-،-چین کا بیرون ملک پہلا فوجی اڈہ ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین کا پہلا فوجی اڈہ قائم کرنے کے لئے فوجی دستے بحری راستے سے جنوبی افریقی ملک ۔جبوتی ۔کے لئے رواں دواں ہیں ،چین جبوتی میں قائم امریکی فوجی اڈے کے نزدیک اپنا پہلا فوجی اڈہ بنا رہا ہے ، امریکہ یہاں قائم اپنے فوجی اڈے کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اپنی بڑی اور اہم فوجی کاروائیوں کے لئے استعمال کرتا ہے ،چین کے مطابق وہ اپنے اڈے کے ذریعے افریقہ اور اس کے مغربی علاقوں میں امن کے قیام اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کئے جانے والے اقدامات میں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس فوجی اڈے کو فوجی تعاو ن ،بحری مشقوں ریسکیو مشن اور بحری قزاقوں کے خلاف استعمال کیا جانا مقصود ہے،جبوتی میں چینی فوجی اڈے پر بات چیت کا آغاز2015میں ہوا اور اگلے ہی سال معاہدہ طے پانے پر کام کا آغاز ہو گیا،چائنا گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کی فوجی ترقی چینی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ہے نہ کہ دنای کو کنٹرول کرنے کے لئے،دو سال قبل افریقی اقوام کے مرکزی اجلاس میں چین نے افریقہ کی ترقی کے لئے 160ارب ڈالر ادا کرنے کا کہا تھا چین اس خطہ میں سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اس کے علاوہ وہاں انفراسٹرکچر کے مختلف پراجیکٹس پر افرادی قوت کے ساتھ فنڈز بھی مہیا کر چکا ہے اس میں افریقی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے لئے ریلوے کا نظام جس میں جبوتی کو ایتھوپیا ملانا،جبکہ انگولیا،نائیجیریا،تنزانیہ اور زیمبیا کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے ان اقدامات سے ان افریقی ممالک میں ترقی کے نئے دروازے کھل جائیں گے اس کے بدلے یہ ممالک چین کو قدرتی ذخائر جن میں ایندھن اور معدنیات شامل ہے فراہم کر رہے ہیں ، چین کا یہ فوجی اڈہ امریکی فوجی اڈے۔کیمپ لینر(Capm Lemonnier)۔سے محض چند کلومیٹر دور ہے امریکہ نے نائن الیون واقعہ کے بعد یہ اڈہ قائم کیا تھاجہاں اس وقت چار ہزار اہلکار تعینات ہیں ،امریکہ نے یمن کے خلاف کاروائی اسی فوجی اڈے سے کی تھی، واضح رہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان بحیرہ چین میں چین کی طرف سے مصنوعی جزائر تیار کرنے پر کافی کشیدگی پائی جاتی ہے،ایک امریکی فوجی ماہر کے مطابق چین کی جانب سے جبوتی میں فوجی اڈہ تعمیر کرنا کچھ ایسے ہے جیسے فٹ بال کی دو حریف ٹیمیں ساتھ ساتھ گراؤنڈ تیار کر رہی ہوں ،نیول وار کالج کے پرو فیسرپیٹر ڈنش کے مطابق فوجی حکمت عملی کے حوالے سے یہ اہم ترین واقعہ ہے تمام توسیع پسندانہ قوتیں ایسا ہی کرتی ہیں چین نے برطانیہ سے یہ سبق سیکھا جو 200سال سے یہی کر رہا ہے ،چین کے دفاعی اخراجات میں ہر سال اضافہ دیکھنے میں آیا اس نے گذشتہ سال اس شعبہ میں 180ارب ڈالر خرچ کرتے ہوئے اپنی فوج میں تیزی سے جدت لائی ہے چین کی فوج اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے بحرالکاہل میں چین کی سب سے بڑی