-،-عدالت اورعداوت۔ محمد ناصر اقبال خان-،-

nnn

محمد ناصر اقبال خان
انسان کاوہم ،اس کے بیجا وسوسے، غلط اندازے اورنادان دوست اس کو ڈبونے میں کلیدی کرداراداکرتے ہیں۔شکست کاڈر شکست سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جبکہ عجلت میں جذباتیت کے اظہار سے خفت نہیں مٹائی جاسکتی۔ہمارے بروقت اوردرست فیصلے دوررس اثرات کے حامل ہوتے ہیں،اگرزمینی حقائق کوسمجھنے اورفیصلے کرنے میں دیر ہوجائے توانسان کیلئے ناکامی اوربدنامی کادرکھلتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے سبب کچھ لوگ آنکھیں ہوتے ہوئے بھی نوشتہ دیوار نہیں پڑھ سکتے۔جولوگ ضرورت سے زیادہ دوسروں پرانحصار کرتے اوران سے اپنی مرضی کامشورہ یعنی اپنی منشاء کے مطابق رائے چاہتے ہیں تنہائی ،رسوائی اورپسپائی ان کامقدربن جاتی ہے۔اپنے آقایادوست کی ہاں میں ہاں ملاناوفاداری توہوسکتی ہے لیکن سمجھداری ہرگز نہیں۔پی ٹی وی کے میزبان طارق عزیزجومسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پرممبرقومی اسمبلی بھی رہے ہیں ،انہوں نے 12اکتوبر 99ء کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح فلم میں ہیروئن کے ساتھ گروپ میں رقص کرنیوالی خواتین خوش شکل نہیں ہوتیں کیونکہ اس طرح ہیروئن کاحسن ماند نہیں پڑتا بالکل اس طرح میاں نوازشریف کی شخصیت کاسحر اور دانائی کا تاثربرقراررکھنے کیلئے ان کے آس پاس صرف کند ذہن لوگ رہ سکتے ہیں۔ہمارے ہاں حکمران اپنے حامیوں کوان کی سمجھداری نہیں صرف وفاداری کی بنیادپرعہدوں اورمراعات سے نوازتے ہیں،اسلئے مولانا فضل الرحمن ،دانیال عزیز ،طلال چودھری ،امیرمقام اورماروی میمن ہرحکومت کی ضرورت بن جاتے ہیں ۔جولوگ فوجی آمر پرویز مشرف کے زوال میں اس کاساتھ چھوڑگئے وہ میاں نوازشریف کے ڈاؤن فال میں زیادہ دیرتک ان کے ساتھ کھڑے نہیں رہ سکتے۔دانیال عزیز اورطلال چودھری سے لوگ جس حکمران کادفاع کرتے ہیں وہ الٹا نقصان اٹھاتاہے ،جس کی اپنی کوئی سیاسی ساکھ نہ ہووہ کسی کی حکمران کی ساکھ کوراکھ کاڈھیر بننے سے نہیں بچاسکتا۔سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنیوالے باوفااورباصفانہیں ہوتے ،ان پرہرگزاعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ کسی انسان کی زندگی میں آنیوالی مصیبت اس کی ضد،ہٹ دھرمی اوربے شرمی سے نہیں ٹلتی۔ غلطی چھپانے اور غلط موقف پرڈٹ جانے سے کامیابی نہیں ملتی،بسااوقات عارضی پسپائی بھی انسان کو بڑی رسوائی اورشکست فاش سے بچاسکتی ہے ۔خودساختہ باغی جاویدہاشمی بظاہر حکومت کے ساتھ نہیں مگرپھربھی وہ بار بار اپنے محبوب لیڈر میاں نوازشریف کوسہارادینے کی ناکام کوشش ضرورکر تا ہے۔کیااب جاویدہاشمی آئینی اداروں اورمختلف شخصیات کوپاکستانیت کا اورصادق وامین ہونے کااین اوسی دے گا،کیا وہ خودصادق وامین ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت جاویدہاشمی کے دم قدم سے نہیں ،بہتر ہوگاوہ اپنایہ زعم ختم کردے۔