے دریافت کرلو۔ اہل ذکر کی سورہ آل عمران میں وضاحت کردی کہ وہ جو کائنات کی تحقیق اور جستجو میں سرگرداں رہتے ہیں اور علماء کی وضاحت کرتے ہوئے سورہ فاطر میں کہا وہ جوتخلیق ارض و سما اور کائنات کے اسرارو رموز کا علم رکھتے ہیں۔ وہ جب ان حقائق پر غور کرتے ہیں تو خدا کی کبریائی کے احساس سے ان پرہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ سورہ روم میں یہ بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، نسل و نسل کا اختلاف، رات اور دن کا ظہور اور رزق کی فراہمی کا نظام اہل علم ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن حکیم کی احکامات کے بارے میں آیات جو اصل کتاب ہیں انہیں سمجھنا اور ان سے رہنمائی حاصل کرنا ہر ایک کے لئے یکساں آسان ہے جبکہ وہ آیات جن میں حقائق کو تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے اور جنہیں آیات متشبہات کہا گیا ہے انہیں اہل علم ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں(سورہ عنکبوت)۔قرآن حکیم اپنے دعویٰ کی صداقت پرکھنے کے لئے انسان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات کی تشکیل اور خود اپنی تخلیق پر تحقیق کرے اور قوانین خداوندی کی صداقت کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ قرآن قطعی آخری آسمانی کلام ہے ۔ اسے سمجھنے کے لئے بلندی نگاہ، تدبر اور نیت کی پاکیزگی ضروری ہے۔سورہ یونس اور نمل میں فرمادیا کہ قرآن حکیم میں موجود حقائق کو سمجھنے کے لئے علم دور حاظر، عملی نتائج اور تاریخی شواہد پر گہری نظر ضروری ہے۔قرآن حکیم کائنات کی تخلیق، گردش لیل ونہار، زراعت، جانوروں کے افعال، جسم انسانی کی تخلیق کے مراحلEmbryology اور دیگر علوم سے ایسے بین ثبوت فراہم کرتا ہے کہ عظیم سائنس دان بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ قرآن عظیم نے جہاں مناظر فطرت کی مثالیں دی ہیں وہیں اقوام سابقہ کے واقعات کو فلسفہ تاریخ کی صورت پیش کیا ہے۔ ایک سچے اور بر تر کلام کی خوبی ہونی بھی یہی چاہیے تھی کہ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں دلائل کائناتی حقائق اور تاریخی شواہد سے دے۔قرآن حکیم یہ کہتا ہے کہ تم سے پہلی اقوام کی تاریخ تمہارے سامنے ہے ان میں جنہوں نے قوانین خداوندی کی تکذیب کی ان کی انجام پر غور کرو اور اگر تم بھی وہی کچھ کرو گے جو انہوں نے کیا تو تمہارا حشر بھی ویسا ہی ہوگا۔ اقوام سابقہ کے انجام سے آگاہی ایک تو مطالعہ تاریخ سے ہوتی ہے اور دوسرا مشاہداتی طریقہ سے ممکن ہے جسے علم الحضارات اور علم الاثارات archaeology کہتے ہیں۔ قرآن حکیم اس کی اہمیت پر زور دیتے کہتا ہے کہ ان قوموں کی برباد بستیوں کا بغور مشاہدہ کرو ، ان کے کھنڈرات پر تحقیق کرو اور ان کے انجام کی داستانوں پر کان دھرو۔ قرآن حکیم اس مقصد کے لئے سیروفی الارض کی اصلاح استعمال کرتا ہے۔ قرآن حکیم کی اس اصلاح میں سائنس اور تاریخ دونوں کی یکجائی ہے کیونکہ سیروافی الارض سے مراد نظام کائنات کا مطالعہ اور تاریخی سرگذشتوں کا مشاہدہ دونوں شامل ہیں۔ جتنا زیادہ کسی کا سائنسی اور تاریخی حقائق کا علم ہو گا اس صحیفہ فطرت کا اتنا زیادہ ہی فہم حاصل ہوگا۔ قرآن حکیم صرف مذہبی رہنماؤں اور علماء کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور علامہ اقبال کے والد کے بقول اس کا مطالعہ کرتے وقت یہ ذہن میں ہونا چاہیے کہ یہ مجھ پر نازل ہورہا ہے اور یہ میری ہی ذمہ داری ہے۔ علامہ فرماتے ہیں۔۔

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشاہ ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں