۔،۔ پانامہ کیس کا فائنل راؤنڈ اور جے ٹی آئی کی حکمران خاندان کے خلاف رپورٹ ،( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
دس جولائی کو پاکستانی تاریخ کا اہم ترین دن تھا،بڑے کیس کی بڑی سماعت جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے قومی تاریخ کا انمٹ حصہ بن چکی ہے ،کروڑوں دلوں کی دھڑکنیں سپریم کورٹ کی قائم کردہ ۔جے ٹی آئی ۔کی رپورٹ کے حوالے دھڑکتی رہیں،سخت ترین سیکیورٹی میں جے ٹی آئی اراکین سپریم کورٹ پہنچے ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی بھی رپورٹ ۔ٹرالی ۔میں عدالت اعظمیٰ کے اندر لے جائی گئی ہو،ٹی بریک کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی پینچ نے کورٹ نمبر 3 میں پانامہ کیس کی سماعت کا آغاز کیا،سماعت کے بعد جلد ہی حالات کا اندازہ ہوناشروع ہوا جب عدالت نے ریکارڈ ٹیمپرنگ کے الزام میں ایس ای سی جی کے چیر مین ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ کا حکم جاری کر دیااس ٹیمپرنگ کو برطانوی فرانزک لیبارٹری نے بھی کنفرم کیا ،غلط رپورٹنگ پر جنگ کروپ کے میر شیکل الرحمان اور رپورٹر احمد نورانی کو توہین علدات کا نوٹس جاری کردیا،سپریم کورٹ نے تمام میڈیا چینلز کو جاری سرکاری اشتہارات کی تفصیلات کے علاوہ لیگی رہنماؤں آصف کرمانی ،سعد رفیق اور طلال چوہدری کی تقریروں کا متن بھی طلب کر لیا،بند بکسوں میں 10والیم پر متشمل رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تو جے ٹی آئی کے سربراہ واجد ضیاء کی درخواست پر والیم دس کو پبلک نہ کرنے کی استدعا منْطو ر کرتے ہوئے باقی رپورٹ عام کر دی گئی ،جے ٹی آئی رپورٹ میں شریف خاندان کو ملزم ٹھہرایا گیا، رپورٹ کے مطابق حکمران شریف خاندان کی اندرون و بیرون ملک ان کے ظاہر کردہ اثاثہ جات قانونی آمدنی سے زائد اور دستیاب ریکاڑد سے مطابقت نہیں رکھتے،وزیر اعظم نواز شریف،مریم صفدر ،حسین نواز،حسن نواز اور ان کا خاندان منی ٹریل دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے ،بڑی رقوم کی بے قاعدگی سے ترسیل کی گئی ان رقوم میں تحائف کی شکل میں انتہائی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں ان کی ملکیتی کمپنیوں کی حالت اس قدر بہتر نہیں تھی وہ ان سے پیسہ کما کر اس قدر اندرون ملک اثاثے بناتے،شواہد کی روشنی میں حدیبیہ پیپرملز کیس تفتیش اور ٹرائل کے کے لئے بہترین کیس ہے جس سے تمام کڑیاں جڑ جائیں گی ،جے ٹی آئی نے سفارش کی کہ سپریم کورٹ مدعا علیہان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کے احکامات جاری کرے،چیرمین نیشنل بینک سعید احمد اور جاویدکیانی کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا جائے ،نواز شریف کی جبل علی فری زون یو ای اے میں واقع ایف زیڈکیپٹل نامی آف شور اور ایم کے برٹش ورجن آئی لیمیٹیڈ میں قائم کردہ سے ہی نیلسن اور دوسری کمپنیوں کو سرمیاہ فراہم کیا گیا برطانیہ میں نیلسن انٹر پرائزز لیمیٹیڈ ،نیسکول لیمیٹڈ،الازمہ سروسز لیمیٹڈ،لام کن ایس اے ،کوبر گروپ،انکاریورٹیڈ اور ہیلٹرن انٹرنیشنل کا نام سامنے آیا ہے شریف خاندان نے فنڈز کی ترسیل کے لئے ان کمپنیوں کا نام استعمال کیاگیااس کیس میں ذرائع آمدن