۔،۔ جولائی کے سائے ۔،۔طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال۔،۔

butt

طارق حسین بٹ شانؔ

اسٹیلشمنٹ کے حواریوں اور خوشہ چینوں کی پاکستان میں کوئی کمی نہیں ہے ۔ایک ڈھوندو ہزار ملتے ہیں۔یہ لوگ دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنے کا فن جانتے ہیں۔ان کیلئے جھوٹ کو سچ ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ایک تو اسٹیبلشمنٹ کا خوف اور پھر اوپر سے ضمیر فروشوں کا شورو غوغہ انسان جائے تو جائے کہاں ؟۔ضمیر فروشوں کا مدعا صرف مفاداتِ عاجلہ کا حصول ہوتا ہے ہے لہذا وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں ۔ایسا ہی موسم تھا ایسا ہی منظر تھا جب یہ حواری ایک نابغہ روزگار ذولفقار علی بھٹو پر پل پڑے تھے۔ان کی زبانیں سو سو گز کی ہو چکی تھیں اور صرف اس ایک شخصیت کے خلاف زہر اگل رہی تھیں جس نے انھیں آئین، وقار اور استحکام سے نوازا تھا۔وہ انتقام میں اندھے ہو چکے تھے لہذا انھیں صرف اس کی لاش چائیے تھی ۔وہ لاش سے کم پر رضامند ہونے کے لئے تیار نہیں تھے ۔وہ اس کی لاش کو ہر حال میں لاڑکانہ بھیجنا چاہتے تھے کیونکہ یہی ان کے آقا کی خواہش تھی اور ضمیر فروشوں کے لئے آقا کی خواہش خدائی حکم سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ اگر آقا کا حکم خدائی حکم سے زیادہ اہم نہ ہو تو پھر دنیا میں اصولوں اور سچائی کاخون کیسے ہو؟لہذا کسی کو اس بات پر نہیں چونکنا چائیے کہ لوگ انسانوں کے حکم کو خدا کے حکم سے اہم کیوں سمجھ لیتے ہیں؟یہ جو آج کل پاناما لیکس کی آر میں ٹیلیویژن پر بیٹھ کر جمہوریت پر بڑے بڑے بھا شن دیتے ہیں کاش کوئی ان کے ماضی کی ایک آدھ جھلک عوام کو بھی دکھا دے تا کہ عوام کو یقین ہو جائے کہ یہ اصول پرست نہیں بلکہ یہ پکے بہروپئے ہیں ۔ان کا ماضی اس بات کی گواہی دینے کے لئے کافی ہے کہ انھیں نہ تو جمہوریت سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اصولوں سے ان کا کوئی واسطہ ہے۔ اپنے آقاؤں کے ایک اشارے پر اپنی خودی کو بیچ دینا ان کا مطمعِ نظر ہے۔وہ نئے نئے نقاب پہن کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کو ایک سچا جمہوری انسان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح کی کوئی سوچ ان کو چھو کر بھی نہیں گزری ہوتی۔وہ اسٹیبلشمنٹ کے موہرے ہوتے ہیں لیکن اپنی چرب زبانی سے خود کو عوام کا سچا خادم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو جھوٹ اور مکر و فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا نہیں ہوتا۔وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہو تے ہیں ۔