بحریہ جس میں 300سے زائد جہازہیں تاہم چین جدید ٹیکنالوجی اور عسکری صلاحیت میں ابھی تک امریکہ اور جاپان سے پیچھے ہے چین کی یہ پیش قدمی اور چینی فورسز کی پہنچ میں اضافے کی جانب قدم اس کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثرات کی غماز ہیں،جبوتی حکومت کی جانب سے چین کو فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت امریکہ کے لئے انتہائی غیر متوقع ہے دو سال قبل براک اوباما کی قومی سلامتی امور کی مشیر سوزن رائس نے جبوتی کا دورہ کر کے جبوتی کے روس کے ساتھ اس نوعیت کے معاہدے کا ناکام بنا دیا تھا ،چین اب امریکہ ،فرانس ،جاپان اور کئی دیگر ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو اس مشرقی افریقہ ممالک میں اپنی فوج رکھتے ہیں ،جبوتی شمالی افریقہ کا ایک چھوٹا ساپر امن ملک ہے اور جو اپنے جغرافیائی محل وقع کے اعتبار اور ایک مصروف ترین بحری گذر گاہ ہے،اس کی سرحدیں شمال میں ایریٹیریا،مغرب اور جنوب میں ایتھوپیااور جنوب مشرق میں صومالیہ سے ملتی ہیں اس کے علاوہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن سے بھی ملتی ہیں صرف25ہزار مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلے اس ملک کی کل آبادی نو لاکھ کے قریب ہے جس کا پانچواں حصہ خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے جو 6ڈویژن میں منقسم اور اس کے بڑے شہروں میں جبوتی علاقہ،علی سبیح ،ادبوک،دخیل،Arta،طحول،تاجورہ ،غالافی ،لوبادہ اور علامیلی دادا شامل ہیں،یہاں سالانہ 70ہزار کے قریب سیاح آتے ہیں فٹ بال یہاں کا مقبول کھیل اور جبوتی FIFAکا ممبر بھی ہے ،جمہوریہ جبوتی نے27جون1977کو فرانس سے آزادی حاصل کی اس قبل یہ فرانسیسی صومالی لینڈ کا حصہ تھایہاں کے خانہ بدوش قبیلوں نے شاعری اور کہانیوں سے ہزاروں سال کی تاریخ وقف کی ہوئی ہے جزیرہ نما عرب کے نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں اسلام باقی افریقہ سے پہلے آیا یہاں مسلمانوں کی آبادی 94فیصدجبکہ سب سے بڑی اقلیت عیسائیت کے پیروکاروں کی ہے ہر مسلمان ملک کی طرح جبوتی کے ہر شہر اور گاؤں میں مسجد ہوتی ہے ،جبوتی کے صدر اسماعیل عمر کے چین کو فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دینے سے ان کا ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوا ہے کیونکہ جو کچھ چین کرے گا وہ امریکہ کبھی نہیں کر سکتا ۔جبوتی کے ساتھ ۔خلیج عدن ۔جزیرہ نما عرب میں یمن کے جنوبی ساحلوں اور افریقہ میں صومالیہ کے درمیان ایک خلیج ہے جو بحر ہند کا حصہ اور شمال مغرب میں۔ آبنائے باب المعارب۔کے ذریعے بحیرہ قلزم سے منسلک اور خلیج فارس کے تیل کے ذخائر کی بحری راستے کے ذریعے دنیا کے اہم معاشی مراکز تک رسائی کا اہم ترین ذریعہ ہے،ایشیاء سے یورپ جانے والے اکثر بحری جہازیہیں سے گذر کر بحیرہ قلزم میں اور پھر نہر سویز(جو بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کو ملاتی ہے)میں داخل ہوتے ہیں ،اس خلیج کی اہم ترین بندر گاہ ۔عدن ۔ ہے ( یمن کا ایک شہر )جو مشرقی بحیرہ احمر میں خلیج عدن کے مقام پر ۔ آبنائے باب المنداب ۔سے 170کلومیٹر مشرق میں واقع ہے، یہ آبنائے جو محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتے ہوئے ایشیاء اور افریقہ کو جدا کرنے کے علاوہ بحیرہ قلزم اور بحیرہ ہند کو ملاتی ہے جس کے ایشیائی جانب یمن اور دوسری جانب افریقی ملک جبوتی واقع ہیںیہ دنیاکی مصروف ترین گذر گاہوں میں سے ایک ہے اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 30کلومیٹرہے بیرم کا جزیرہ بھی اسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جن میں ،شرقی آبنائے سکندر کہلاتی ہے جو دومیل چوڑی اور30میٹر گہری جبکہ مغربی حصہ کی16میل چوڑائی اور310میٹر گہری ہے۔جبوتی کے ساتھ واقع بحیرہ احمر(Read Sea)یا بحیرہ قلزم بحرہ ہند کی ایک خلیج ہے جوباب المنداب اور خلیج عدن کے ذریعے بحیرہ ہند سے منسلک ہے بحیرہ احمر4لاکھ 50ہزارمربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جو19سو کلومیٹر طویل ،300کلومیٹر چوڑی اور اس کی اوسط گہرائی1640میٹر جبکہ اس کا پانی دنیا کے نمکین ترین پانیوں میں سے ایک ہے ،اس کے شمالی ساحل پر مصر ،فلسطین اور اسرائیل،مغربی ساحل پر سوڈان اور مصر،مشرقی ساحل پرسعودی عرب ،یمن اور جنوبی ساحل پر صومالیہ ،ایریٹیریااور جبوتی آباد ہیں،ان تمام تر تفصیلات کامقصد یہی بتانا تھا کہ اس خطہ زمین کی اہمیت سے قارئین ٹھیک طرح آگاہ ہو جائیں ،2001 میں USAمیں نے جبوتی میں انبول انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے قریب اپنا فوجی اڈہ قائم کیاجو بیرون ملک اس کا سب سے بڑا فوجی اور افریقہ میں واحد مستقل فوجی اڈہ ہے جہاں یو ایس نیوی ،امریکی گراؤنڈ فورسز میں 2ndبٹالین،18thفیلڈ آرٹلری رجمنٹ اور65th۔1انفنٹری رجمنٹ کے اہلکار یہاں تعینات ہیں امریکہ نے2014میں اس فوجی اڈے کو مزید اپ گریڈ کیا۔چین کا جبوتی میں فوجی اڈہ جبوتی ٹاؤن۔اوبوک۔(جو جبوتی شہر کا ایک رہائشی علاقہ ہے )میں قائم کیا گیا ہے یہاں تعینات چینی فوجیوں میں پیپلز لبریشن آرمی اور نیوی کے اہلکار شامل ہیں ۔دنیا کے اس اہم ترین علاقے میں عسکری حوالے سے چین کی یہ بہت بڑی پیش رفت ہے جو اس نے اپنے معاشی معامالات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے بعد شروع کی ہے،اتنی اہم معاشی و اقتصادی طاقت ہونے کے باجودغیر ممالک میں فوجی اڈے رکھنے والے ممالک کی فہرست میں چین سب سے آخر میں شامل ہوا ہے، اس فہرست میں شامل عالمی طاقت امریکہ کے 31ممالک میں61،امریکہ کے سب سے بڑی اتحادی برطانیہ کے18ممالک میں41،فرانس کے 11ممالک میں12،روس کے 10ممالک میں12فوجی اڈے ہیں اسی طرح انڈیا کے تین،جرمنی کے دو،ترکی کے پانچ ،گریسی کا ایک،جاپان کا ایک (جو جبوتی ہی میں ہے)دلچسپ بات یہ کہ پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہے جس کا واحد فوجی اڈہ سعودی عرب میں قائم ہے،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے چین کے ساتھ مستحکم تعلقات پر فخر کا اظہار کیا ہے،بلاشبہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اس کی مزید کامیابی کو پاکستانی عوام اپنی ہی کامیابی اور ترقی سمجھتے ہیں ۔