جاہلیت،بے عمل پیر جادو گر بابے اور بابیاں ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل )

sab

صابر مغل
زرعی رقبہ کم ہونے کے باوجود گاؤں میں ان کے والد کا بڑا رعب تھا ہر خاص مسئلے کے حل کے لئے انہی سے مشاورت کی جاتی گاؤں اور گردو نواح کے مسائل سے متعلقہ پنچایت بھی انہیں کے گھر کے باہر ایک کمرے پر بنے ڈیرہ پر ہی منعقد ہوتیں ،ان کے والد جہاں ایک طرف ذاتی طور پر نیک ،پرہیز گار ،نمازی ،با اخلاق اور انصاف پسند آدمی تھے وہیں ان کی پیر پرستی حد سے بڑھی نظر آتی ،تین بیٹوں کی پیدائش کے بعد ان کی پرورش میں دیگر اہم پہلوؤں میں ایک اہم ترین پہلو ۔پیر صاحب ۔کی خدمت بھی کوٹ کوٹ کر بھری تھی،پیر کے سامنے سجدہ کی شکل میں گرنا ۔ہاتھ باندھے کھڑے رہنا ان کے نزدیک ایمان کا اصل حصہ تھا،نیک بندے دنیاوی چیزوں باالخصوص ۔پوجے۔جانے سے اسلامی شریعت کے مطابق کوسوں دور بھاگتے ہیں ،نیک بندوں کی صحبت ،ان کی خدمت کرنا،ان کی سنہرے موتیوں سے بھی بڑھ کر کہیں بہترین باتیں ابدی زندگی کے لئے آب حیات سے کم نہیں ہوتیں ،تینوں بھائی جوان ہوگئے اور باپ اگلے جہاں سدھار گیا،دو بیٹے اپنی خداد صلاحیت کی بدولت سرکاری ملازمت میں چلے گئے البتہ بڑا بھائی والد کی چودھراہٹ کو آگے بڑھانے کے عمل کے ساتھ ساتھ باپ کی طرح پیر پرستی میں بھی کم نہیں تھا،وقت گذرتا گیا ان چوہدری صاحب کی پنچایت ماند پڑتی گئی ،گذر بسر میں مسائل سر ابھارنے لگے ،اس نے دوستوں سے مشورہ کیاسبھی نے کہا یار زمانہ جدید آ گیا ہے آپ گاؤں کو چھوڑیں ،شہر شفٹ ہوں حالت بہتر اور بچوں کے تعلیمی مسائل بھی حال ہو جائیں گے موصوف مٹھائی کا ٹوکرا ساتھ لئے ۔پیر صاحب ۔کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے انہوں نے کہا جا ہماری دعا سے اب تیری زندگی میں بہتری ہی بہتری مجھے نظر آ رہی (خدا جانے پیر صاحب کو اس مرید کی پہلے کی زوال پذیری کیوں نظر نہ آئی )کئی ایک سے مشاورت کے بعد ا س نے اپنے حصہ میں آنے والی زمین کا کچھ حصہ پیچ ڈالااور اوکاڑہ سے فیصل آباد جانے والی سڑک پر ایک نئے بننے والے پٹرول پمپ پر ہوٹل بنا لیا ،ہوٹل کا افتتاح پیر صاحب نے ہی کیا، ہوٹل آغاز پر کسی حد تک ٹھیک چلا ،پھر یہی ہوٹل زوال پذیری کی طرف رواں ہو گیا سیل انتہائی کم ہو گئی ،مچھلی کے کباب بنانے والا یہ بار بی کیو سنٹر ویرانیوں میں بدلتا چلا گیاملازمین کی تنخواہوں میں ادائیگی میں مصیبت بن گئی ملازم چھوڑتے چلے گئے،تب اس نے ایک بار پھر پیر صاحب کو جا کر سجدہ کیا انہی کے مشورہ پر ان نے باقی ماندہ زمین کا ٹکڑابھی فروخت کر ڈالا اور پھر سے پیر صاحب کی دعا کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیاگیا،مگر فاقوں اور ویرانیوں کا پنچہ ان کے چہرے پر اپنے گہرے اثرات چھوڑتا چلا گیا،ہوٹل برائے نام رہ گیا تب وہ اپنے پیر صاحب کے ہاں حاضری دینے گیا جہاں اسے ایک نئی کہانی سننے کو ملی ۔