دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
اپنے ہی جوتے،اپنے ہی سر
سورہ المائدا کی آیت نمبر۱۵ میں فرمان باری تعالیٰ ہے۔اے ایمان والو یہود و انصاری کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک سے دوستی کرے گا وہ بلا شُبہ اُنہی میں سے ہے،۔۔۵۵ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ریاض میں کانفرنس جسے دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد کا نام دیا گیا تھا،مسلم اُمہ کو مبارک ہو کہ اس سربراہی کانفرنس نے مشترکہ طور پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیعت کر لی ہے اور اس کی نام نہاد خلافت کو تسلیم کرلیا ہے اور اس نام نہاد خلیفہ نے جو پہلے زریں احکام جاری کئے ہیں یعنی اپنی تقریر میں جو درس دیا ہے اُن کے تحت ان حکمرانوں کو۱۔مسلم اُمہ میں تفرقہ کے بیج بوکر اُنہیں آپس میں لڑانا ہوگا۲۔اپنے مسلم برادر ملکوں میں انتشار پھیلا کر بھائیوں نے بھائیوں کاقتل کرنا ہوگا اور اس مقصد کیلئے تمہاری ہی دولت سے ہم یعنی۔۔ناگ دیوتا۔۔تمہیں اعلیٰ اور جدید ترین اسلحہ مہیا کرے گے جس سے تم اپنے بھائیوں کا خون بہا کر ہمیں یعنی امریکہ اور ہمارے لے پالک اسرائیل کے مفادات تحفظ کروگے اور حماس جو فلسطینیوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور حزب اللہ جو حماس کے شانہ بشانہ فلسطینیوں کو اُن کا جائز حق دالانے میں اُنکی مدد کر رہی ہے اِن تنظموں کو دہشت گرد قرار دینے میں اسرائیل کا ساتھ دوگے اس طرح تم سب۔۔اپنے ہی جوتے اپنے ہی سروں پر کیسے مارے جاتے ہیں۔۔ کا زریں فن جان کر اس فن کے ماہر بن جاؤگے اور ہماری دوستی کو کبھی نہیں بھول پاؤگے جیسے شاہ ایران اور صدام حسین عالم ارواح میں بھی ہماری نوازشات کو یاد کرتے ہوئے ہمیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ۳۔ ہماری آمد پر تم اپنے تمام تر اسلامی اصولوں کی نفی کرتے ہوئے شاہ اور شہزادوں سمیت میری نیم عریاں بیٹی اور بیوی کے ہمراہ تلواریں لہرا لہرا کر اور جھوم جھوم کر حرمین شریفین کے تقدس کاخیال کئے بغیر رقص کرو گے۔۴۔ولی عہد شہزادہ میری بیٹی کو عربی کافی پینے کا طریقہ بھی بتائے گا۔۵۔تمام کانفرنس میں شریک سربراہوں کو ایران کو تنہا کرنے اور دہشت گرد ملک قرار دینے کیلئے اسرائیل سے تعاون کرنا ہو گا۔یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کے صدر ٹرمپ کی تقریر کے دوران کانفرنس میں موجود تمام حکمران ہمہ تن گوش اسطرح بیٹھے تھے جیسے اُنکے سروں پر ندے بیٹھے ہوں جو ذرا سی جنبش سے اُڑ جائیں گے اور اُسکی کی زیارت اور اُسکے ساتھ ایک تصویر بنوانے کی تگ و دو میں ایکدوسرے سے بازی لیجانے میں بھی مصروف رہے اور صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ملک پاکستان جو اس دہشت گردی کی جنگ میں صف آول کے محاذ پر لڑ رہا ہے اور اب تک ستر ہزار نفوس کی قربانیاں دے چکا ہے اور ایک صد ارب ڈالڑ کا نقصان بھی برداشت کر چکا ہے اُس کی قربانیوں کا ذکر کرنا بھی اُس نے مناسب نہیں سمجھا اور بھارت جو مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زاید کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے اور جو بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے اُسے دہشت گردی سے متاثر ہ ملک قرار دے کر ہماری ہی گود میں بیٹھ کر ہماری داڑھی موندھ رہا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کیا واقعتا ایسے اتحاد کو اسلامی اتحاد کہا جا سکتا ہے؟ جسکی افواج کی کمان بھی پاکستان کے ہونہار اور وطن عزیز میں ہر دلعزیز جنرل راحیل شریف جہنیں پاکستان کا بچہ بچہ اپنا ہیرو تصور کرنے لگا تھا کے سپرد کی گئی ہے،وہ جو کہتے ہیں سر منڈلاتے ہی اولے پڑے۔۔ یہ جنرل صاحب کا بھی کڑا امتحاں ہے جو دنیا کی بہترین افواج کے سپہ سالار تھے اور اب وہ چند ڈالڑوں کے عوض غیروں کے غلام بن چکے ہیں اور اُنہیں اب وہی کچھ کرنا ہو گا جو خادم حرمین شریفین شاہ سلیمان یا اُنکا سر پرست اعلیٰ۔۔ناگ دیوتا۔۔چاہے گا کیونکہ پہلی ہی سربراہی کانفرنس میں چہروں سے نقاب قدرت نے ہی اُلٹ دئیے ہیں کہ اس اتحاد کا اصل محرک امریکہ ہی تھا جس کی اشیر باد سے برادر ملک ایران کے خلاف یہ اسلامی اتحاد تشکیل دیا گیا اور پھر امریکی صدرکو اس نام نہاد اسلامی کانفرنس کی کرسی صدارت پیش کر کے نہ صرف مسلم اُمہ کی توہین کی گئی بلکہ ۵۵ اسلامی ملکوں کے سربراہوں کا بھی مذاق اُڑایا گیا ہے۔غالباََ کانفرنس میں ٹرمپ کی سربراہی کا رد عمل ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ خبر عام ہے کہ جنرل راحیل شریف اسلامی اتحادی فوج سربراہی چھوڑ کر وطن واپس آ رہے ہیں واللہ علم۔۔اونٹ کس کڑوٹ بیٹھے گا۔