دستک

atta_ur_rehman_ashraf

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
سادھو کون؟
پنجابی کی ایک کہاوت ہے۔کہ بھینس رینگتی ہے،کلے کے زور پر۔یعنی جس سے بھینس کو باندھا جاتا ہے اگر وہ لکڑی کا کلہ ہی مضبوط نہ ہو تو وہ اُسے آسانی سے توڑ کر آزاد ہو سکتی ہے۔کچھ بھی کہیں جناب نہال ہاشمی کاکلہ اس ملک کی سب سے مضبوط طاقت وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف ہیں بھلا ایک سادھو بچہ اپنے سادھو کی ہدائت کے بنا کوئی عمل کیسے انجام دے سکتا ہے جب تک اُسے سادھو جی کا مکمل اشیر باد نہ ہو اب جناب نہال ہاشمی کی اگر دھمکیوں کا غیر جانب داری کے ساتھ جائزہ لیاجائے تو اس سوال کا ایک ہی جواب ہو گا کہ اُس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ اُسکے اپنے نہیں ہو سکتے کیونکہ نہ اُس میں اتنی ہمت ہے اور نہ ہی اتنی جُرات کہ و ہ کھلم کھلا آزادعدلیہ اوردوسرے قومی اداروں کو ایسی دھمکیاں دے سکے جہاں تک جناب نہال ہاشمی کا سوال ہے سب جانتے ہیں کے وہ پاکستان مسلم لیگ ن کا جیالا اور وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کا وفادار اور زبردست حامی ہے اور اسی وفا داری کے صلہ میں ہی اُسے کراچی کا رہایشی ہونے کے باوجود پنجاب سے سینٹر کامیاب کروایا گیا تھا کیونکہ سابق صدر پاکستان جناب پرویز مشرف کے دور میں جناب نواز شریف کے حق میں آواز بلند کرنے کی بنا پر اُسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔وہ جو کہتے ہیں کہ انسان ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور پھر ایک کامیابی کے بعد دوسری کامیابی کیلئے تگ ودو جاری رکھتا ہے او ر بہتر مستقبل کیلئے قربانی کا بکرا بننے کیلئے اپنے انجام سے بے خبر تیار ہو جاتا ہے اور جناب نہال ہاشمی نے بھی یہی سوچ کر۔آگ کا دریا۔عبور کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا کیونکہ اُسنے سوچا کہ اگر اُسے جناب پرویز مشرف کے دور میں تھوڑی سی مشکل اُٹھانے پر سینٹر بنا دیا گیاہے تو جناب نہال ہاشمی نے بھی اُس دۂاتی کی طرح جس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خضور۔توپ۔کے لائسنس کی استدعا کی تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اُسے بلا کر پوچھا کے اُسے۔توپ۔کے لائسنس کی ضرورت کیوں پیش آئی تو دۂاتی نے جواب دیا جناب والا میں نے گزشتہ سال اپنی بیٹی کی شادی کیلئے سو من چینی کی درخواست دی تھی مگر سرکار نے مجھے صرف ایک من چینی دینے کے احکام جاری کیے یہی سوچ کر میں نے۔توپ۔ کالائسنس مانگا ہے کہ اُس حساب سے آپ مجھے کم از کم پستول کا لائسنس تو دے ہی دیں گے۔میرے خیال میں جناب نہال ہاشمی نے بھی یہی سوچا ہو گا کہ شریف خاندان کو اس وقت پاناما کی مصیبت کا زبردست سامنا ہے کیوں نہ میں اپنا نام شہیدوں میں لکھوا کر ائندہ انتحابات کے بعد اپنی وزارت پکی کر لوں کیونکہ شریف خاندان احسانوں کا بدلہ قومی خزانے سے ادا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔قارئین ذرا تھوڑی غور و فکر سے ان الفاظ کا جائزہ لیں۔ویسے کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا تیر اور مُنہ سے نکلے الفاظ واپس نہیں ہوا کرتے۔اب حکومت خواہ کچھ بھی جواز پیش کرے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ جناب نہال ہاشمی کی صورت میں کمان،تیر اور الفاظ حکومت کے ہی تھے جناب نہال ہاشمی فرماتے ہیں۔تمہارا وہ حشر کریں گے کہ تمہاری نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔۔۔جانتے ہو تم کس کا حساب لے رہے ہو؟ جناب نہال ہاشمی کا لہجہ اسقدر جذباتی اورغصے سے بھر پور اور گستاخانہ تھا کہ کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ایک معمولی سا سینٹر اپنے قومی اداروں کو کسی حکومتی سر پرستی کے بغیر ایسی دھمکیاں دینے کی جُرات کر سکتا ہے حالانکہ حکومت نے رد عمل کے طور پر جناب نہال ہاشمی کی۔ن لیگ۔ کی بنیادی رکنیت ختم کر کے اُسکی سینٹر کی نشست سے بھی استیفیٰ لے لیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے بھی اس دھمکی کا فوراََ نوٹس لیکر اُس پر فرد جرم عاید کرکے کاروائی کا آغاز کردیا ہے اور اب یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے،جہاں تک۔ن لیگ کی حکومت کا تعلق ہے اُنہوں نے دسمبر ۷۹۹۱ میں بھی عدالت عظمیٰ پر حملہ کردیا تھا اور فاضل ججز نے بھاگ کر اپنی جان بچائی تھی اور۔ن لیگ۔ کے خلاف مقدمہ بھی بنا تھا مگر انہیں اس مقدمے بھی کلین چٹ مل گئی تھی اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اعتراض اپنی جگہ درست ہے کہ عدالتوں نے اُنہیں کبھی بھی کوئی ایسا ریلیف نہیں دیا کاش کے ایسا ریلیف جناب ذوالفقار بھٹو شہید کو بھی دے دیا جاتا جو کشور خدا داد پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا خالق تھا اور اسی جرم میں ہی اُسے سامراجی قوتوں نے جنرل ضیا الحق کے ذریعے ایک سازش کے تحت ملک میں مارشل لالگوا کرا سے اقتدار سے سبکدوش کیا گیا تھا اورپھر اُسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا کیونکہ امریکہ جانتا تھا کہ وہ بھٹو شہید کی موجودگی میں روس کے خلاف جنگ میں اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکے گا اس لئے اُنہوں نے جنرل ضیا الحق مرحوم کی سرپرستی میں دنیا بھر کے دہشت گردوں کو افغانستان میں جمع کر کے اُسے اسلامی جہاد کا نام دیا گیا جس کا انعام دہشت گردوں کی صورت میں ملا اور اب تک ہم ستر ہزار معصوم جانوں کی قربانی دے چکے ہیں اور جنگ ابھی تک جاری ہے۔ جہاں تک بھٹو شہید کا سوال ہے وہ آخری دم تک عالمی طاقتوں کے سامنے جھکا نہیں اور اپنی جان دیکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا اور مرتے مرتے بھی پاکستان کو ناقابل تسخیربنا گیا،قارئین تو ہم بات جناب نہال ہاشمی کی جذباتی تقریر کی کر رہے تھے جو جوش خطابت میں اپنے ملک کے قانون اور قومی اداروں کے اخترام کی تمام حدیں عبور کر گئے اب اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیکر سماعت شروع کر دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہعدالت عظمیٰ اس کے پس پردہ سازش کو بے نقاب کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے