bb

۔،۔ترقی پسند شاعر جناب جمیل الدین عالی مرحوم کی یاد میں ایک خوبصورت شام کا اہتمام۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن فرینکفرٹ اور حلقہ ادب جرمنی فرینکفرٹ کے روح رواں سید اقبال حیدر نے مشہور و معروف دانشور، ادیب اور ترقی پسند شاعر جمیل الدین عالی کی یاد میں ایک خوبصورت شام کا اہتمام کیا جس میں مرحوم جمیل الدین عالی کے فکر و فن پر مقالات پڑھے گئے،جمیل الدین عالی پر بنائی گئی ڈاکو مینٹری documentary*خواب کا سفر*دکھائی گئی ۔ محفل کی صدارت قونصل جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ ندیم احمد صاحب نے کی ،قونصلر اشہر شہزاد بھی تشریف لائے تھے، محفل کے مہمان خصوصی ذوالقرنین عالی صاحب (عرف راجو جمیل)صدر انجمن ترقی اردو پاکستان ،پاکستان سے تشریف لائے، خوبصورت محفل کے اعزازی مہمانوں میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید صاحب جرمنی بون (Bonn)اور علاما سید علی رضا رضوی صاحب (انگلینڈ)Englandسے پروگرام کی رونق بڑھانے کے لئے تشریف لائے، جمیل الدین عالی مرحوم کی یاد میں خوبصورت شام اور محفل مشاعرہ کو چار چاند لگانے کے لئے خصوصی شرکت کے لئے ۔ Englandانگلینڈ سے باصر کاظمی، ڈاکٹر نکہت افتخار، Danmarkڈنمارک سے صدف مرزا،Spain سپین سے راجہ شفیق کیانی۔Finnland فن لینڈ سے ارشد فاروق، بلجیئمBelgiumسے عمران ثاقب،Holland ہالینڈ سے عدیل شاکر، اور اعجاز سیفی،Norway ناروے سے ڈاکٹر سید ندیم، محمد ادریس اورSwitzerland سوئٹزر لینڈ سے شاہین کاظمی نے شرکت کی۔ شہنشاہ نقابت، شاعر، ادیب ۔ سیکریٹری ،حلقہ ادب جرمنی ۔ چیئرمین ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن محترم سید اقبال حیدر جو کسی تعارف کے محتاج نہیں کی کاوشوں کا نتیجہ *محفل مشاعرہ اور خوصورت شام*تھی۔ یہ وہ پہلی محفل تھی جس میں ادبی ذوق رکھنے والے خواتین و حضرات وقت کی پابندی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹائم پر پہنچ گئے، خوبصورت شام کا آغاز قومی ترانہ سے کیا گیا،جمیل راجو نے جمیل الدین کے حالات زندگی پر گفتگو کی ۔نوابزادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات ، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔ بعد ازاں جمیل الدین عالی پر بنائی گئی documentaryخواب کا سفر دکھائی گئی، اس کے بعد شاعری کا دور شروع ہوا جو دیر تک چلتا رہا محفل کے اختتام پر آنے والے خواتین کو حضرات کی خدمت میں مٹھائی، سموسے، پکوڑے اور مشروبات پیش کی گئیں۔

IMG_2192 IMG_2193 IMG_2197 IMG_2202 IMG_2207 IMG_2211 IMG_2214 IMG_2218 IMG_2222 IMG_2224 IMG_2226 IMG_2227 IMG_2230 IMG_2232 IMG_2234 IMG_2235 IMG_2236 IMG_2237 IMG_2238 IMG_2239 IMG_2244 IMG_2251 IMG_2253 IMG_2254 IMG_2257 IMG_2261 IMG_2265 IMG_2269 IMG_2271 IMG_2274 IMG_2276 IMG_2279 IMG_2282 IMG_2287 IMG_2289 IMG_2296 IMG_2300 IMG_2301 IMG_2305 IMG_2313 IMG_2315 IMG_2318 IMG_2319 IMG_2321 IMG_2322 IMG_2324 IMG_2326 IMG_2328 IMG_2331 IMG_2335 IMG_2336 IMG_2339 IMG_2341 IMG_2342 IMG_2344 IMG_2347 IMG_2350 IMG_2351 IMG_2352 IMG_2354 IMG_2356 IMG_2357 IMG_2361 IMG_2362 IMG_2363 IMG_2364 IMG_2367 IMG_2368 IMG_2369 IMG_2370 IMG_2372 IMG_2373