-،-پاکستان کے وزیر اعظم ایک نظر میں ( پہلو ۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
آزادی پاکستان کے بعد اب تک مجموعی طور پر 25وزیر اعظم،4گورنر جنرل اور15صدر اقتدار میں آچکے ہیں شاہد خاقان عباسی 26ویں وزیر اعظم ہیں ،وزراء اعظم نواز شریف تین اورمحترمہ بے نظیردو دفعہ جبکہ صدور میں وسیم سجاد (نگران صدر) واحد شخصیت ہیں جو اس ملک کے دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں ،پہلے گورنر جنرل بانی پاکستان قائد اعظم ،وزیر اعظم لیاقت علی خان اور صدر سکندر مرزا تھے،اس بات ذرہ شبہ نہیں کہ سوائے قائد اعظم محمد علی جناح کے جن کے خلاف بھی لابنگ کا آغاز قیام پاکستان کے فوری بعد ہی ہو چکا تھا درجنوں سربراہان مملکت آئے جن میں مجموعی طور پر بہت بااثر شخصیات کے ہاتھوں اس ملک کی باگ دوڑ آئی شاید یہی بنیادی وجہ تھی کہ وہ عوام کی اصل حالت،ان کی بنیادی ضروریات اور مسائل سے نابلد تھے،پہلے وزیر اعظم جنہیں قائد ملت لیاقت علی خان بیرون ملک تعلیم کے حامل انڈین گورنمنٹ میں وزیر خزانہ تھے ،ان کے والد نواب رستم علی ،رکن الدولہ ،شمشیر جنگ اور نواب بہادر کے القاب سے جانے جاتے تھے،ان کی جاگیر میں3سوگاؤں شامل تھے،16اکتوبر1951کو راولپنڈی کے کمپنی باغ(لیاقت باغ)میں سید اکبر نامی شخص جسے سیکورٹی پر مامور افسر نجف خان کی ہدایت پرانسپکٹرمحمد شاہ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا،2۔خواجہ ناظم الدین۔قائد اعظم کے بعد دوسرے گورنر جنرل جو برطانیہ سے ہی تعلیم یافتہ تھے بنگال میں وزیر اعلیٰ ،وزیر تعلیم اور پھر سول سروس کے غلام محمد کو گورنر جنرل بنا کر خودوزیر اعظم بن گئے خواجہ ناظم الدین کے خاندان کا رقبہ2لاکھ ایکڑ تھا،ان کے خلاف بنگالی زبان اور لاہور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار داد پاس کرنے کی تحریک چلی جس پر ملک غلام محمد نے انہیں انڈیا ایکٹ 1935کے تحت گھر بھیج دیا،سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر جسٹس منیر کا بدنام زمانہ فیصلہ ۔نظریہ ضروت ۔اسی وقت سامنے آیا تھا ، 3۔محمد علی بوگرا۔کو خواجہ ناظم الدین کی جگہ وزیر اعظم مقرر کیا گیاوہ 17اپریل 1953تا12اگست1955تک اس عہدے پر رہے پہلے وہ بنگال اسمبلی کے رکن اور وزیر پھرقیام پاکستان کے بعد فارن سروس جوائن کی ،امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر تھے ، برما،کینیڈا میں بھی سفیر رہے، محمد علی بوگرہ نے ہی پہلی مرتبہ آرمی سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل ایوب خان کو وزارت دفاع اور میجر جنرل سکندر علی مرزا کووزیر داخلہ بنایا،انہوں نے آئین سازی پر توجہ دیتے ہوئے پانچوں صوبوں سے قومی اسمبلی کی 300اور سینٹ کی 50جبکہ165ریزور نشستیں طے کیں، اس کے علاوہ انہوں نے گلف ممالک اور چائنا کے ساتھ تعلقات استوار کئے،ملٹری کی سپورٹ پر ملک غلام محمد نے اسمبلی معطل کر دی (اس کے فوری بعد ملک غلام محمد خرابی صحت کا بہانہ بنا کر سکندر مرزا کو گورنر جنرل بنا گئے جواس ریاست کے آخری گورنر جنرل تھے)،4۔چوہدری محمد علی پہلے وزیر اعظم تھے جن کی تعلیم برطانیہ سے نہیں تھی البتہ برطانوی دور حکومت میں ان کا شمار اعلیٰ مسلمان بیوروکریٹ میں ہوتاتھا،وزیر خزانہ چوہدری محمد علی کو سکندر مرزا(میر جعفر کے پڑپوتے) نے وزیر اعظم نامزد کر دیا،چوہدری محمد علی کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ پاکستان کا پہلا آئین انہوں نے بنایا جو1956میں نافذ ہوا،5۔