-،-پاکستانی باکسر محمد وسیم نے پانامہ میں سبز پرچم بلند کردیا ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل

پاکستانی باکسر محمد وسیم عرف ۔فیلکن خان۔نے پانامہ کے باکسر ایلیسر والڈیزکو دوسرے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر کے نہ صرف اپنے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا بلکہ پاکستانی سبز ہلالی پرچم کو بھی بلند کر دیا ،یہ مقابلہ آٹھ راؤنڈز پر مشتمل تھا تاہم محمد وسیم دوسرے ہی راؤنڈ میں مخالف باکسر کو زیر کرنے میں کامیاب ہو گئے محمد وسیم کی انٹر نیشنل مقابلوں میں یہ مسلسل چھٹی کامیابی ہے انہوں نے اس بار بھی رنگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیااس کامیابی کے ساتھ ہی سلور فلائی ویٹ چیمپئین محمد وسیم سلور فلائی ویٹ کیٹیگری کی عالمی درجہ بندی میں اپنی پہلی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا ہے،پانامہ کے دارلحکومت پانامہ سٹی میں فائٹ کے دوران محمد وسیم ابتدا سے ہی میزبان ملک سے تعلق رکھنے والے حریف کھلاڑی پر حاوی نظر آئے اور اسے دوسرے ہی راؤنڈ میں مکمل طور پر آؤٹ کلاس کر دیا تھاان کی حیرت انگیز کارکردگی دیکھنے کے لائق تھی جب انہوں نے مخالف کھلاڑی کو سنبھلنے کا بھی موقع نہ دیا،کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد وسیم نے اپنی اس شاندار کامیابی پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائیں کرنے پر ساری قوم کا شکریہ اداکیا ہے ،گذشتہ سال 17جولائی کوجنوبی کوریا کے دارلحکومت سیؤل میں ہونے والے مقابلہ میں فلپائن سے تعلق رکھنے والے باکسر ۔جیتھرا ولیوا۔کو شکست دے کر سلور بیلٹ جیتنے والے پہلے پاکستانی باکسر بن گئے بعد میں نومبر میں جنوبی کوریا ہی میں ایک اور فلپائنی باکسر ۔گیمل میگرامو ۔کو ایک سخت مقابلے کے بعد شکست سے دوچار کرتے ہوئے اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا تھایہ محمد وسیم کے کیرئیر کی پانچویں پروفیشنل فائٹ تھی جس میں محمد وسیم نے صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے فتح حاصل کی ان کے حریف ایک تجربہ کار باکسر تھے جو اس سے قبل17بار فائٹس جیت چکے تھے اور یہ ان کی18ویں فائٹ تھی جس میں ایک پاکستانی نے اسے بچھاڑ دیا،گذشتہ ماہ6 جون کو ورلڈ باکسنگ کونسل کی جانب سے جاری رینکنگ میں محمد وسیم کو فلائی ویٹ کیٹیگری(بعض کھیلوں میں کھلاڑیوں کووزن کے لحاظ سے جوڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اسے فلائی ویٹ کہتے ہیں)میں پہلی مرتبہ عالمی نمبر ونباکسر بننے کا اعزاز حاصل ہواجسے انہوں نے اپنے اور اپنے وطن کے لئے بہت بڑا اعزاز قرار دیا،اس رینکنگ کے مطابق دوسرے نمبر پر میکسیکو کے فرانسسکو اوڈ ریگوئز جونئیر دوسرے جبکہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اینڈریو سلبی تیسرے نمبر کے حقدار ٹھہرے،29اگست 1987کو کوئٹہ میں ایک سرکاری ملازم کے ہاں جنم لینے والے محمد وسیم کو 21صدی کا پہلا پاکستانی باکسر قرار دیا جا رہا ہے جو بہترینFlyweight باکسر ہیں،اپنے حریف پر برق رفتاری اور چالاکی سے چھپٹنا ان کی خاص صلاحیت ہے،2009میں کنگز کپ بنکاک تھائی لینڈ ،2010میں ایران میں منعقدہ ایشین گیمز ،ورلڈCombaitگیمز چائنا ،21واں انٹرنیشنل رحمت کامرٹ باکسنگ ٹورنامنٹ استنبول ترکی اورساؤتھ ایشین گیمز ڈھاکہ بنگلہ دیش میں کانسی کے تمغے جیتنے کا اعزاز حاصل کیا،2011میں جکارتہ انڈونیشیا میں ہونے والے پریذیڈنٹ کپ کے کوارٹر فائنل میں سنگا پور کے باکسر کو شکست دی،اسی سال اسلام آباد میں دوسرے شہید بے نظیر بھٹو باکسنگ ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کی تاہم فائنل ہارنے کے باوجو د انتظامیہ نے اسے ٹورنامنٹ کا بہترین باکسر قرار دیا،2014میں گلاسکو اسکاٹ لینڈ میں منعقد ہونے والی کامن ویلتھ گیمز جس میں محمد وسیم پہلا پاکستانی ہے جس نے فائنل تک رسائی حاصل کی مگر فائٹ کے دوران آسٹریلیا کی یہاں مناپلی کی بدولت مقابلہ ختم کر دیا حالانکہ محمد وسیم جیت کے قریب تھے تاہم اسے سلور میڈل دیا گیا،اسی سال وسیم نے ایشین گیمز میں ایک بار اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیااور ان گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا،محمد وسیم نے2012میں AIBA(انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن amatuer)میں نمائندگی حاصل کر کے پروفیشنل باکسنگ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا،اسپانسر شپ کے مسائل کے سبب چھ ماہ تک وہ باکسنگ سے دور رہے۔ جون2015 میں اس نے کورین پروموٹر اینڈی کم سے معاہدہ کیا جس کے بعد اس جاپان میں جاپانی باکسر سے مزید ٹریننگ حاصل کی یہیں سے اس کی کامیابی کی راہیں کھلتی چلی گئیں اور وہ عالمی ٹائٹل جیتنے لگے ۔فیلکن خان ۔پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے WBC (World Boxing Councle) کا ٹائٹل جیتا۔محمد وسیم کے پرورموٹر کے مطابق اب وسیم کی نظریں گولڈ فلائی ویٹ چیمپئین بننے پر مرکوز ہیں اور وہ موجودہ عالمی چیمپئین چاپان کے ۔ڈیگو لیگا۔کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں امید ہے کہ محمد وسیم کی گولڈ فلائی ویٹ کے لئے فائٹ اسی سال دسمبر میں ہو گی ،محمد وسیم سہولیات اور سرکاری سرپرستی نہ ملنے کے باجود آج اس مقام پر ہیں جو محض وسائل نہ ہونے پر باکسنگ کی دنیا سے کئی ماہ دور بھی رہے حالانکہ اس وقت تک وہ متعدد مقامات پر پاکستان کی نمائندگی کر کے پاکستانی پرچم بلند کر چکے تھے مگر سرکار نے ان کی طرف دھیان نہ دیا ،اب بھی حکومت کو اس عظیم پاکستانی باکسر کی مکمل سرپرستی کرنی چاہئے تا کہ وہ اس کھیل میں کامیابیوں کے مزید جھنڈے گاڑ سکیں ،قوم اس سپوت کی تاریخی کامیابی پر بہت خوش اور مزید کامیابیوں کے لئے دعا گو ہے۔