-،-کچی آبادیوں کو لیز اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ‘ ایم آر پی-،-
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) کچی آبادیز اینڈ گوٹھ فیڈریشن آف پاکستان (کاگف) کے سالانہ کنونشن سے خطاب میں کچی آبادیوں کو لیز سے محروم رکھنے اور قدیم آابدیوں و گوٹھوں کی بلڈرز مافیا کے ہاتھوں فروخت کی مذمت اور کچی آبادیوں و گوٹھوں کو فوری طور پر لیز کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے میزبان و چیئرمین کاگف صاحبزادہ عمران نقشبندی ‘ مہمان خصوصی چیف جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد ‘ سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی ‘ نائب امیر جماعت اسلامی اسداللہ بھٹو‘ صحافی ودانشور ڈاکٹر عبدالجبار خٹک ‘ ممبران صوبائی اسمبلی شفیع جاموٹ‘خرم شیر زمان‘محفوظ یار خان ‘عبدالقادر ایڈوکیٹ ‘ اظہر جمیل ‘مزدور رہنما منظور احمد رضی ‘ ریحان یوسفزئی ‘ رہنما پیپلز پارٹی امان اللہ محسود ‘ جے یو آئی رہنما قاضی احمد نورانی ‘نائب صدر لیگل ونگ مسلم لیگ (ن) سردار صغیر احمد خان ایڈوکیٹ ‘ٹرسٹی سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ عارف لاکھانی ‘ دانشور محفوظ النبی ‘ سماجی رہنما رانا طارق‘ محبوب عباسی ‘ عبدالغنی کلمتی ‘قادر بخش بلوچ ‘سید خدا ڈنو شاہ ‘ یونس خاصخیلی ‘ احسان کھوسو ‘ میر اسماعیل بروہی ‘گل حسن کلمتی و دیگر سیاسی ‘ سماجی ‘مزدور رہنماؤں اورمحب وطن روشن پاکستان پارٹی کے قائد و چیئرمین امیر پٹی نے کہا کہ استحصالی طبقہ ہر بار اقتدار پانے کیلئے پاکستان کے غریب عوام کو جھوٹے وعدوں اور پرفریب نعروں سے بہلاتا ہے مگر اقتدار پانے ے بعد صرف عوام کا گلا دباتا ہے اسی طرح جب سے پاکستان قائم ہو اہے ہر سیاسی جماعت اقتدار پانے کیلئے کچی آبادیوں کے مکینوں کو لیز دلانے کا وعدہ کرتی ہے مگر اقتدار پانے کے بعد اپنے وعدے سے مکر جاتی ہے جس کی وجہ سے کچی آبادیوں اور گوٹھوں کے مکین آج بھی زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات سے محرومی کی زندگی گزاررہے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ کچی آبادیوں اور غریب طبقات کے مکین دولتمند سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں پراعتبار کی بجائے اپنی ہی آبادیوں کے مخلص ‘ دیانتدار ‘ تعلیم یافتہ اور با اعتبار افراد کو اپنے ووٹ کے ذریعے ایوانوں و اسمبلیوں بھیجیں تاکہ کچی آبادیوں میں رہنے والے اپنے علاقوں کے مسائل کے حل اور عوام کے حقوق کی آواز اٹھاسکیں !