-،-منشیات کی برآمدگی ۔ پی آئی اے کا ایک اور کارنامہ ( پہلو۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
پیر کو دوپہر 2.50منٹ پر پاکستان کی قومی ائیر لائن PIAکی فلائٹ نمبر PK/785 پاکستان کے شہر اقتدار اسلام آباد سے ہیتھرو ائیر پورٹ لندن پہنچی،فلائٹ کو لینڈنگ سے قبل تقریباً20منٹ تک فضا میں رکھا گیا اس دوران جہاز ائیر پورٹ کے چکر لگاتا رہا اجازت ملنے کے بعد جیسے ہی جہاز نے لینڈنگ کی تب اسے سیکیورٹی اداروں نے اپنے حصار میں لے لیا،مسافروں کے اترنے کے بعد پولیس کے تین اہلکاروں نے سونگھنے والے کتے کی مدد سے طیارے کی چار گھنٹے تک تلاشی لی انٹیلی جنس بیسڈ پر ٹھوس بنیادوں پراس چیکنگ کے دوران جہاز کے تمام حصوں کو دیکھا گیا اورکروڑوں روپے مالیت کی 6کلو ہیروئن برآمد کر لی،برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ہیروئن برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے فلائٹ کے 13اہلکاروں کو حراست میں لیا اور جنہیں آٹھ گھنٹے تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ،نیشنل کرائم ایجنسی ،کسٹم اور بارڈر فورس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے،پی آئی اے کے مطابق برطانوی حکام نے ان اہلکاروں کے پاسپورٹ واپس نہیں کئے اس وجہ سے وہ برطانیہ نہیں چھوڑ سکتے،تاہم کئی گھنٹے بعد پائلٹ کیپٹن خالد گردیزی کو پاسپورٹ واپس مل گیا خالد گردیزی نے میڈیا کو بتایا انہیں 5سے 6گھنٹے تنہائی میں رکھنے کے ساتھ ساتھ انتہائی توہین آمیز سلوک بھی کیا گیا،البتہ عملے کے کسی رکن کے سامان سے کوئی ممنوعہ چیز برآمد نہ ہوئی ،پی آئی اے کی یہ پروازمتبادل سٹاف کے ساتھ PK/758نمبر کے تحت لاہور پہنچ چکی ہے ،یہی وہ بوئنگ 777طیارہ ہے جس سے ماضی میں دوران مرمت بھی منشیات برآمد ہوئی تھی،ایک ماہ قبل پی آئی اے کے ہینگر سے 16کلو ہیرو ئن برآمد ہوئی تھی ہیتھرو ائیر پورٹ پر ۔لاجواب سروس ۔کو کئی بار وارننگ دی جا چکی ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین ہر پورا نہیں اترتے،رواں ماہ کے آغاز میں قومی فضائی کمپنی کے ایک سینئر پائلٹ کی جانب سے فلائٹ کا کنٹرول زیر تربیت پائلٹ کے سپرد کر کے اڑھائی گھنٹے تک سوتے رہنے کا انکشاف ہوا ایسا کرکے پائلٹ نے نہ صرف ائیر سیفٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کی بلکہ طیارے میں سوار305مسافروں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالا،چند روز قبل ایک سینئر پائلٹ شہزاد نے دوران پرواز کاک پٹ میں چینی خاتون کو بٹھا کر گپ شپ کرتے رہے دوران انکوائری معاون پائلٹ عثمان چٹھہ نے بتایا کہ کیپٹن شہزاد نے انہیں کاک پٹ سے نکلنے کا کہا، فروری میں اس وقت بھی PIAخبروں کی زینت بنی جب کراچی سے مدینہ جانے والی پرواز میں 7اضافی مسافروں کو تین گھنٹے سے زائد پرواز کے دوران کھڑے رکھا گیا ماضی میں پی آئی اے عملے کے ارکان اکثر اوقات منی لانڈرنگ سمیت دیگر غیر ممنوعہ اشیاء کی سمگلنگ میں ملوث پائے جاتے رہے ہیں،پاکستان کی قومی فضائی کمپنی PIAکارپوریشن لمیٹیڈ جو کسی سفید ہاتھی سے کم نہیں کی زبوں حالی پر رواں سال مارچ میں سینٹ میں بحث ہوئی جس پر سینٹ کی خصوصی ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اس کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ جبکہ دیگر اراکین میں پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر اور مسلم لیگ (ن) کے جنرل(ر)عبدالقیوم شامل تھے اس کمیٹی نے پی آئی اے انتظامیہ سے دو روز تک بریفنگ لی ،مختلف شعبوں کا دورہ کیا،حاضر سروس و سابق اعلیٰ آفیسرز سے ملاقاتیں کیں،اس کمیٹی نے پی آئی اے کی تباہی پر 5نکات پر مشتمل رپورٹ سینٹ میں پیش کی ، 1۔ سیاسی مداخلت ۔ماضی کی حکومتوں نے اس کمپنی پر توجہ نہیں دی اور اس کی انتظامیہ میں سیاسی بنیادوں پر تیزی سے تبدیلیاں کی گئیں،ہزاروں غیر مناسب افراد کی سیاسی بنیادوں پر بھرتی کا مطلب اس اہم ترین ادارے کو تباہی کی نذر کرنے کے مصداق ہے جو قومی ائیر لائن پر بہت بڑا اور مستقل بوجھ بن چکے ہیں،2۔اعتماد اور لیڈر شپ کا بحران۔پی آئی اے قیادت اعتماد کے بحران کا شکار ہے آج بھی اس ادارے کا مستقل CEOاور سربراہ نہیں اور قائم مقام سی ای او در اصل چیف آپریٹنگ آفیسر ہے ،3۔