وہ دپردہ سازشی ہوتے ہیں لیکن مخلص ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔جو لوگ انھیں جانتے ہیں وہ تو ان کی کسی بات کا اثر قبول نہیں کرتے کیونکہ جھوٹے انسانوں کی بات کو کوئی ذی ہوش انسان وزن دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا لیکن ہماری وہ نوجوان نسل جو ان کی سازشوں اور کرتوتوں سے واقف نہیں ہے ان کے دامِ فریب میں آ کر انھیں بڑا پارسا سمجھنے لگتی ہے لیکن جب نوجون نسل بھی ایسے دوغلے پن کے حامل لوگوں کی اصلیت جان جائیں گے تو ان پر تف کریں گے کیونکہ یہی ہیں وہ لوگ جو در حقیقت پاکستان میں عدل و انصاف اور جمہوریت کے قاتل ہیں۔،۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب مارچ ۱۹۷۷ ؁ میں انتخابات کے بعد پی پی پی نے پورے ملک میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئے تھے۔نو ستاروں کی چھاؤں میں ڈیرہ جمائے وہ پاکستان قومی اتحاد جسے یہ باور کروایا گیا تھا کہ متحد ہو جانے کی صورت میں تمھاری فتح یقینی ہے لہذا متحد ہو جاؤ ۔وہ بے شمار تضادات کے باوجود بھٹو دشمنی میں وقتی طور پر متحد تو ہو گئے لیکن ذولفقارو علی بھٹو کے سحر کا مقابلہ کرنا ان کے بس میں کہاں تھا ؟ذولفقار علی بھٹو کوئی ہنگامی طور پر ابھرا ہو قائد نہیں تھا بلکہ وہ پیدائشی لیڈر تھا لہذا اس کا مقابلہ کرنا چھوٹے موٹے سیاستدا نوں کا کام نہیں تھا۔قومی اتحاد کے سیاستدانوں میں کوئی ایک شخص بھی ملک گیر مقبولیت کا حامل نہیں تھا۔سارے سیاستدان علاقائی تھے لیکن فتح کی حوا ہش رکھتے تھے اس ایک لیڈر کے خلاف جو پورے پاکستان کا واحد لیڈر تھا۔چیونٹیاں ہاتھی کا شکار کرنے نکلی تھیں۔ شیر کا شکار کرنا کیا کسی گیڈر کے بس میں ہوتا ہے؟پہلے تو قومی اتحاد کے قائدین سے یہ پوچھا جانا چائیے تھا کہ تم نے جو اپنی علیحدہ علیحدہ سیاسی جماعتیں بنائی ہوئی ہیں اگر ان کے نام پر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تو پھر انھیں کیا دہی بھلے بیچنے کے لئے بنایا ہوا ہے؟کیا ذاتی مفادات کے لئے پریشر گروپ بنا رکھے ہیں تاکہ جیسا موسم ہو ویسا ہی لباس زیبِ تن کر لو۔مزے کی بات تو تب تھی جب یہ ساری جماعتیں اپنے اپنے نام اور اپنے اپنے منشور پر انتخاب میں حصہ لیتیں اور ذولفقار علی بھٹو کی پی پی پی کو شکست سے دوچار کرتیں لیکن ایسا کرنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے اور سرپرستی میں پاکستان قومی اتحاد تشکیل دے کر ذولفقار علی بھٹو جیسے عظیم قائد کو چیلنج کرنے نکل کھڑی ہوئیں۔ان کا اتحاد ہی ان کے من میں چھپے ہوئے خوف کو طشت از بام کرنے کے لئے کافی تھا۔اگر انھیں علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑنے کی صورت میں جیت کا یقین ہو تا تو پھر وہ نو ستاروں کے جھرمٹ میں اکٹھے کیوں ہوتے؟ان کا اکٹھا ہو کر الیکشن لڑنا ان کے بونا ہونے کی گواہی دے رہاتھا۔وہ ذولفقار علی بھٹو کے سامنے بہت کوتاہ قد تھے۔وہ چھوٹے تھے لیکن ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہو کر بڑا بننے کی ریہرسل کر رہے تھے۔ کیا اس طرح کوئی کوتا ہ قد بڑا بن جاتا ہے ؟قومی اتحاد کا قیام ہی ان کی شکست کا واضح ثبوت تھا۔اگر وہ اتنے ہی طاقتور تھے تو پھر انھیں متحد ہو کر میدان میں اترنے کی کیا ضرورت تھی؟ایک پہلوان کو نو پہلوان باہم مل کر بچھاڑنے نکلے تھے لیکن وہ پھر بھی اکیلا ان سب پر بھاری تھا کیونکہ سیاست کو اس کی نظر میں رومانس کا درجہ حاصل تھا اور رومانس میں ڈو با ہوا انسان کیا کبھی ہارا ہے؟
