-،-الزامات ثابت ہوچکے ہیں ‘ وزیراعظم کو جانا ہی ہوگا ‘ ایم آر پی-،-
احتساب کو صرف وزیراعظم تک محدود رکھنے کی بجائے دیگر ملزمان کا بھی مکمل محاسبہ کیا جائے!
آئندہ انتخابات میں 62و 63کی آئینی شق پر مکمل و یقینی عملدرآمدکرانا بھی عدلیہ کا فریضہ ہے

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی حتمی رپورٹ کے میڈیا پر مشتہر ہونے والے مندرجات اس بات کا اظہار ہیں کہ وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کے حوالے سے پانامہ اسکینڈل میں سامنے آنے والے تمام الزامات مبنی بر حقائق ہیں جس کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ نوازشریف ‘ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے دونوں صاحبزادے صداقت ‘ امانت اور دیانت کے آئینی معیار کے مطابق نا اہل ہوچکے ہیں اسلئے وزیراعظم کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ محب وطن روشن پاکستان پارٹی کے قائد و چیئرمین امیر پٹی نے جے آئی رپورٹ اور حکومتی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قرائن بتارہے ہیں کہ پاکستانی سیاست و حکمرانی صرف حب الوطنی ‘ ملک وقوم مخلصی ‘ دیانتداری ‘ صداقت اور شرافت کے جذبات و جراثیم سے ہی عاری نہیں بلکہ شرم ‘ غیرت اور حیا سے بھی محروم ہے اسلئے اب سپریم کورٹ کا آئینی فریضہ ہے کہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ و شواہد کی روشنی میں وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کو نااہل قرار دینے کیساتھ پانامہ کیس میں شامل دیگر ملزمان کا بھی کڑا احتساب کرے اور الیکشن کمیشن کو بھی آئندہ انتخابات میں آئین کی شق 62و63پر یقینی عملدرآمد کا حکم دے تاکہ آئندہ انتخابات میں ایکبار پھر اس ملک وقوم پر چور ‘ لٹیرے ‘ عوام دشمن ‘ ملک دشمن ‘کرپٹ‘ بے حیا ‘ بے غیرت اور ظالم افراد و طبقات منتخب ہوکر اقتدار و اختیار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکیں ۔