اور حقیقی اثاثہ جات کے تضادات سامنے آئے ،شریف خاندان کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ملکیتی کمپنیوں میں ہل سٹیل اسٹیبلشمنٹ، فلیگ شپمنٹ لیمیٹڈ ،کیپیٹل ایف زیڈ نامی کمپنیوں سے بھاری رقوم اور اثاثوں کو قرضوں اور تحائف کی صورت میں تبادلہ دیکھنے میں آیا ان تمام کمپنیوں کے ذریعے تسیل کردہ رقوم سے بھاری مالیت کی جائدادیں خریدیں ان بھارٰ مالیت کے فنڈز کو ہی برطانیہ ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات میں ان کمپنیوں کے ذریعے استعمال میں لایا گیا،نواز شریف کی ملکی کمپنیوں یا ان کے حصص میں ملکیت ثابت ہوتی ہے ان میں مہران اور رمضان ٹیکسٹائل ملز،اتفاق پرائیویٹ لیمیٹڈ،برادرز سٹیل ملز،حمزہ برادرز ملز،رمضان شوگر ملز،اتفاق شوگر ملز،حدیبیہ پیپیر ملز،حدیبیہ انجینرنگ ملز،رمضان ٹیکسٹائل ملز،الیاس انٹر پرائزز،اتفاق ٹیکسٹائل ملزاور حمزہ سپننگ ملز شالم ہیں جبکہ حسن نواز کی ملکیتی کمپنیوں یا جن میں اس کے حصص ہیں ان میں چودہدری شوگر ملز،محمد بخش ٹیکسٹائل ملز،حمزہ برادرز،رمضان شوگر ملز ،اتفاق شوگر ملز ،حمزہ سپننگ ملز اور اتفاق ٹیکساٹائل شامل ہیں ،حدیبیہ ملز کیس میں نواز شریف کو اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا،نواز شریف اپنے بیٹے کی کمپنی ایف زیڈ دی کیپیٹل سے بطور چیر مین تنخواہ لیتے رہے،قاضی خاندان اور سعید احمد کے نام سے اکاؤنٹس سے بھی بیرون ملک قرض حاصل کئے ،شریف فیملی نے2207/8 میں متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سے 88کروڑ روپے پاکستان منتقل کئے جن میں سے زیادہ رقم نواز شریف کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی حالانکہ بیرون ملک کمپنیوں پر زیادہ تر نقصانات اور بھاری قرضہ جات ظاہر کئے گئے جبکہ نواز شریف کے اکاؤنٹ میں رقم کا مسلسل اضافہ ہوتا رہا،رپورٹ میں قطری خط ۔افسانہ ۔قرار دیا گیا الثانی کے خط اور حسن ، حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات متصادم ہیں،مریم صفدر نے جے ٹی آئی کو جھوٹی دستاویزات پیش کیں جن پر اس کے علاوہ کیپٹن (ر)صفدر،حیسن نواز ،حسن نواز کے دستخط موجود تھے ،بلا شکوک شبہات مریم صفدر نیسکول اور نیلسن آف شور کمپنیوں کی بینی فیشل اور حقیقی مالک ہیں ان کمپنیوں کے ساتھ کوئی بھی ٹرسٹ یا ٹرسٹی منسلک نہیں ان کو گوشواروں میں کسی غیر ملکی جائدادکا ذکر نہیں ،لندن میں موجود چاروں فلیٹ 1993سے اس خاندان کی ملکیت ہیں ،گلف اسٹیل کے اصل مالک نواز شریف ہیں طارق شفیع کا بیان حلفی جھوٹ پر مبنی ہے بلکہ ان کے تمام بیان حلفی جھوٹے ہیں انہیں ان کے متن کا بھی نہیں پتا تھا وہ خود بینکوں کے ڈیفالٹر ہیں سکریپ کی دوبئی سے جدہ منتقلی بھی جھوٹ کا پلندہ ہے ،اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بھی2008کے بعد بے پناہ اضافہ ہو ماضی میں ان کی طرف سے کی گئی منی لانڈرنگ جس میں انہوں نے 65ملین پاؤنڈ دوبئی خرچ کئے تھے کے ثمرات مل رہے ہیں ا ، جے آئی ٹی کی رپورٹ کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ خاندان تمام تر اثاثوں کی منی ٹریل اور انہیں قانونی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ پاکستان کی وزارت خزانہ پر براجمان رہؓر خوڈ لٹیرا نکلا،پانامہ کیس کا سپریم کورٹ میں با ضابطہ نام ۔