حسین شہید سہروردی (آکسفورڈ ) کے تعلیم یافتہ کو بھی سکندر مرزا نے ہی نامزد کیااس وقت تک سکندر مرزا خود کو پاکستان کا پہلا ۔صدر ۔خود ہی منتخب کر چکے تھے،حسین شہید سہروردی قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے وزارت دفاع بھی انہوں نے اپنے پاس رکھی پہلے کی طرح ان کے اختلافات بھی سکندر مرزا سے ابھرے توانہوں نے خود استعفیٰ دے دیا،6۔ابراہیم اسماعیل چندریگربھی سکندر مرزا کی کمال مہربانی سے ہی اس مملکت کے اعلیٰ رتبے پر پہنچے،اس سے قبل وہ دو مرتبہ وفاقی کابینہ کا حصہ ،صوبہ سرحد اور صوبہ پنجاب کے گورنر رہے،انہیں بھی سکندر مرزا سے ان بن پر ہی استعفیٰ دینا پڑا موصوف صرف دو ماہ ہی وزارت اعظمیٰ کی گدی پر نکال سکے،7۔فیروز خان نون (آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ)16دسمبر1957کو وزیر اعظم بنے،برٹش دور میں برطانیہ کی طرف سے قیام پاکستان سے پہلے ہائی کمشنر آف انڈیا اور دو مرتبہ وزیر بھی رہے،گو ان کی مدت کا وقت تھوڑا تھامگر یہ پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد آئینی طور پر اپنا وقت پورا کیا7اکتوبر1958کو وہ اس عہدے سے فارغ ہوئے،پھر ایوب خان کا دور27اکتوبر1958تا25مارچ 1969شروع ہوا ایوب خان کے جانے کے بعد7دسمبر1970کو پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات ہوئے ،8ویں وزیر اعظم نورالدین جو7دسمبرسے 20دسمبر1971تک(صرف13دن)وزیر اعظم کے عہدے پر رہے اور یہ پہلے وزیر اعظم تھے جن کا تعلق مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش)سے تھا ،ایوب خان کے بعد آنے والے یحییٰ خان نے انہیں وزیر اعظم بنایا اور ہٹایا،9۔پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم جنہیں قوم قائد عوام اور بابائے آئین کے نام سے بھی یاد کرتی ہے ذوالفقار علی بھٹو تھے جو برطانیہ سے تعلیم یافتہ ہونے کے بعد سیاست میں آئے ایوب خان کے دور میں وفاقی وزیر تجارت،اقلیتی امور،قومی تعمیر نو اور اطلاعات،صنعت و قدرتی وسائل امور کشمیر اور وزیر خارجہ رہے،انہوں نے14اگست1973کو نئے آئین کے تحت حلف اٹھایا ان کے پاس146میں سے108نشستیں تھیں،آئین پاکستان ان کی وراثت،ایٹمی طاقت کے معمار اور پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے جنہیں یحییٰ خان نے1971میں عنان حکومت سونپ دی تھی وہ دسمبر1971تا 13اگست1973تک صدر مملکت بھی رہے،پاکستان میں ملٹری مارشل لاء کے بعدسول مارشل لاء لگانے والوں کی فہرست میں ان کا نام بھی ہے،بھٹو نے ہی قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا تھا،1977کے عام انتخابات میں دھاندلی کے شدید ترین شور پر ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو گئی ،5جولائی کو جنرل ضیا ء الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیااسی سال ستمبر میں نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں ان کی گرفتاری ہوئی 18مارچ1978کو ہائی کورٹ نے سزائے موت کا حکم سنایا جس کی توثیق سپریم کورٹ نے اگلے سال فروری میں کر دی اور4اپریل1979کو پنڈی میں انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا،10۔