جاویدہاشمی کئی برسوں تک ڈکٹیٹر ضیاء الحق کامعتمدساتھی اورحامی رہا ،محض لفاظی کی حدتک معافی سے موصوف کے سیاسی گناہوں کی تلافی نہیں ہوگی۔ پاکستانیوں نے جاویدہاشمی کی چارج شیٹ کومستردکردیا ،موصوف کی سیاسی تنہائی اورپی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی سیاسی پذیرائی اس حقیقت کی غماز ہے ۔عمران خان کی پیٹھ میں خنجر پیوست کرنے کے بعد ملتان سے جاوید ہاشمی کی شکست فاش اس کیلئے ایک طرح سے سزاہے ۔جاویدہاشمی اِدھر کارہا نہ اُدھر ،اس نے پی ٹی آئی چھوڑی مگر حکمران جماعت کادروازہ آج بھی اس کیلئے بند ہے ۔ عمران خان پرسیاسی حملے کرنے کے باوجودجاوید ہاشمی کیلئے میاں نوازشریف کے رویے میں نرمی نہیں آئی ۔جاویدہاشمی کی بلیم گیم اور بلیک میلنگ سے عمران خان کو توکوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تاہم خودجاویدہاشمی اب کسی سیاسی جماعت کیلئے قابل اعتماداور قابل استعمال نہیں رہا ،اب لوگ اپنے رازاورارادے جاویدہاشمی سے چھپاتے ہیں۔سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ چھوڑدیں” ۔ اس سے زیادہ جاویدہاشمی کی بدقسمتی یااس کیلئے سزاکیاہوسکتی ہے کہ وہ سیاست میں میاں نوازشریف سے بہت سینئر ہے ،جس وقت جاویدہاشمی فوجی آمر اورغاصب ضیاء الحق کاوزیرتھاتواس وقت میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف لاہورائیرپورٹ پراس کاانتظار اوراستقبال کرتے تھے لیکن بعدازاں وہ دو دہائیوں تک میاں نوازشریف کواپنالیڈر کہتا رہا اورپھر اسے سیاسی طورپر خودسے بہت جونیئر عمران خان کوبھی اپنالیڈر کہنا پڑا ۔ نام نہادباغی نے پی ٹی آئی میں جانے اورپی ٹی آئی کے انتخابی ٹکٹ پرمنتخب ہونے کے بعدبھی پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکرمیاں نوازشریف کواپنالیڈرقراردیاتھا ۔جاویدہاشمی سے لوگ دوسروں کومتاثر کرتے نہیں بلکہ دوسروں سے متاثرہوتے ہیں۔ پرویز مشرف دورمیں جاویدہاشمی بھی لاہورکی نیب عدالت میں پیشی پرآیاکرتا تھا ،اس دوران موصوف نے اپنے حق میں شہادت یعنی گواہی دینے کیلئے پانچ سوافرادکی فہرست نیب عدالت کودی تھی ،اس اقدام کامقصد یہ تھا کہ ان پانچ سوگواہان کے بیانات قلمبند اوربعدازاں ان پربحث ہوتے ہوتے کئی برس بیت جائیں گے اورپرویزی آمریت کاآفتاب غروب ہوجائے گاسوایسا ہی ہوا اورجاویدہاشمی جیل سے رہاہوگیا ۔پاکستان میں بے رحم احتساب کیلئے جاویدہاشمی کانام بھی ناجائزاثاثے بنانیوالی بااثرشخصیات کی فہرست میں درج کیاجائے کیونکہ پرویز مشرف کے دورمیں جاویدہاشمی سمیت کسی کا احتساب نہیں ہوا بلکہ نیب کو سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کیلئے استعمال کیا گیاتھا ۔ پاکستانیوں کو سات دہائیوں میں اب احتساب ہوتاہوامحسوس ہورہا ہے،امید ہے اس بار احتساب کاسلسلہ بدعنوانوں اورچوروں کے منطقی انجام تک جاری رہے گا۔ جہاں اپنے ہاتھوں اپنااحتساب کرنے کارواج ہووہاں کسی دوسرے کومحتسب مقررکرنے اور احتساب کے ادارے بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔دانائی کسی کی میراث نہیں ہوتی ،زیادہ پیسہ بنانا یااقتدارمیں آنادانائی کی ضمانت نہیں۔