تمہارے ہوٹل پر کسی نے جادو کر رکھا ہے یہ سن کر وہ بہت پریشان ہوا س نے پیر جی سے ہی اس نئی مصیبت کے حل کی التجا کی ،پیر صاحب نے ہاتھ میں تسبیح پکڑے منکے گھماتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بولے میرے پیارے مرید آپ کے تمام مسئلوں کا حل مل گیا ہے تم ایسا کرنا آئندہ جمعرات رات دس بجے ٹھیک طرح پالا ہوا کالا بکرا اوکاڑہ شہر کے قریب سے گذرنے والی نہر(لوئر باری دوآب ) کے بائیں ویران کنارے پر کافی آگے کیکرکا ایک خشک درخت ہے تم نے اس بکرے کوو ہیں چھوڑ کر بغیر دیکھے واپس لوٹ آنا ہے،اس نے بمشکل بکرا خریدااور پیر کے حکم کے مطابق جیسے ہی وہ مقررہ جگہ پر بکرا چھوڑ کر واپس مڑا تو بکرے کی آوازیں آنے لگیں جیسے اسے پکڑ لیا گیا ہو،وہ تیز تیز دوڑتا واپس پہنچ گیا،15دن گذر گئے کچھ تبدیلی نہ آئی وہ پیر کے حضور حاضر ہوا انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے جس طرح تمہیں کہاں تھا تم اس طرح بکرا مقررہ جگہ پر نہیں چھوڑ آئے سو وہ اسی طرح دوسرا اور پھر تیسرا بکرا بھی وہیں چھوڑ آیا(اس کی عقل میں یہ بات بھی نہ آئی کہ پالتو جانور اور خاص طور پر بکرا بکری کو مالک جیسے ہی کہیں چھوڑتا ہے وہ فوری ااسی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں در حقیقت ان تینوں بکروں کو پکڑنے کے لئے ۔کوئی مرید خاص ۔وہاں پہلے سے موجود ہوتا تھا جو پلک جھپکتے ہیں بکرے کو پکڑ لیتا )یہ سب ڈرامہ گیری ہوتی رہی مگر حالات نہ سدھرے ،تب تک اس کے حالات کا عالم یہ ہو چکا تھا کہ وہ جگہ کا کرایہ بھی ادا نہ کر سکا با لآخر وہ خالی ہاتھ لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق گاؤں پہنچ گیا ۔ بر صغیر میں صوفیا ء کرام اور بزرگان دین کی آمد سے قبل ہندو معاشرہ ہمہ قسم کی خرافات مثلاً بت پرستی،ذات پات،جاہلانہ رسومات سے بری طرح گھرا ہو اتھا بزرگان دین کی تعلیمات سے متاثر ہو کر لاکھوں افراد مشرف بہ اسلام ہوئے ،بلاشبہ بر صغیر میں دین اسلام کی اشاعت ان صوفیا بزرگان کی مرہون منت ہی ہے یہ سب ان کے باعمل ،شریعت کے پابند،صاحب کردار ہونے کے باعث ہوا ان کی تعلیمات دین اسلام کی اساس کے عین مطابق تھیں، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ صوفیا کے ساتھ لوگوں کی سچی محبت ،عقیدت کا فائدہ اٹھانے کے لئے ۔برہمنوں ۔کی طرح کا ٹولہ میدان میں اتر آیا،ہندو دھرم میں برہمن انتہائی عقیدت کے حامل ہوتے ہیں کوئی ان کے برابر بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا،ہا تھ باندھ کر کھڑے ہونا،ان کے پاؤں چھونا،ان کے پاؤں اور ہاتھوں کے بوسے لینے کو ۔ایمان ۔کا حصہ سمجھا جاتا ہے،پاکستان ،ہندوستان اور بنگلہ دیش میں یہ کاروبار بام عروج پر ہے،(الراقم ۔