عمران خان نیازی بنام میان محمد نواز شریف ۔ہے،اس کیس کی سماعت یکم نومبر2016سے23فروری2017تک جاری رہی اسی روز اس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا یہ مقدمہ پاکستانی تاریخ کا سب سے زیادہ مشہور ہوا اسے پاکستانی تاریخ کا رخ بدلنے ولا مقدمہ بھی کہا جا سکتا ہے،20اپریل کودن دوبجے عدالت نے اس کیس کا فیصلہ سنایا جس میں بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد کے مطابق وزیر اعظم قوم سے ایماندار نہیں رہے انہیں نااہل قرار دیاجائے مگر جسٹس اعجازاحمد ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس شیخ عظمت سعید نے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔نواز شریف کو بر طرف کرنے کے لئے ناکافی شواہد ہیں مزید تحقیق کے لئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے ،540صفحات کا فیصلہ اسی روز جاری کر دیا جسے جسٹساعجاز افجل نے لکھا فیصلے کا آغاز فرانسیسی ناول کے اقتباس سے شروع کیاگیا۔ہر بڑی نامعلوم کامیابی کے پیچھے ایک ایسا جرم ہوتا ہے جو کبھی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اسے پوری توجہ سے اجنام دیا جاتا ہے۔اس فیصلہ میں نیب اور ایف آئی اے پر بھی کڑی تنقید کی گئی 6مئی کوسپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیاتی ٹیم تشکیل دی ، واجد ضیاء ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے (سربراہ) ،بلال رسول (سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)،عامر عزیز(سٹیٹ بینک)،عرفان نعیم منگی (نیب ڈائریکٹر بلوچستان)، بر گیڈئیر نعمان سعید (ڈائریکٹر داخلہ سیکیورٹی آئی ایس آئی)اور برگیڈئیر کامران خورشید (ملٹری انٹیلی جنس)شامل تھے،اس کمیٹی کے پاس شریف خاندان کے غیر ملک اثاثوں کی تفتیش کے لئے غیر ملکی ماہرین کی خدمات کے علاہ تما م متعلقہ اداروں اور نواز شریف سمیت کسی سے بھی تفتیش کا مکمل اختیار تھامزید واضح کیا گیا کہ تمام تر پاکستانی اداروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے ھکم پر کام کر رہی ہے،اسے دو کروڑ روپے کے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت میں جگہ فراہم کی گئی ،اس کمیٹی کے ذمہ 13سوالات تھے جس کا ھل تلاش کرنا تھا،1۔گلف سٹیل کا قیام کیسے عمل میں آیا؟،2۔اس کو کیوں فروخت کرنا پڑا؟ ،3۔گلف سٹیل کے واجبات کا کیا بنا؟۔4۔اس کی خریدو فروخت کا کہاں اختتام ہوا؟،5۔گلف سٹیل ملز کا پیسہ جدہ ،قطر اور برطانیہ کیسے پہنچا؟،6۔90کی دہائی میں نوعمر حسن نواز اور حسن نواز کے پاس فلیٹ خریدنے کے وسائل کہاں سے آئے ؟،7۔کیا قطری خط حقیقت ہے یا افسانہ ؟،8۔آف شور کمپنیوں کے شیئرز اور سرٹیفکیٹ فلیٹس میں کیسے بدلے؟،9 ۔نیلسن اینڈ نیسکول کے حقیق مالک کو؟،ن ہیں ؟،10۔ہل سٹیل ملز کیسے وجود میں آئی ؟،11۔حسن نواز کے پاس فلیگ شپ کمپنی اور لندن میں کاروبار کے لئے پیسہ کہاں سے آیا؟،12۔تحائف کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا؟اور13۔حسین واز نے اپنے والد کو کروڑوں روپے اور تحفے کیسے دئیے؟۔