دوسروں کوانڈراسٹیمیٹ اورخودکواووراسٹیمیٹ کرنا بھی بدترین ناکامی اورشکست فاش کاسبب بنتا ہے۔ہمارے ہاں حکمرانوں کے سرکاری مراعات سے مستفیدہونیوالے مشیروں کاگروپ کوئی اورہوتا ہے جبکہ یہ رازونیاز اور مشورہ اپنے نامعلوم ایڈوائزرز کے ساتھ کرتے ہیں،ان نقاب پوش مشیروں میں پڑوسی ملک کے سرمایہ داربھی ہوسکتے ہیں۔عہدحاضر میں آواز اونچی یاسیاسی حملے کرنے سے مدمقابل مرعوب نہیں ہوتا ۔کچھ وزیروں اورمشیروں نے حالیہ دنوں میں جوزبان استعمال کی یاہنوز کررہے ہیں ،ا س طرح زبان درازی یابدزبانی سے معجزے نہیں ہواکرتے ۔بدزبانی سے بدعنوانی نہیں چھپتی ،ابھی تک حکمران طبقہ خوش فہمی کاشکار ہے ۔شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارقسم کے وزیراورمشیر اپنے سیاسی آقاؤں کوزمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے الٹا آئینی اداروں کے ساتھ تناؤاورتصادم پراکسارہے ہیں۔ارسطوکے مطابق ،”غصہ ہمیشہ بیوقوفی سے شروع اورشرمندگی پرختم ہوتا ہے” ۔چودھری اختررسول ان دنوں بھی حکمران جماعت کے ساتھ ہیں تاہم 12اکتوبر 99ء کے بعد چودھری برادران کے ساتھ جاملے تھے ،موصوف نے12اکتوبر99ء کے بعد کہا تھا ”میاں نوازشریف کوبار بارزیرومیٹرگاڑی ملتی ہے جس کووہ ہربارچٹان کے ساتھ دے مارتے ہیں،ماضی میں بھی میاں نوازشریف کی کسی بااثرعہدیدارکے ساتھ نہیں نبھی۔خودپسندی ،خودپرستی اوراناکاراستہ انسان کوفناکردیتاہے ۔ارباب اقتدار کاانتقامی رویہ اورعدالت سے عدوات ناقابل فہم ہے۔پاک فوج کے بارے میں بھی دانستہ ابہام پیداکیاگیا تاہم پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی دوٹوک تردید یاوضاحت کے بعد کوئی سرکاری قلم کار اورفنکار پاک فوج پرناپاک حملے نہ کرے۔پاک فوج کوسیاست میں الجھانا وطن دشمنی کے مترادف ہے،بھارتی میڈیا نے سچائی بے نقاب کردی۔پاناما پیپرز سے پیداہونیوالے بحران میں پاکستان کاکوئی فردیاادارہ ملوث نہیں،اس کے پیچھے قدرت کارفرما ہے۔ناموس رسالت ؐ کے فدائی غازی ممتازحسین قادری کی شہادت اورماڈل ٹاؤن میں بدترین کشت وخون کے بعد پاکستان میں پاناما پیپرز کا بھونچال آیایعنی ارباب اقتدار کازوال شروع ہوا ،اس کے بعدقومی سیاست میں رونما ہونیوالے واقعات کی علامات پرغورکریں توقدرت کے غضب اوراس کی مداخلت سے آگہی ہوجائے گی۔قانون کے شکنجے سے بچنا آسان مگرقدرت کی گرفت سے خودکوچھڑانایابچاناخارج ازامکان ہے۔قدرت کی لاٹھی انسانوں کودکھتی نہیں لیکن جس کو پڑتی ہے اس کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔چندوزیروں کے شور سے اجتماعی شعور کونہیں دبایاجاسکتا،آزاد عدلیہ کاکام وہ جانے مگر”آوازخلق نقارہ خدا ”کے مصداق قومی ضمیر کافیصلہ آگیا ہے۔حکومت کی خاطر عزت گنوانے میں گھاٹا ہے کیونکہ حکومت تو ہردوصورت چلی جائے گی ۔کرکٹ مقابلے کے دوران کچھ بلے باز آؤٹ ہونے پرایمپائر کو انگلی اٹھانے کی زحمت نہیں دیتے اوربہت گریس فلی خودکریز چھوڑدیتے ہیں جبکہ کچھ ڈھیٹ کھلاڑی تھرڈایمپائر کا فیصلہ آنے کے بعد کریز چھوڑتے ہیں لیکن اس صورت میں انہیں دوہری شرمندگی کاسامنا کرناپڑتا ہے۔