-،-برہان مظفر وانی شہید کی شجاعت اورشہادت ہرمسلمان کیلئے مشعل راہ ہے-،- محمد ناصر اقبال خان

mnk

محمد ناصر اقبال خان
لاہور( )برہان مظفر وانی شہید کی شجاعت اورشہادت ہرمسلمان کیلئے مشعل راہ ہے۔ اس کی شہادت نے جدوجہد آزادئ کشمیر کو نیا ولولہ اور جذبہ عطا کیا ہے۔ پاکستانی والدین اپنے بچوں کی پرورش اس نہج پر کریں کہ وہ بڑے ہوکر برہان وانی شہید کے نقش قدم پر چلنے پرفخر محسوس کریں۔ ان خیالات کا اظہارچیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے برہان وانی شہید کے یومِ شہادت پر ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں پاکستان اور کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور کشمیر کاز سے اپنی اٹوٹ وابستگی کا بھرپوراظہار کیا۔ اس موقع پر ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین محمددلاورچودھری ،مرکزی سینئر وائس چیئرمین طمیاں محمد سعید کھوکھر،مرکزی سیکرٹری جنرل محمدناصراقبال خان‘ شاہد رشید‘ محمد آصف عنایت بٹ‘ سرفراز خان نیازی‘ پروفیسر نعیم مسعود‘ میاں عبدالوحید ‘ مبین قاضی‘ تنویر خان اور کاشف سلمان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات کثیر تعداد میں موجود تھے۔پروگرام کاآغازحسب معمول تلاوت کلام پاک‘نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ روحی کھوکھر ایڈووکیٹ نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ حذیفہ اشرف نوشاہی نے بارگاہ رسالت مابؐ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ اس سیمینار کی نظامت ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد ناصر اقبال خان نے کی۔ ۔چیف جسٹس(ر)میاں محبوب احمد نے کہا کہ کشمیر کو بھارت سے آزاد کرانے کے لئے باتوں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ برہان وانی نے عین جوانی کے عالم میں جام شہادت نوش کرکے نوجوان نسل کے لئے ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی مائیں برہان وانی شہید جیسے بچے پیدا کریں اور والدین اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت برہان وانی شہید کے والدین کی طرح کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں آجکل جس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں‘ ان سے نبرد آزما ہونے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی مفاد کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں اور قوم میں جذبۂ جہاد پیدا کرنے کے لئے برہان وانی شہید کی جدوجہد کو اجاگر کریں۔ ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین محمد دلاور چوہدری نے کہا کہ برہان وانی نے بھارتی بربریت کیخلاف علم بغاوت بلندکرتے ہوئے عالمی ضمیر کوجھنجوڑا ہے۔جموں وکشمیر کے مسلمان اپنے حقِ آزادی کیلئے بھاری قیمت چکارہے ہیں۔اگرمقتدرقوتوں نے کشمیر کی آزادی کیلئے اپناکردارادانہ کیا توامن وآشتی کاخواب چکناچورہوجائے گا۔کشمیریوں کی تحریک کی بھرپورحمایت کیلئے نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں تھا۔ کشمیر کے گلی کوچے میں لہرانے والا پاکستانی پرچم اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ کشمیر پاکستان کاحصہ بن چکا ہے اور بھارت کو اسی حقیقت کا غم نگلتاجارہا ہے۔آئندہ ہمیں جموں و کشمیر کوپاکستان کاحصہ لکھنا اورپکارناہوگا۔ ہمیں خطے میں امن کا سب سے پہلے کا نعرہ لگا کر مسئلۂ کشمیر حل کروانا چاہیے۔ چین اور روس کا تعاون حاصل کرنا چاہیے۔تحریک آزادی کشمیر کی رہنما مشعال حسین ملک نے کہا کہ برہان وانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو ایک مثبت زاویے میں استعمال کیا۔ برہان وانی جذبۂ ایمانی کے تحت تن تنہا دشمن کی آٹھ لاکھ فوج سے ٹکرا گیا۔ کشمیری آج بھی افضل گرو کی میت کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کے ہزاروں پیارے گمنامی کی موت مارے گئے۔ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی کہانی روشنائی سے نہیں بلکہ اُن کے مقدس خون سے لکھی جارہی ہے۔ کشمیری گھرانوں میں پیدا ہونے والے لڑکوں کے نام برہان کے نام پر رکھے جارہے ہیں۔ ہمارے گھر جلائے گئے‘ گھروں پر فائرنگ کی گئی‘ ہمیں نظر بند کیا گیا‘ جوانیاں ختم ہو گئیں لیکن آزادی کی تڑپ کشمیری نوجوان میں کم نہیں ہوئی یہ جذبہ حریت ماند نہیں ہوا۔ کشمیری بچے جب بولنا سیکھتے ہیں تو لفظ ماں کی جگہ آزادی پہلے بولتے ہیں۔جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں آزاد کشمیر کی حکومت کو برہان وانی کی شہادت سرکاری طور پر منانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کشمیر جغرافیہ‘ معیشت یا قومیت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ نظریہ کا مسئلہ ہے۔ یہ تکمیل پاکستان کا مسئلہ ہے۔ انڈیا پاکستان پر ایٹم بم نہیں گرائے گا لیکن واٹر بم گرانے سے باز نہیں آئے گا۔ اس کی وہ شروعات کر چکا ہے۔ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی غاصب فوج آزادی کے متوالوں پر پہرہ دینے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔فوج اور جدید اسلحے کے ذریعے ایمان کی حرارت کو نہیں دبایا جاسکتا۔برہان وانی کی شہادت نے ثابت کردیا ہے کہ آزادی کی فکر نئی نسل کو منتقل ہوچکی ہے۔سونیا گاندھی تو کشمیر کو ہاتھوں سے نکلنے کا اعتراف کرچکی ہے۔بھارت کی باقی سیاسی قیادت کو بھی نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔معروف دانشور مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ برہان مظفر وانی شہید آزادی کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو آج تین طاقتوں سے یعنی بھارت‘ اسرائیل اور امریکہ سے برسرپیکار ہیں۔ وہ اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ اِن طاقتوں سے لڑائی کوئی نئی بات نہیں بلکہ گزشتہ1400 سال سے یہ لڑائی جاری ہے۔ قائداعظمؒ نے ریاستِ مدینہ اور پاکستان کو ایک دوسرے کے مماثل قرار دیا تھا اور دونوں الفاظ یعنی پاکستان اور مدینہ ہم معنی ہیں۔ نریندرا مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل اسی بات کا شاخسانہ ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مودی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور اسرائیل کا ایک ہونا آسمان پر ہی طے پا گیا تھا۔ورلڈ کالمسٹ کلب برطانیہ کے سینئرممبر مسعود اختر ہزاروی نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے جدوجہد کو ایک نئی زندگی دی اور بھارت کو اقوام عالم میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نہتے مسلمانوں کو اپنی مذموم درندگی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں مسئلہ کشمیر پوری امت کا مسئلہ ہے۔ تقریب کے دوران ورلڈ کالمسٹ کلب کی رکن‘ معروف شاعرہ اور کالم نگار ناہید رانی نے نظم چناروں نے لہو اوڑھا ہوا ہے۔ گلابوں نے کفن پہنا ہوا ہے بھی پیش کی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بیگم جہاں آرا وٹونے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔ یہاں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ کشمیر کے معاملے میں پوری قوم ہم آواز ہے۔برہان وانی کی شہادت پر تاریخی جنازہ ہوا۔ حکومت وقت کو کشمیر کے معاملے میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ برہان وانی کی شہادت دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی حریت کی تحریکوں کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے۔ بھارتی حکمران اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کے جرم کا اعتراف بھی کرتا ہے اور کوئٹہ‘ کراچی اور دیگر جگہوں پر علیحدگی پسند قوتوں کو مدد فراہم کرنے کا بھی اعتراف کرتا ہے۔ ہماری طرف سے اس کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حکمت عملی تبدیل کریں۔ اقدام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قرارداد وں پر عمل درآمد کرانا ضروری ہے۔ میں افسوس کے ساتھ مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین تبدیل کیا جائے۔ یہ سیاسی نہیں قومی مطالبہ ہے۔ وفاقی حکومت نصاب تعلیم میں ایک باب مسئلہ کشمیر کے نام سے مختص کرے۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ ہم میں سے شاید ہی کسی کے گھر سے قربانی دی گئی ہو آج کشمیرکا ہر گھرانہ آزادی کی اِس تحریک میں قربانیاں دے رہا ہے۔ وہاں ابھی تک آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوا۔ کیا بطور مسلمان اور پاکستانی ہمارا فرض نہیں کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔ برہان وانی نے 15 سال کی عمر میں آزادی کا پرچم اٹھایا اور 23 سال کی عمر میں شہادت حاصل کی۔ اُنہوں نے کہا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کشمیر کے ایشو کو ہرپاکستانی اجاگر کرے۔ ہمارے لیے کشمیریوں کی محبت لمحۂ فکریہ ہے اور ہماری کشمیر کے لیے محبت ایک سوالیہ نشان ہے۔ تاریخ کشمیریوں کی جدوجہد کو کبھی نہیں بھولے گی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قیوم نظامی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا وژن زبردست خراج تحسین کا حق دار ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف ہمیں پاکستان بنا کر دیا بلکہ کشمیر کی اہمیت کے پیش نظر اسے شہ رگ قرار دیا۔ پاکستان نے کبھی جنونیت نہیں دکھلائی ۔ اس نے کبھی کسی انتہا پسند کو اپنا قائد تسلیم نہیں کیا لیکن بھارت نے تسلیم شدہ دہشت گرد کو پہلے اپنا وزیراعلیٰ بنایا اور اب اسے اپنا وزیراعظم بنا رکھا ہے۔ سیمینارکے اختتام پر علامہ ایاز ظہیر ہاشمی نے برہان وانی شہید‘شہدائے کشمیر و تحریک پاکستان‘ نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چےئرمین جناب مجید نظامی اور جناب غلام حیدر وائیں کے بلندئ درجات کیلئے دعا کروائی۔

WCC Photo 8 July 2017