دستک

atta_ur_rehman_ashraf

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
کھودہا پہاڑ نکلا چوہا
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کے حکومت اور پاک افواج کے درمیان ڈان لیکس سے پیدا ہونے والے تناوٗ کو وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ نے خوش اسلوبی سے سُلجھا لیا ہے مجھے اس موقع پر وہ دۂاتی یاد آ رہا ہے جس نے اپنے ایک دوست کو پکارا جو اپنے مکان کی آخری منزل پر کھڑا تھا اور اُسے جلدی سے نیچے آنے کو کہا وہ بھاگتا ہوا نیچے آیا تو اُس نے اپنے دوست سے پوچھا مجھے کیوں نیچے بلایا ہے تو دۂاتی نے کہا بس یونہی تجھے سلام کرنا تھا اُسنے کہا اچھا تم میرے ساتھ اُوپر آؤ کیونکہ مجھے تم سے کام ہے دۂاتی اُس کے ساتھ اُوپر آیا اور پوچھا کیا کام ہے؟ تو اُس نے جواب دیا بس تجھے۔۔وعلیکم سلام ہی کہنا تھا ۔۔مطلب یہ کہ اگریہ اتنا ہی سادہ معاملہ تھا تو قوم کو بیوقوف کیوں بنائے رکھا۔ یہ محاورہ تو کم و بیش ہر ناکامی اور کامیابی کے موقع پر زبانِ خاص و عام پر اکثر بولا جاتا ہے۔کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔ڈان لیکس۔۔کا معاملہ اسقدر سنگین جرم بنا ہوا تھا یا بنا دیا گیا تھا جس نے پوری قوم کی نئیدیں اُڑا دیں تھیں اور اس قومی ایشو پر تقریباََ ہر محب وطن پاکستانی کو تفتیش لاحق تھی اور وہ اس قومی ایشو کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے میں بہت دلچسپی لے رہے تھے جو تقریباََ چھ سات ماہ سے موضوع بحث بنا ہوا تھا اور تفتیش کا اظہار کررہے تھے کہ ہمارے قومی اداروں میں ایسے ایسے کردار بھی موجود ہیں جو جس شاخ پر بیٹھے ہیں اُسی شاخ کو کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر ہر روز پاکستان کے ہر ٹی وی چینل پر انیکر اور تبصرہ نگار اپنی اپنی بساط کے مطابق تجزیہ پیش کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لینے کیلئے زمین و آسمان کے قالبے ملانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے کہ اُن سے بڑا باخبر دوسرا کوئی نہیں،دوسری جانب ہمارے سیاستدان بھی جلتی پر تیل ڈال کر الزامات کی توپوں کے گولے حکومت پر برسا کر اپنے دل کی براس نکال رہے تھے اور اپنا حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرا رہے تھے کوئی اپنے وزیراعظم اور اُنکی بیٹی مخترمہ مریم نواز کو اس خبر کو لیک کرنے کا الزام دے رہا تھا اور کچھ لوگ وزارت داخلہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے اور ہر کوئی اسے سیکورٹی رسک اور ملک و قوم سے غداری قرار دے رہا تھا۔میری سمجھ سے یہ بات بالا تر ہے کہ اگر اس مسلے کو اتنی آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا تو پھر پوری پاکستانی قوم کو۔۔ٹرک کی بتی ۔۔کے پیچھے لگا کرکئی ماہ تک کیوں سزا دی گئی اور پریشان کیا جاتا رہا عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا ملک وقوم کی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے ہمیں خوشی ہے حکومت اور عسکری قیادت اس مسلے کو باہمی افہام و تفہہیم سے حل کر نے میں کامیاب ہو گئی لیکن۲۰ کڑوڑ عوام اس کا حق رکھتے ہیں کہ حکومت اور عسکری قیادت میں طے پاجانے تفصیلات سے قوم کوآگاہ کیا جائے اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ شائع کی جائے جب سے ڈان لیکس کے چیپٹر کو کلوز کرنے اور حکومت اورافواج پاکستان کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پانے کی خبر آئی ہے عوامی اور سیاسی حلقوں میں مُتضاد رد عمل سامنے آیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے فوری طور پر کمیٹی رپورٹ مکمل شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر جناب قمرالزماں کائرہ نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جناب آصف غفور باجوہ کے اپنی ٹوئٹ واپس لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ کہ مُنہ سے نکلے الفاظ اور چلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں ہوا کرتا۔۔جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما چوہدری اعتزاز احسن نے۔آئی ایس پی آر۔کے استعفےٰ کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ۔ ن لیگ۔کے متوالے اسے میاں نواز شریف کی فتح قرار دے رہے ہیں اور اُنہیں ایسا کہنے کا حق بھی ہے کہ اُن کی قیادت پر جو الزامات کی تلوار لٹکی ہوئی تھی پاک افواج کے سیزفائر کے اعلان کے بعد اُن بارے میں جو شبہات تھے وہ تقریباََ دور ہو گئے ہیں مگر عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور حکومت کے درمیان طے پا جانے والے معاملات کو سابق آرمی چیف کی طرح کسی نئے این آر او کا نام دیا جا رہا ہے ۔پاکستان اس وقت جن اندرونی اور بیرونی مشکلات کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے ایسے میں افواج پاکستان اور حکومت کا ایک پیج پہ ہونا انتہائی ضروری ہے