اگردوججوں کی ججمنٹ پرمیاں نوازشریف مستعفی ہوجاتے تویقیناًان کے کئی کاروباری رازوں اورشاید پاکستانیوں کے دماغوں پربھی ”پردہ” پڑارہ جاتا ۔ہزارافراد کی ایک ساتھ دروغ گوئی سے حقائق مسخ نہیں ہوسکتے۔ آزادعدلیہ کے حکم پرجے ٹی آئی کاقیام ہوا ،بھارت نوازحکمران پاک فوج کوبلیم گیم سے بھرپورسیاست میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔میدان جنگ میں شہادت اور دوران حکومت سیاسی شہادت نصیب سے ملتی ہے ۔جہاں نظام عدل پرحملے ہوتے رہے ہوں وہاں انصاف کس طرح سانس لے سکتا ہے مگرپاکستانیوں کی آہیں اوردعائیں رنگ لے آئی ہیں اورقدرت کوپاکستان پرترس آگیا ہے۔پاکستان کے آئینی ادارے نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ماضی میں عدالت عظمیٰ پرحملے میں ملوث جماعت کی آج بھی عدالت کے ساتھ عدوات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔پاکستان میں دوردورتک فوج کے اقتدارمیں آنے کاکوئی امکان تودرکنارتصورتک نہیں ہے پھر بھی آئینی ودفاعی اداروں کامیڈیا ٹرائل کیا جارہاہے۔آئینی اداروں پرانگلی اٹھانے اورملک میں بے یقینی وبے چینی پیداکرنیوالے سیاسی کرداروں کی لگام کون کھینچے گا۔ حکمران خاندان کے احتساب پربھارت میں صف ماتم کیوں بچھی ہوئی ہے ۔ باکسر محمدعلی مرحوم نے کہا تھا، ”ہرانسان دوسرے موقع کامستحق ہے مگر ایک ہی غلطی کیلئے نہیں”۔جوبار بار غلطیاں دہراتے ہیں انہیں بار بار سزاملتی ہے ۔جوشخص تین بار اقتدارمیں آئے اور بار باراپنی غلطیاں دہرائے پھر اسے معصوم بن کر سازش کاشور نہیں مچاناچاہئے ۔ انسان کے نادان دوست اس کے بدترین دشمن ہوتے ہیں۔عنقریب حکمران جماعت کابندٹوٹ جائے گا،بزرگ سیاستدان سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ کوانڈراسٹیمیٹ نہ کیاجائے۔ یقیناًمسلم لیگ (ن) کے ارکان کسی دوسرے کے گناہوں کابوجھ اپنے کندھوں پراٹھانا نہیں چاہیں گے ،جس نے جوبویا تھا اسے وہ کاٹناہوگا۔ماضی کی بات ہے وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے منتخب ممبرقومی اسمبلی باوفااورباصفا طارق بدرالدین بانڈے مرحوم نے اپنے ایک انٹرویومیں کہا تھاکہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو آئینی مدت پوری کرنے دی جائے جس پرمسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف ان سے شدید خفا ہوگئے تھے اورانہیں انتقامی طورپر اگلے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیاگیا تھا جبکہ آج میاں نوازشریف اوران کے حامی آئینی مدت پوری کرنے کی دوہائی دے رہے ہیں۔اگرابتداء میں بیماری کاعلم ہوجائے تومرض کے شدید ہونے کاانتظارنہیں کیاجاتا ۔مادر وطن کیلئے کرپشن ایک سرطان ہے ،کرپشن کاسرطان اورملک میں دندناتے بدعنوان ہماری ریاست اورقومی معیشت کیلئے زہرقاتل ہیں۔کرپشن ہومیو پیتھک ادویات سے ختم نہیں ہوگی بلکہ اس سرطان کیخلاف ایک موثراورمنظم آپریشن کی ضرورت ہے۔