جے ٹی آئی کو اپنی یہ رپورٹ پیش کرنے لئے60روز کاوقت دیا گیا ،جے ٹی آئی میں پہلی طلبی طارق شفیع کی ہوئی تو شریف فیملی اضطراب کا شکار نظر آئی اور حسین نواز نے کمیٹی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی،29مئی کو اس درخواست کی سماعت کے دوران قطری خط شہزادے کے پہش نہ ہونے پر ردی کا ٹکڑا اور حسین نواز کے جے ٹی آئی پر تمام اعتراضات مسترد ،جے ٹی آئی کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی ہدایت،جے ٹی آئی ہر پندرہ روز بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ پیش کرتی رہی ان تحقیقات کے دوران سپریم کورٹ میں تین سماعتیں ہوئیں، تحقیقاتی کمیٹی نے میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف ،حسین نواز،حسن نواز،مریم صفدر،کیپٹن (ر)صفدر،اسحاق ڈار،سابق چیر مین نیب سید امجد،چیر مین نیب قمرازمان چوہدری،چیر مین سٹیٹ بینک ،سابق وزیر داخلہ رحمان ملک سے تفتیش کی گئی ،سب سے زیادہ حسین نواز کو جوڈیشل اکیڈمی بلایا گیا،دوران تحقیقات مسلم لیگی رہنماؤں کی زبان میں شدت پیدا ہوتی گئی ،کسی نے لوہے کے چنے چبانے کی بات کی ،کسی نے اسے قصائی کی دکان کہا،کسی نے ان کے بچوں تک کو نہ چھورنے کی دھمکی دی ،کسی نے لکھے ہوئے سکرپٹ پر عمل درآمد کا نام دیا،کسی نے انہیں جانب دار کہاحتی کہ انہیں ہر قسم کی دھمکیاں دی گئیں ،وزیر اعطم ہاؤس کی جانب سے با ضابطہ ان پر جانبداری کا الزام لگایاگیاجو در حقیقت سپریم کورٹ کو ہی تھیں مگر جے ٹی آئی ارکان نے زبان نہ کھولی اور اپنے کام میں ڈتے رہے وہ کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لائے کسی کی سخت زبان پر تبصرہ نہ کیا اور60دن کا سفر بڑے صبر و تحمل سے طے کیا،آخر میں سربراہ کمیٹی واجد ضیاء نے کہا کہ محسوس کرتا ہوں ہم سچ کی تلاش میں کامیاب رہے، 10جولائی کو جیسے ہی یہ رپورٹ سامنے آئی دنیا بھر میں ہچل مچ گئی ،عمران خان ۔حکمران ٹولے کی کرپشن ہر شہری کی زبان پر ہے اب کنفرم ہو گئی ہے گیم ختم اب نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس کب خالی کریں گے؟ بلاول بھٹو الزام ثابت ہو گئے ،شیخ رشید نے کہافائنل راؤنڈ میں نواز شریف نشان عبرت بن جائیں گے،جماعت اسلامی کے سراج الحق نے کہا۔پانامہ لیکس ہوائی فائرنگ نہیں حکمرانوں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں ،وکلاء تنظیموں نے بھی عمران ،شیخ رشید اور سراج الحق کی طرح نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ،قانونی ماہرین کے مطابقوزیر اعظم نا اہلی کے دو راستے ہیں ،عدالت سے سزا یا آرٹیکل62/63کے تحت ریفرنس،مگر مسلم لیگ (ن) نے وزیر اعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں نہ جھکنے کا فیصلہ کر لیا اسی بنا پر شام کے قریب وفاقی وزرا خواجہ آصف،احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی نے کہا طوطا میناکی کہانی پر ہر محاذ پر لڑیں گے جے ٹی آئی کی اس رپورٹ کو ردی سمجھتے ہیں ،اب لمحہ بہ لمحہ نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے جو کسی کے منہ میں آ رہا ہیکہے جا رہا ہے وہ بھول گئے ہیں کہ اصل فیصلہ تو سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہے اور عدلیہ کے ساتھ محاذ ارائی یا لڑائی آج تک کسی کو راس نہیں آئی ..