عہدوں کے لئے غیر موزوں ڈائریکٹر۔کمیٹی کے مطابق کچھ ڈائریکٹر ایسے ہیں جو 3لاکھ سے زیادہ ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں جنہیں اب تک کوئی کام نہیں سونپا گیا اور وہ بغیر کام کے گذشتہ ایک سال سے تنخواہیں لے رہے ہیں ،4۔یونینز اور ایسوسی ایشنز کی سیاسی پشت پناہی ۔پی آئی اے میں قائم یونینز کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت ہے جب کہ یونینز اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے اپنے استعداد کا غلط استعمال کرتی ہیں بلیک ملینگ سے تبادلوں اور تقرریوں میں اپنی مرضی ٹھونستی ہے حتیٰ کہ آپریشنل تعیناتیوں میں بھی انتظامیہ پر بہت دباؤ ڈالتی ہیں،سی بی اے کے علاوہ 7دوسری ایسوسی ایشنز ماضی میں پی آئی اے کے آپریشنز کو مفلوج کر نے میں ملوث رہ چکی ہیں وہ اب بھی فعال ہیں یہاں تک کہ انتظامیہ کی بجائے یہ لوگ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کس روٹ پر کون سا عملہ جائے گاحالانکہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے،5۔کرپشن۔طیاروں کے فاجل پرزوں کی خریداری سے لے کر فریٹ یعنی سامان لے جانے کی جگہ کی الاٹمنٹ،بھرتیوں ،تبادلوں ،انجیرنگ اور کیٹرنگ تک کے شعبے بھی کرپشن بھے بھرپور ہیں عہدوں اور تنخواہ میں عدم توازن ہے،باکمال لوگ لاجواب سروس کی بہتری کے لئے جو سفارشات سینٹ میں پیش کیں وہ یہ ہیں،1۔پی آئی اے بورڈ کو فی الفور تحلیل کر دیا جائے اور نئے بورڈ میں ہوابازی اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا جائے بورڈ اپنا چیر مین خود منتخب کرے بورڈ صرف پالیسی معاملات ،نئے منصوبوں تک محدود رہے جبکہ تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات کو انتظامیہ کے سپرد کر دیا جائے ،سی ای او کو اپنی ماہرین کی ٹیم تعینات کرنے کا پورا اختیار حاصل ہو،2۔بورڈ اور سی ای او سیاسی مداخلت کو خاطر میں نہ لائیں،بھرتی اور برخاست کرنے کا اختیار صرف سی ای او کو دیا جائے ،3۔CBAاپنی سرگرمیوں کو گریڈ ایک سے 4تک کے عملے کی فلاح و بہبود تک محدود رکھے اور ایسی ایسوسی ایشنز جنہوں نے غیر قانونی طور سی بی اے کا کردار اپنا لیا ہے کو ان کے مقام پر محدود رکھا جائے تاکہ انتظامیہ کو بلیک میل نہ کیا جا سکے،یہ رپورٹ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے تیار کی گئی حالانکہ یہی دو پارٹیاں قومی ائیر لائن کی تباہی کی سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں ،یونینز کو بھی یہی سب سے زیادہ سپورٹ کرتی ہیں قوم کو یہ بھی بتا دیا جائے کہ پرویز مشرف سے ہٹ کرآصف علی زرداری کے تاریخی پانچ سالہ دور حکومت ،بے نظیر کے دو مرتبہ اور میاں نواز شریف کے تین مرتبہ اقتدار کے دوران PIAمیں کتنی اور کیسے کیسے بھرتیاں ہوئیں ؟،رپورٹ کہتی ہے کئی ڈائریکٹر کام کے بغیر ایک سال سے تنخواہیں وصول کرے ہیں ،جنرل (ر)عبدالقیوم بتائیں اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد نہیں ہوتی؟خیر جہاں بر سر اقتدار طبقہ ہی قومی اداروں کی تباہی کا سبب بن جائے وہاں جہازوں سے منشیات برآمد ہونے پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے،کسی بھی پرواز باالخصوص انٹرنیشنل کی اڑان سے قبل پی آئی اے،کسٹم ،ASF اور اینٹی نارکوٹکس کا عملہ جہاز کو مکمل چیکنگ کے بعد کلیر کرتا ہے اس جہاز کے پاس بھی اینٹی نارکو ٹکس کا کلیرنس سرٹیفکیٹ موجود تھا،پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کہتے ہیں انگلینڈ میں اکثر پروازوں کو تلاشی یا کسی اور بہانے سے روک لیا جاتا ہے جس سے پروازوں کا نہ صرف شیڈول متاثر ہوتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ کی وجہ سے مالی نقصان بھی ہوتا ہے ،بہرحال منشیات کی برآمدگی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے پاکستان کی بدنامی کرنے والے ہر بات محفوظ راہوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،جہاز تک یا ہینگر تک رسائی عام تو نہیں ہوتی تب ادارے کہاں ہوتے ہیں یہ سب ہوس اور پیسیکا لالچ کا کمال ہے اور منشیات کے۔ ڈان۔ اندر تک رسائی رکھتے ہیں ،پی آئی اے کی بہتری کے لئے سینٹ کی خصوصی ذیلی کمیٹی کی سفارشات یقیناً ردی کی ٹوکری میں جا چکیں ہوں گی۔۔