اولیاء اللہ سے اختلافی سوچ نہیں رکھتا ،باقاعدگی سے بزرگان دین کے مزارات پر حاضری بھی دیتا ہے مگر ان ضابطوں کو نہیں مانتا جو آج کل ہم پر لاگو کر دئے گئے یا جنہیں ہم نے نعوذ با اللہ عبادت کا حصہ بنا ڈالا ہے،ایک بار وجہ تخلیق کائنات ،محبوب سبحانی حضرت محمد ﷺنماز کے بعد صحابہ کرام کے ساتھ حجرہ میں تشریف فرما تھے اسی دوران دو افراد حضور نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے کمرے میں داخل ہوئے انہوں نے پہلے آپ ؐ کو نہیں دیکھا ہوا تھا کمرے میں گنجائش کم ہونے پر آپ حضورؐ مزید سمٹ گئے نہ وہاں گدا تھا نہ چادر نہ تکیہ اور نہ ہی مزید ایسی کوئی چیز جس سے واضح ہو کہ آپ حضور ؐ منفرد طور سے بیٹھے ہوں ان افراد کو بعد میں پتا چلا کہ دوجہاں کا سردار ؐ کس طرح اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے ،یہ تھا اسلام اور اس کی تعلیمات،خداوند کریم فرماتے ہیں ۔اے نبی .َ کہو ،میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ،میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ ہی کسی بھلائی کا.۔کہو مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔(سورۃ الجن ۔۲۲،۳۱،۷۲)اس آیت مبارکہ سے کیا ظاہر ہوتا ہے، آج پیر صاحب آئیں تو ان کی۔آنی ۔ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے،یوں محسوس ہوتا ہے جیسے باقی سب انسان نہیں زمین کی تہوں سے نکلی کوئی گھٹیا ترین مخلوق ہے،پوجا پاٹ کے اسی شاہکار کی بدولت ہی ۔جنت۔ملے گی ،انہیں کی بدولت روزی ،اولاد حتیٰ کہ سبھی مسائل کا حل یہی ہیں،حالانکہ یہ سب اسلامی تعلیمات کی ۔ضد ۔ہیں ،ہمارا عقیدہ ،ہمارا ایمان بہت کمزور ہو چکا ہے ہم تو انہیں بھی پوچتے ہیں جن کی وجہ سے قبرستانوں میں ہیجڑوں اور کنجریوں کا رقص،موت کا کنواں ۔تھیٹر ،گانا بجانا اورجوا ہوتا ہے،میلوں ٹھیلوں (تاریخ کے مطابق میلے ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشرکہ تہوار ہے )کا انعقاد مجموعی طور زیادہ تر کہاں ہوتا ہےَ ؟ا س میں قبرستان کا تقدس کہاں گیا؟ایسافعل کوئی پیر طریقت ،رہبر شریعت نہیں کر سکتا بلکہ ایسی واہیات چیزوں کی تائید بھی مگر ایسا یہاں تقریباً ہر جگہ ہو رہا ہے،برہمن کی اولاد کی طرح یہاں بھی صرف شجرہ نسب کو دیکھا جاتا ہے کردار اور عمل کو نہیں ۔واقعہ کربلا جس میں نواسہ رسول ﷺ کا خاندان شہید کیا گیا وہاں ہونے والی جنگ کے پیچھے کیا اقتدار یا کسی سلطنت یا ریاست کی بادشاہی پوشیدہ تھی؟ ہرگز نہیں وہ جنگ تو کردار کی جنگ تھی صرف کردار کی ،صاحب کردار اور بد کردار میں زمین آسمان کا فرق ہے چاہے اس کا شجرہ نسب کسی صحابی رسول ؐ سے ہی کیوں نہ ملتا ہو،حدیث مبارکہ ہے ۔جو لوگ خدا کی خوشنودی کے طالب ہوں اس سلسلے میں لوگوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ایسے کوگوں کی ہی مدد فرماتا ہے اور انسانوں کی ناراضگی سے ان کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بجائے لوگوں کی خوشنودی چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی مدد کا ہا تھ کھینچ لیتا ہے اور ان کو انسانوں کے حوالے کر دیتا ہے جس کا نجام یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کی نصرت سے محروم رہتے ہیں اور جن کی خوشی کے لئے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا تھا ان کی مدد بھی نہیں ملتی۔قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشاد ہے ۔اللہ کسی خود پسند اور فخر بتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا (سورۃ لقمان ) حضور ﷺ نے فرمایا ۔لوگوں سے اپنی تعریف سننے کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہےْ ۔ان قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟ذرا ان پر غور تو کیا جائے یہی صفات کن کن میں ہیں ؟حضور پاک ﷺ کی ہر عمل ،ہر قول تا قیامت روز روشن کی طرح عیاں رہے گا ،کیا کبھی آقاؐ نے کسی محفل میں گاؤ تکیے کے ساتھ بیٹھے،صحابہ کرام سے ہٹ کر کسی مخصوص برتن میں پیا یا کھایا؟عام عوام کو اچھوت سمجھا ؟لوگوں سے قدم بوسی کرائی ؟ان سے بڑھ کرروئے زمین پر نہ کوئی عقیدت کے لائق تھا اور نہ کبھی ہو گا یہ ہمارا ایمان ہے،پیر پرستی کے نام پر انوکھی عقیدت اور جاہلیت کو کس عقیدے یا مذہب میں شامل کیا جائے ؟ہم تو اصل اسلامی روایات سے ہی کنارہ کش ہو چکے ہیں، جواس دور جدید میں بھی ہمارے فرعونوں نے زمانہ جاہلیت کو ختم نہیں ہونے دیا،تعلیم جس سے روشنی کی کرنیں پھوٹی ہیں اسے بھی ہندوانہ ذات پات کی طرح ایک طبقہ تک محدود رکھا 70سال بعد بھی ہم شرح خواندگی کو بہتر نہیں کہہ سکتے،سرگودھا کے نزدیک ہونے والی پیر پرستی کے نتیجہ میں 20افراد کے ساتھ بربریت بھی جاہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اسلام میں تو تشدد کا تصور تک نہیںیہ ناحق خون ضرور رنگ لائے گا ،جب والدین ہی شرک زدہ ہوں تو اولاد سے بہتری کی توقع کیسے ممکن ہے؟ایک گاؤں میں پہلے ڈکیت اور پھر ہیروئن کا عادی مرا تو اس کا دربا بنا دیا گیاکیونکہ وہ کسی پیر کا بیٹا تھااب اسی ڈکیت کی قبر پر جاہل لوگ عقیدت کے پھول چڑھا رہے ہیں ،ایک پیر صاحب نشہ میں دھت گود میں کتے کو بیٹھائے سامنے پڑی پلیٹ میں پڑے کباب خود کھا رہے تھے اور کتے کو بھی کھلا رہے تھے اور عقیدت مند یہ سب لعنتی زدہ ماحول دیکھ کر بھی اپنی مرادیں پوری کرانے کے لئے دست بستہ کھڑے تھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے،یہ ہمارے معاشرے کی عکاسی ہے یہ نہ عقیدہ ہے نہ عقیدت، کسی بھی نیک ،بزرگ اورولی اللہ کی وہ شان ہے جس کا احاطہ الفاظ سے نہیں کیا جا سکتا ،جعلی خانقاہوں ،جعلی یا بے عمل پیروں اور عاملوں کی شعبدہ بازی پر ہمارا قانون بہت کمزور ہے ،ہمارے معاشرے میں توہم پرستی کا راج ہے ،20افراد جان سے گئے مگر دو نجی ٹی وی چینلز پر آج بھی ۔ گرو ساہو و لال(میرے پاس 100برس کا ناگ ناگن کا جوڑا ہے جو انسانی روپ دھار کر ہرمسئلے کا حل کر دیتا ہے،12شکتیوں کے مالک)،پنڈت یوراج جوتشی ،بابا گوروراج مسیح ،گرو ساہوولال،بابا روشن بنگالی،بابا رنگا مسیح(کینیا والے المعروف پانی والے)،پروفیسر عامل ثمر بنگالی(کالی اور روحانی عملیات کے ماہر)،باوا ہرمن مسیح،الحاج سید امداد علی شاہ،بابا نور دین بنگالی(جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے)،سید سبحان شاہ(نوری علم کرنٹ کی طرح اثر کرے گا)،بابا برکت مسیح،مخدوم جعفر شاہ ہاشمی،پیر سید عطا شاہ،بابا سلطان سائیں(کام کی لائف ٹائم گارنٹی)،عامل ابو مسیح (کستوری ،ہد ہداور الو کے خون علاج )مریم بتول گیلانی،عامل باوا جگن کپور(ہنو مان والے)،عامل گو گیہ پاشا(کالی گھاٹ والے گولڈمیڈلسٹ)،جادو گر ستار بنگالی(انسانی ہڈیوں پر عمل کرنے والے)،اماں زہرہ بتول،عامل بابا فتح بنگالی،عاملہ اماں جھوراں بنگالن(پرانے کھنڈر والی)، صوفی حرمت شاہ ولی،باوا حیدر شاہ(تمام کام جنات اور موکلات سے)،جی ایم کاظمی،پیر زادہ صوفی کمال شاہ،جادو گر جوتشی باوا،چن پیر بابا،پروفیسر شہزاد بنگالی،پیر زادہ اکبر علی شاہ،سائیں رددا کالیا مسیح،عامل صابر بنگالی(75سال سے چیختا چنگھاڑتا کالا جادو) اور عامل دتہ مسیح(شیش ناگ اور الو کے خون سے دشمن کو تڑپاتا ہے)،پیر سید اجمیری بابا،عامل پیر وقار حیدر،الحاج پیرمحبوب شاہ بخاری ) وغیرہ شامل ہیں جو عوام کو اپنے سحر میں لینے کے لئے سارا دن چلتے رہتے ہیں ۔پیمرا یہاں اندھا ہے ،ان تمام عاملوں بابوں چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب،کالے جادو،نوری یا کسی اور علم سے ہے ان میں مشترکہ باتیں یہی ہیں ۔معاوضہ کام کے بعد،محبوب آپ کے قدموں میں،من پسند شادی،رشتوں کا نہ ہونا،زندگی بدل جائے گی،اولاد کا نہ ہونا،سوتن سے چھٹکارا،شوہر یابیوی کو تابع کرنا،امتحان میں کامیابی،فلپائن سمیت دنیا بھر کی لاٹری کا انعامی چانس،کرکٹ میچ کا نتیجہ ،شوہر کی بے وفائی،محبت میں ناکامی کا حل،پردیس میں دشمن کے حملے کا ڈر،بڑی آتماؤں کے عمل سے زندگی بھی اور موت بھی،زندگی ہو یا بربادی ہر مسئلے کا حل،بندش اور گردش ختم،کاروبار چلانا اور یا کسی کا بند کروانا،ملتے جلتے ناموں سے دھوکہ نہ کھائیں،کام کی گارنٹی اور کام نہ ہونے کی صورت میں معاوضہ واپس ،ہر عمل قبر کی سات تہوں تک جا پہنچتا،ان سے جن بھی خوف کھاتے ہیں،میرے جنات آپ کا ساتھ دیں گے،پہلے کام بعد میں معاوضہ وغیرہ وغیرہ ۔یہ کیسی عبادت ہے جس میں جنت کے لالچ میں جہنم خریدی جا رہی ہے،ملک کے کونے کونے میں پھیلی خانقاہوں سے روزانہ کھربوں روپے حاصل ہوتے ہیں ان خانقاہوں میں زیادہ تر کا شریعت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیںیہ رہبر و رہنماء نہیں بلکہ بھٹکے ہوئے اور بھٹکانے والے ہیں ،ان جگہوں پر مجموعی طور پر تہذیب اور اسلامی اقدار کی پامالی کی جا رہی ہے،ان کے لئے قانون سازی،مکمل مانیٹرنگ تاکہ قوم کو توہم پرستی،بے عمل پیروں کی پیر پرستی ،فراڈیوں سے چھٹکار ادلانا دور جدیداور دین اسلام کا اولین تقاضا ہے اور ایسے عناصر کی سرکوبی ضروری ہے،90فیصدایسے بے عمل پیر ہیں جنہیں شاید ہی کبھی کسی نے مسجد میں با جماعت پڑھتے دیکھا ہو گا۔