محمد خان جونیجو1985کے غیر جماعتی انتخابات میں منتخب ہو کر اس عہدے تک پہنچے ان کی شہرت ایک ایماندار اور نیک وزیر اعظم کے طور پر تھی ضیا ء الحق کے قریبی ساتھ جنرل فضل حق کی مخالفت کے سبب جنرل ضیاء اور ان کے درمیان دوری بڑھتی چلی گئی جس پر8ویں ترمیم کے تحت ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا،عجب اتفاق یہ کہ اس سندھی وزیر اعظم سے پہلے پاب اور بعد میں بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں،17اگست1988کو جنرل ضیاء الحق طیارہ حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے،11۔محترمہ بے نظیر بھٹوانتہائی تعلیم یافتہ اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم جن کی حکومت کو تقریباً دو سال بعد صدر غلام اسحاق خان نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت ختم کر دیا،ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اقتدار میں آکر سکھوں کی تحریک ۔تحریک خالصتان۔کی اطلاعات انڈیا کو دے کر ختم کرایا،12۔غلام مصطفیٰ جتوئی کیمرج سے تعلیم یافتہ تین ماہ کے لئے نگران وزیر اعظم بنے ،بھٹو کے انتہائی قریبی دوست تھے وہ6مرتبہ ممبر قومی اسمبلی ،وفاقی وزیراور وزیر اعلیٰ سندھ بھی رہے،اسلامی جمہوری اتحاد کے بانی نے نیشنل پیپلز پارٹی بنا لی، ۔۔13۔میاں محمد نواز شریف،پنجاب کے سابق وزیر اور وزیراعلیٰ رہے20اکتوبر1990کے عام انتخابات میں وزیر اعظم کے طور پر پاکستانی سیاستدان کا ایک یقینی حصہ ہوگئے،ان کے اقتصادی اور ترقیاتی اقدامات پر انہیں بے پناہ عوامی پذیرائی حاصل کی ،اڑھائی سال بعد صدر مملکت غلام اسحاق خان کے اس کی حکومت کو بر طرف کرتے ہوئے(14)بلخ شیر مزاری کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس نسیم حسن شاہ نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا مگر چند ہی روز بعد نا مساعد حالات اور پریشر کی بنیاد پر استعفیٰ دینا جبکہ اسی موقع پر آرمی چیف وحید کاکڑ کی مداخلت پر اسحاق خان کو بھی گھر جانا پڑا،15۔معین الدین قریشی جوواشنگٹن میں رہائش پذیر امریکی شہری جن کا تعلق عالمی مالیاتی اداروں سے تھا کو اسحاق خان نے سنگا پور سے فون کر کے بلوایا انہوں نے آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کی ڈکٹیشن پر بہت کام کیا،تین ماہ بعد ہی واپس امریکہ لوٹ گئے،16۔بے نظیر بھٹو،19اکتوبر1993کو دوسری مر تبہ اقتدار میں آئیں تین سال بعد سردار فاروق احمد لغاری نے کرپشن الزامات کے تحت ان کی حکومت کو بر طرف کر دیاانہوں نے اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل اور اپنی حکومت کے خاتمہ پردوبئی میں جلاوطنی اختیار کر لی،17۔ملک معراج خالد نگران وزیر اعظم مقرر ہوئے اس دوران الیکشن میں میاں نواز شریف دوسری طرف مرتبہ وزیر اعظم بنے اسی دور میں انہوں نے ایٹمی دھماکے کئے،نواز شریف نے آرمی چیف پرویز مشرف کو تنہا کرنے اور نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کی کوشش پر حکومت سے باہر ہوگئے،ان پر طیارہ سازش ،اغوا اور قتل کے الزامات لگے ، خفیہ معاہدے کے بعد وہ فیملی سمیت سعودی عرب چلے گئے،19۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان،سینیٹر،اور وفاقی وزیر مملکت رہنے والے ظفراللہ جمالی کو مشرف دور میں انتخابات2002کے بعدوزیر اعظم بنایا گیا،مشرف ان کی پر فارمنس سے مطمئن نہ ہوئے جس پر جمالی نے استعفیٰ دیدیا،وزیر خزانہ شوکت عزیز کو زیر اعظم بنانے کے لئے تین ماہ کے لئے چوہدری شجاعت کو خاقان عباسی کی طرح20واں وزیر اعظم بنایا گیا،21۔