۔،۔ بے لگام معاشرہ ( پہلو ۔۔۔۔۔ صا بر مغل ) ۔،۔

sab

صا بر مغل
وقت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ گھر ،خاندان ،محلے،قصبے ،شہر اور سوسائیٹیوں میں بہتری ،جدت ،شعور ،آگاہی ،بیداری اور ادراک پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ نصاف کا بول بالا ہو جاتا ہے مگر ہماری سب سے بڑی بد نصیبی ہی یہی ہے کہ ہم اس دور جدید میں بھی مجموعی طورجاہل ،بے شعور،ان پڑھ، اخلاقیات سے عاری گھٹیا ترین سوچ کے حامل ہیں ،اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں چاہے وہ کسی آمر کی تھیں یا حسن جمہوریت کا شاہکار ہمارے معاشرتی طرز عمل میں کچھ بہتری نہ آ سکی ،پاکستان کوئی اتنا بھی وسائل سے محروم مملکت نہیں کہ یہاں تعلیم کی روشنی سے وطن کو منور نہ کیا جا سکے در اصل خود روشنیوں کے عادی اس سوئی ،ادھ موئی قوم کو رکھنا ہی روشنیوں سے دور چاہتے ہیں ریاست کی پہلی ترجیحات میں سب سے اولین صرف اور صرف تعلیم ہونی چاہئے مگر یہاں دور دور تک ایسا نہیں ہے ،تھانوں ،اور عدم انصاف سے لوگوں کا اتنا یقین اٹھ گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے ہی خود کرنے لگ گئے،ان میں بعض ایسے فیصلے بھی شامل ہیں جن پر آسمان بھی رو پڑتا ہے،زمین بھی شق ہو جاتی ہے ،ہوا بھی وہاں سے گذرتے ہوئے توبہ توبہ کرتی جاتی ہے،اگریہاں انسانوں یا خاندان کے کسی ایک فرد میں بھی یا خاندان میں کچھ شعور میسر آ چکا ہوتا تووہ کبھی اولیا ء اللہ کے شہر ملتان کے زیر سایہ ایسا مکروہ فیصلہ نہ کرتا جس سے انسانیت انسانیت ہی نہ رہی ،سیاسی میدان میں بھی ملتان کو یہ فخر ضرور رہا ہے کہ یہاں سے کئی شخصیات اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے مگر ان کا بلندی پر پہنچنے کا نتیجہ نہ نکلا کہ ملتان ہی میں ظلم کا ایک نیا باب رقم ہو گیا،اس دھرتی پر موجود جاہلوں کو شعور اور آگاہی دینا کسی کی ذمہ ہے؟ہم آج تک اپنے معاشرے سے جاہلانہ ،ہندوانہ رسومات کو ختم نہیں کر سکے،ہم برہمنوں اور اچھوتوں کی تمام تر رسومات میں اٹے ہوئے ہیں ہمارے معاشرے میں اکثریتی آبادی جاہل اور گنوار ہے جو آج بھی ہمارا بے لگام معاشرہ انجانی پگڈنڈیوں پر گامزن ہے ہماری حکومت تب حرکت میں آتی ہے جب سب کچھ ۔لٹ۔چکا ہوتا ہے تباہی و بربادی کی تارییخ رقم ہو چکی ہوتی ہے پھر ہم سرکاری خزانے پر وہاں پہنچ جاتے ہیں سارا تھانہ معطل ،پولیس افسران معطل ،سب سب تماشہ ہے مانتے ہیں کہ تھانہ مظفر آباد کی پولیس کی اس درد ناک ،المناک اور شرمناک واقعہ میں بے حد کوتاہی ہے مگر کیا اس تھانہ میں موجود سبھی آفیسرز یا اہلکار اس کے ذمہ تھے ؟پولیس میں جہاں کالی بھیڑیں ہیں وہاں بہت اعلیٰ پائے کے انسان بھی ہیں ،مگر معطلی کے ڈرامے صرف ڈرامائی صورتحال تک ہی وجود رکھتے ہیں پھر کسی بھی اہم واقعہ کے ذمہ داران اور با اثر پولیس آفیسر اسی ٹوہر ٹپے سے کسی نہ کسی آفس یا تھانہ میں تعینات ہوتے ہیں بعد میں ان واقعات پر یوں سکوت طاری ہوتا ہے جیسے رات کے وقت قبرستان میں ہوتا ہے،جہاں سزا اور جزا کا عمل ہی نا پید ہو وہاں ایسا ہی ہوتا ہے، ملتان شہر سے کنٹونمنٹ سے ہوتا ہوئے شیر شاہ روڈ جو مظفر گڑھ جانے والی نیشل ہائی وے پر جا نکلتا ہے ،شہر ملتان سے ملحقہ دریائے جناب کی جانب مسجد بلال سٹاپ سے اگلا سٹاپ اسی چھوٹے سے قصبے کا مظفر آباد کا ہے سرکاری سکولز ،صحت کا مرکز اور علاقہ کا تھانہ اسی آبادی میں ہے،دوسری جانب جلال آباد کے نام سے آبادی ہے کینال روڈ سے ملحقہ اس علاقے کے آگے زرعی اور پھر دریا آ جاتا ہے،یہ ایسی آبادی نہیں کہ جیسے سندھ کے کچے علاقے میں دور افتادہ آبادیاں ہوتی ہیں یہ تو تقریباً ملتان شہر میں ہی شامل ہے،یہ ہے وہ علاقہ جہاں ۔