-،-مسجد اقصیٰ کا صحن خون سے سرخ ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
دنیا کی سفاک ترین اور عالمی سطح پر سب سے زیادہ پشت پناہی رکھنے والی اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کا صحن اپنی بربریت کے باعث تین نہتے فلسطینیوں کے خون سے سرخ کر دیا، یہ سب کچھ نماز جمعہ سے کچھ دیر قبل کیا گیا اس کے بعدفلسطینیوں کو مسجد سے زبر دستی نکال دیا گیا اور نماز جمعہ ادا نہ کرنے دی جس پر فلسطینی مظاہرین اور قابض فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں اسی مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج نے مفتی اعظم محمد احمد حسین کو گرفتار کر لیا،اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی کرتے ہوئے ۔القدس۔شہر کے پرانے حصے کی مکمل ناکہ بندی سے اسے دو حصوں میں تبدیل کر دیا اور کہا کہ آئندہ سے مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہونے دیں گے،فلسطینی حاکم کے مطابق شہید ہونے والے تینوں نوجوان غیر مسلح تھے جبکہ اسرائیلی فوج نے ان پر حملے کا الزام لگایا ہے، فلسطینی خبر رساں ایجنسی ۔وفا۔کے مطابق فائرنگ اور بے گناہ افراد کی شہادتوں کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فون کر کے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ،مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے جو اسرائیل کے زیر قبضہ شرقی یروشلم میں واقع ہے،یروشلم مکہ سے 13سو کلومیٹر دور اور یہ شہر حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے حوالے سے بھی مشہور ہے، مسجد اقصیٰ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد جہاں بیک وقت5ہزار افراد کی گنجائش جبکہ صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کر سکتے ہیں ،اس مسجد کا بانی ۔حضرت یعقوب ؑ ۔کو مانا جاتا ہے جس کی تجدید ۔حضرت سلیمان ؑ ۔نے کی ،بعد میں خلیفہ عبدالمالک بن مروان نے اس کی تعمیر شروع کی جبکہ خلیفہ ۔ولید بن عبدالمالک ۔نے اس کی تعمیر مکمل کی ،پہلی صلیبی جنگ میں عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تھا ،1187مسلمانوں کے عظیم لیڈر ۔سلطان صلاح الدین ایوبی ۔نے حملہ کر کے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد مسجد کو عیسائیوں کے تما نشانات سے پاک کیا ،مسجد اور اس کے محراب کو دوبارہ تعمیر کیاگیا،سلطان صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریباً16جنگیں لڑ یں ،صلاح الدین ایوبی 1138میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر،شام،یمن ،عراق ،حجاز اور باریکر پر بھی حکومت کی،سلطان صلاح الدین کو ان کی بہادری ،فیاضی،حسن خلق،سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے،وہ آج تک واحد سلطان ہیں جنہیں ۔فاتح بیت المقدس ۔کا اعزاز حاصل ہے ، بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے ان میں ایک پہاڑی کا نام ۔کوہ سہیون ۔پرمسجد اقصیٰ قائم ہے،بیت المقدس پر تقریباً761سال مسلمانوں کا قبضہ رہا،یہ اس وقت کی بات ہے جب مشرق وسطیٰ کے دولت مند ترین ممالک میں غربت کا راج تھا ان ممالک میں موجودہ ترقی اور سہولیات کا تصور تک نہیں تھا حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انتی دولت شاید حکمرانوں کے لئے ہی کیونکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں عوامی سہولیات کے حوالے سے سب سے آگے ہے۔29نومبر1947میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا اور1948 میں امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت کا قیام عمل میں لایا گیا اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضہ میں آ گیا،1967کی عرب اسرائیل جنگ میں یہودیوں نے مکمل طور قبلہ اول پر اپنا قبضہ جما لیا۔پوری دنیا میں انڈیا کے لوگ سب سے زیادہ اسرائیل نواز کے طو رپر مشہور ہیں جو فوجی سازوسامان کے حوالے سے بھی اسرائیل کا سب سے بڑا خریدار ہے،اسلامی ممالک میں مصر ،اردن اور موریطانیہ نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کئے اور اس وقت آذر بائیجان ان چند اکثریتی مسلم ممالک میں سے ایک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ وسیع تعلقات استوار کر رکھے ہیں ان میں تجارتی ،دفاعی،ثقافتی اور تعلیمی شعبے اہم ہیں آذربائیجان اس کے مقابلے میں اسرائیل کو کافی مقدار میں تیل مہیا کرتا ہے اس وقت وہ اسرائیل کا بہت بڑا تجارتی پارٹنر ہے،بر اعظم افریقہ میں ایتھوپیا اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف ہے،اسرائیل کا معاشی مرکز ۔تل ابیب ۔ہے اس کے باوجود وہ اس خطہ میں سب سے زیادہ آبادی والے شہر یروشلم کو اس کا صدر مقام کہا جاتا ہے حالانکہ بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت نہیں مانا جاتا،گذشتہ کچھ عرصہ سے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں شدت دیکھنے میں آ رہی ہے اکتوبر 2015میں اس نے غزہ میں شروع ہونے والی کشیدگی میں ایک رپورٹ کے مطابق اب تک280فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج دعویٰ کرتی ہے اس دوران 42اسرائیلی،2امریکی،2اردنی ،انڈیا ،برطانیہ اور سوڈان کا 1۔1شہری ہلاک ہوا،چند روز قبل بھی فلسطین میں مغربی کنارے کے شمالی حصے میں قائم مہاجرین کیمپ ۔جبنن ۔میں بلاوجہ فائرنگ کرتے ہوئے دو فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی خاتون سماجی ورکر ۔خالدہ برار۔کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کے بعد بغیر کسی مقدمہ یا سماعت کے اسے 6ماہ کے لئے جیل بھیج دیا گیااس عظیم خاتون کو فلسطینی شہریوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کی وجہ سے ماضی میں بھی متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں،اسرائیلی بربریت جاری ہے ،مسجد اقصیٰ کے صحن کو لہو سے رنگ دیا گیا ہے مگر امت مسلمہ گنگ،مفلوج اور بے زبان نظر آ رہی ہے انہیں صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خوشامد کے علاوہ آپس میں لڑنے کا پتاہے حالانکہ رب عظیم نے فلسطین کے ارد گرد مسلم ممالک کو ہمہ قسم کی دولت سے نوازا ہے کوئی بتائے سابق قبلہ کو بچانے کے لئے کیا کسی ۔سلطان صلاح الدین ایوبی ۔کا انتظار ہے؟