-،-صدی کا سب سے بڑامنصوبہ ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
ایشیا ء کے مشرق میں واقع چین کو دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں سے ایک مانا جاتا ہے اس کی ثقافت چھ ہزار سال پرانی ہے صدیوں تک چین دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم رہی چین کو انسانی تہذیب کے اولین مراکز میں سے ایک مانا جاتا ہے ،آپس میں خانہ جنگی اور شہنشائیت کی بدولت چین بدترین زوال کی طرف گامزن ہو گیا مغربی مداخلت پر یہاں ہونے والی خانہ جنگی( 1851سے 1862)انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہے جس میں ماہرین کے اندازوں کے مطابق 3کروڑ افراد لقمعہ اجل بن گئے رہی سہی کسر یہاں افیون کے بے تحاشہ استعمال جسے کوئی نہ روک سکا نے نکال دی،افیون کی وجہ سے چین اور برطانیہ کے درمیان بھی دو جنگیں ہوئیں پہلی مرتبہ برطانیہ نے کمزور چینی بحریہ کو محض پانچ گھنٹوں میں تباہ کر کے رکھ دیا یوں اس علاقہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پنجے مضبوط ہو گئے اور اس نے ہانگ کانگ کے جزیرے کو ایک معاہدے کے تحت اپنے اختیار میں لے لیا جہاں سے افیون کی تجارت ہوتی تھی (ہانگ کانگ 156سال بعد چین کو واپس ہوا ہے)،اس دوران مغرب میں غربت کے مارے چینی مرد و خواتین سے لدے جہاز پہ جہاز یورپ میں اترے جہاں انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا،آج وہی چین دنیا بھر کی معیشت پر بھاری نظر آ رہا ہے مگر یہودی و صہیونی لابی کی طرح ان نے ترقی پذیر ممالک کو اپنے چنگل میں نگلنے کی بجائے انہیں ترقی کی جانب رواں رکھنے کو ترجیح دی ہے،ستمبر2013میں چینی صدر شی چن پنگ نے قازقستان کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ۔سلک روڈ اکنامک بیلٹ ۔کا اعلان کیا تھا جسے اب عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے،اسی سلسلہ میں شنگھائی میں ۔دا بیلٹ اینڈ روڈ انیسٹی ایٹو۔کا اجلاس جس میں 130ممالک میں سے 1500مندوبین شریک ہوئے ،یہ پراجیکٹ چین کی طرف سے عالمی سطع پر معاشی مشکلات کے خاتمے کی کوشش ہے اس منصوبے کے ذریعے چینی تجارت میں اضافہ اور اپنی معیشت کو ایشیا سے باہر لے جانا شامل ہے چین بہت بڑے انفراسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے درجنوں ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے جس میں جنوبی امریکہ کے ساتھ تعوان بڑھانے کے علاوہ دنیا کی60 فیصد آبادی کے حامل افریقہ ،ایشیااور یورپ کے 65ممالک کو جوڑا جائے گا،اس منصوبے کا مجموعی تخمینہ 890ارب ڈالر ہے جس سے900سے زائد منصوبے مکمل کئے جائیں گے،4برسوں میں 100سے زائد ممالک اور عالمی تنظیموں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے ،چین اس منصوبے کے حوالے سے اب تک کئی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے جس میں اہم ترین 62ملین ڈالر کا پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے اس کے تحت پاکستان میں موٹر ویز اور ریلوے ٹریک کا جال بچھانا،پاور پلانٹس اور ملک کے مختلف حصوں میں صنعتی زونز کا قیام شامل ہے،2014سے 2016تک ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے وابستہ ممالک کے ساتھ چینی تجارت کا حجم 30کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ ان ممالک میں چینی سرمایہ کاری کی مالیت 150ارب ڈالر تک جا پہنچی چین کے صنعتی اداروں نے20سے زائد ممالک میں 56اقتصادی و تجارتی زونز قائم کئے متعلقہ ممالک میں محصولات کی مد میں ایک ایک ارب 10کروڑ کی آمدنی اور ایک لاکھ 80ہزار روز گار کو مواقع پیدا ہوئے چین نے بیلٹ ون روڈ کے بنیادی ڈھانچہ پر124ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا،آئندہ تین برسوں میں اکستان سمیت منصوبے سے وابستہ دیگرترقی پذیر ممالک کے عوام کے طرز زندگی کو بہتر بنانے کے لئے 8.7ارب ڈالر فراہم کرے گا جس سے ہیپی ہوم ،صحت عامہ اور غربت میں کمی کے لئے 100..100منصوبے قائم ہوں گیاس کے لئے چائنا ڈویلپمنٹ بینک اور ایگزم بینک باالترتیب اڑھائی کھرب ارب اور ایک کھرب 30ارب ۔یو آن ۔کے مساوی قرض فراہم کریں گے،یہ منصوبہ ایشیا،یورپ اور افریقی ممالک کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی قوموں کے لئے ہے اس میں ہر آنے والے ملک اور ادارے کو خوش آمدید کہاجائے گا یہ منصوبہ دنیا کی آدھی آبادی کو آپس میں ملا رہا ہے اور اس کو 2030تک مسلسل ترقی کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے،چین صدر شی چن پنگ کے مطابق ون بیلٹ ون روڈ ویژن امن و استحکام اور خوشحالی کا منصوبہ ہے اس کو فروغ دے کر ہم دشمنوں کے کھیل کی طرح پرانی راہ پر چلنے کی بجائے تعاون اور باہمی فائدے کا نیا ماڈل تیار کریں گے ہمیں آپس میں تعاون کا کھلا میدان تیار کرنا اور ایک کھلی عالمی معیشت کا فروغ دینا چاہئے،چین ترقی کے ان تجربات میں تمام ممالک کو بلا تفریق شریک کرنے کے لئے تیار ہے ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے،روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ۔یہ اس صدی کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہو گا اس لئے اس میں کسی رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے اسی سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہے ،ترکی کے صدر طیب اردژگان نے کہا۔اس منصوبے سے دہشگت گردوی نیست و نابود ہو جائے گی،وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہااس منصوبے سے پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گا ٹھوس منصوبہ بندی اور بختہ عزم سے نوجوان نسل جو پاکستان کا 65فیصد طبقے پر مشتمل ہے کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کیا جائے گا،بلا شبہ چین کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جسے اس منصوبہ کی بدولت سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگو نے اعتراف کرتے ہوئے کہا۔یہ منصوبہ خوشحالی ،ترقی اور امن کا ہے دنیا میں غربت ختم ہو گی اس لئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں ۔بلاشبہ چین اس وقت دنیا کا وہواحد ملک ہے جو اس وقت تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی بھی ترقی چاہتا ہے، BRICSمیں چین کے ممبر ساتھی بھارت اور جاپان نے اس کانفرنس سے دوری اختیار کئے رکھی ،نیوز ایجنسی رائٹر کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے کہا ہے کہ اس منصوبے میں شامل ممالک پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ آئے گا ،بھارت اس منصوبے سے اس لئے بھی نالاں ہے اس کااہم ترین حصہ (سی پیک)پاکستان سے ہو کر گذرتا ہے،چین کی ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے پالیسی اپنی مثال آپ ہے یہ وہ منصوبہ ہے جس کے باعث دنیا کے غریب ممالک کو IMFاور ورلڈ بینک کے چنگل سے نجات حاصل ہو گی ،