پاکستان ۔کے چوٹی کی دماغ رکھنے والوں کی پنچایت نے بیٹھک کی ،ستم یہ کہ سبھی پنچایتی کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا،کوئی وڈیرہ ایسے کسی فیصلے کا منبع ہوتا تو الگ بات تھی مانا جا سکتا تھا کہ کیونکہ یہاں وڈیرہ ازم کی چھاپ ہے اس لئے یہ لوگ مجبور ہو گئے تھے،اس پنچایت میں موجود سب لوگ جس کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جیسے ابھی ۔کنجر۔ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے یہ دلسوز واقعہ پر آئی جی پنجاب سے24گھنٹے کے اندر اندر رپورٹ طلب کرلی،اسی آبادی کی ایک بارہ سالہ بچی گھاس کاٹنے کھیتوں میں گئی جسے وہاں ایک درندے نے اس کی زندگی تباہ و برباد کر دی ،بات گھر والوں تک پہنچی توتقریباً 40افراد پر پنچایت اکٹھی ہوئی جس میں پھانسی کے قابل پھانسی کے قابل اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے ایک ۔ماں ۔اپنی دو شادی شدہ بیٹیوں کو ہرجانہ ادا کرنے کے لئے لے گئے،پنچایت نے انکار کیا تو ماں کے نام پر سیاہی کا کلنک اپنی غیر شادی شدہ بیٹی کو وہاں لا کر ان کے حوالے کر دیا،وہ ماں کیسی ہو گئی ؟وہ بے غیرت بیٹا کیسا ہو گا؟اس پنچایت میں شامل سبھی افراد جن میں چار عورتیں بھی شامل ہیں وہ کس قدر بے غیرت ہوں گے اس کا اندازہ ان کے انسانیت اور حیوانیت سے بھرے فیصلے سے ہی لگایا جا سکتا ہے ،پاکستان میں پنچایت پر اصل میں وڈیرہ ازم بنیادی چیز ہے مگر یہاں وڈیروں اور سائیوں کو ماننے والے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے میں پیش پیش تھے،ایک اور بد نصیبی بھی ہمارے معاشرے کی اور رائج قانون کی یہ ہے کہ ایسے زیادہ تر مقدمات کا انجام صلح کے ذریعے ہی ختم ہو جاتا ہے،وزیراعلیٰ شہباز شریف جو اب خیر سے وزیر اعظم پاکستان بننے جا رہے ہیں نے اس علاقہ کا دورہ کیا،متاثرہ لڑکیوں سے ملاقات کی اور حکم دیا کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائے تاکہ مسقتبل میں کوئی ایسے فعل کا سوچ بھی نہ سکے انہوں پنجاب پولیس کے آفیسر ملک ابوبکر کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے72گھنٹے میں رپورٹ جمع کرانی تھی ،خاتون ڈی ایس پی شاہدہ نسرین جن کا تعلق شاید اوکاڑہ سے ہی ہے کے مطابق پنچایت کے تمام ارکان کا تعلق ۔ریپ ۔کے مرکزی ملزم کے اہل خانہ سے ہے، میاں شہباز شریف کے دور میں ہی گذشتہ سال مظفرگڑھ سے80کلومیٹردوراحسان ٹاؤن کی نواحی آبادی ۔ردی والا۔میں پنچایت کے حکم پر ایک مطلقہ عورت کے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا،نومبر میں پنچایت کے حکم پر ہی ریپ کا شکار ہونے والی شادی شدہ خاتون نے خود کو آگ لگا کو خود کشی کر لی تھی اگر ان وقت کے ملزمان سر عام لٹکائے جاتے تو ملتان کا یہ واقعہ رونما نہ ہوتا جس پر آج ہر کوئی رنجیدہ اور غم زدہ ہے ،بہرحال اس واقعہ پر پورا پاکستان اشکبار ہے اس میں اگر انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے تو ملزمان کسی صورت سزا سے بچ نہیں پائیں گے اگر اسی علاقے کا کوئی وڈیرہ ووٹوں کی خاطر ان کا طرف دار بن گیا تو پھر ۔سزا۔کہاں ،ابھی تک وہاں سے تعلق رکھنے والے ایم این اے یا ایم پی اے کے وہاں جانے،انصاف کے لئے مدد فراہم کرنے جیسی کوئی سٹیٹمنٹ سامنے نہیں آئی ،انہیں ضرورت بھی کیا ہے ؟؟؟