نو ستاروں کا جال بچھانے کے باوجود بھی مارچ ۱۹۷۷ ؁ کے انتخابات میں ہار قومی اتحاد کا مقدر بنی لیکن بے شرم اتنے تھے کہ اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے منکر ہو گئے ۔ نو ستاروں کے جھرمٹ میں پگڑیوں والے،عماموں والے،منبروں والے اور درگاہوں والے زیادہ شعلہ بار تھے کیونکہ ان کے تقدس کے بت کو عوام نے پاؤں تلے روندھ ڈالا تھا۔وہ تو اپنے ہاتھ کو خدا کا ہاتھ کہتے تھے لیکن یہاں عوام نے ان کے ہاتھ کو بے رحمی سے جھٹک دیا تھا لہذا اس سلوک سے وہ خونخوار ہو گئے تھے اور اس انسان کو جس کے ہاتھوں یہ محیر العقول کارنامہ سر انجام پایا تھا اسے زندہ در گور کرنے کیلئے آپے سے باہر ہو گئے تھے۔وہ خود کو مقدس سمجھتے تھے لہذا یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی مقدس شکست سے ہمکنار ہو جائے؟وہ بڑے بے چین اور منتقم المزاج لوگ تھے اور اس انسان کو جس کے ہاتھوں ان کے تقدس کا بت چکنا چور ہوا تھا اسے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینا چاہتے تھے لیکن اسے مٹانا ان کے بس میں نہیں تھا کیونکہ وہ قائدِ عوام تھا اور عوام کے دلوں کی دھڑکن تھا۔وہ عوام کے دلوں میں بستا تھا اور دلوں میں بس جانے والے کب مرا کرتے ہیں؟ یہی تھا وہ مقام جہاں اسے مٹانے کیلئے ایک سازش تیار ہوئی جسے عالمی طاقتوں نے اپنی سر پرستی سے نوازا کیونکہ قائدِ عوام ان کی نظروں میں بھی اپنی خودداری کی وجہ سے بری طرح کھٹکتا تھا ۔ اسٹیبلشمنٹ،امریکہ بہادر اور قومی اتحاد ایک پیج پر آگئے لیکن وہ مردِ درویش پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔اس نے کسی سے مرعو ب ہونا سیکھا ہی نہیں تھا لہذا وہ ان سب سے کیوں مرعوب ہوتا؟میڈیا کے شور اور پروپیگنڈہ سے فضا کو آلودہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے الیکشن نہیں جیتا جا سکتا۔الیکشن عوامی مقبولیت کے زور پر جیتا جا تا ہے اور عوامی مقبولت اور عوام کی محبت ذولفقار علی بھٹو کا مقدر تھی۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد ذولفقار علی بھٹو ایک ایسے قائد تھے جھنیں عوام دل سے چاہتے تھے۔قومی اتحاد چوں چوں کا مربہ تھا اور مختلف قائدین کا چھتہ تھا اور اس چھتے میں ذولفقار علی بھٹو کو چیلنج کرنے کی اہلیت نہیں تھی۔ذولفقار علی بھٹو کو بیلٹ (ووٹ)سے شکست نہیں دی جا سکتی تھی۔اسے صرف بلٹ سے مارا جا سکتا تھا اور ایسا ہی کیا گیا۔چالیس سالوں کے بعد ہم ایک دفعہ پھر اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں فیصلے بیلٹ سے نہیں بلٹ سے کئے جاتے ہیں۔چہرے بدل گئے ہیں لیکن اسٹیبلشمنت کی پرانی عادت اب بھی نہیں بدلی۔وہ اب بھی اپنی پرانی دھن میں مست ہے اور اپنی مستی میں کسی کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہے۔،۔