شوکت عزیز 20اگست2004سے15نومبر2007تک وزیر اعظم رہے،انہوں نے سٹیل ملز بیچنے کی کوش کی جسے سپریم کورٹ نے نہ ہونے دیا،ان کی دوہری شہریت کا علم ہونے پر کیس عدالت میں جانے ہی لگا تھا کہ انہیں ایک ریفرنس کے تحت غیر فعال کر دیا گیا،22۔میاں محمد سومرو نگران وزیر اعظم بنے انہوں نے اپنے خاندان کا محدود وقت میں بہت فائدہ کیا،اس سے قبل14مئی2006میں بے نظیر کی لندن میں نواز شریف ملاقات میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے،28جولائی 2007کو بے نظیر بھٹو کی ابوظہبی میں مشرف سے ملاقات ہوئی ،اکتوبر میں وطن واپس آئیں کراچی میں ان کی ریلی پر دہشت گرد حملہ کے نتیجے میں150افراد شہید ہوئے وہ بچوں کو ملنے دوبئی گئیں تو مشرف نے ایمرجنسی لگا دی ،اکتوبر2007میں بے نظیر بھٹو نے امریکی امداد پر مشرف سے مل کر مالی بد عنوانی کے تمام مقدمات ختم کرائے، اس این آر او کی سماعت کے دوران نیب نے عدالت کو بتایا ۔ آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ ملین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے ،27دسمبر2007کو لیاقت باغ پنڈی میں عوام سے خطاب کے بعد اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئیں تو گیٹ پر کارکنوں کے نعروں پر گاڑی سے سر نکالا تو فائرنگ سے انہیں شہید کر دیا گیا ،راولپنڈی میں ہی باپ بیٹی سمیت3 وزرائے اعظم کا قتل ہوا،23۔یوسف رضا گیلانی 25مارچ 2008میں وزیر اعظم بنے جو ماضی میں چیر مین ضلع کونسل ،جونیجو کابینہ میں وزیر،بعد میں پی پی پی میں شامل ہوئے 2004میں انہیں قومی اسمبلی میں3سو افراد کو قومی اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں پر 10سال قید با مشقت کی سزا ہوئی دو سال بعد عدالت نے انہیں بری کر دیا اڈیالہ جیل میں ہی انہوں نے ۔چاہ یوسف سے صدا۔تحریرکی ،19جون2012کو چیف جسٹس نے انہیں توہین عدالت کیس میں30سیکنڈ کی سزا دے کر نا اہل کر دیا،25۔راجہ پرویز اشرف وفاقی وزیر بجلی و پانی کو یوسف رضا کے بعد وزیر اعظم بنایا گیاجس نے بعد کی مدت پوری کی ان کے دور میں لوڈ شیڈنگ22گھنٹے تک جا پہنچی،24۔میر ہزار خاں کھوسو نگران وزیر اعظم بنے جو سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ تھے،25۔عام انتخابات2013 میں کامیاب ہونے پر نواز شریف نے ریکارڈ تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا حلف اٹھایا،ان کے عرصہ اقتدار میں سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا نواز شریف سمیت11افرادکے خلاف مقدمہ جنرل راحیل شیرف کی مداخلت پر درج ہوا،انقلابی مارچ اور دھرنے ہوئے مگر کچھ نہ ہوا بالآخر ۔پانامہ پیپرز۔ معاملہ سامنے آگیا طویل تفتیش،سماعت کے بعد 28جولائی2017کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف کو نا اہل کر دیا،مسلم لیگ (ن) کے فیصلہ کے مطابق نامزد عبوری وزیر اعظم 45روز کے لئے واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی ہیں ،شاہدخاقان یوسف رضا گیلانی دور میں چند دن وزیر رہے مگر جلد ہی چھوڑ گئے ،6مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا صرف ایک مرتبہ شکست ہوئی،پرویز مشر ف دور میں نواز شریف کا ساتھ دینے پر دو سال جیل کی سلاخوں میں بھی رہے،سابق پارلیمانی سیکرٹری ،چیر مین سٹینڈنگ کمیٹی دفاع امریکہ ،سعودی عرب سمیت چند اور ممالک میں انرجی اینڈ آئل انڈسٹری سے منسلک رہے جو اس وقت ۔ائر بلیو ۔کے مالک بھی ہیں،ان پر ایل این جی معاہدے میں اربوں ڈالر کرپشن اور اینگر و کو قاسم پورٹ پر بغیر ٹینڈر ٹرمینل دینے کا الزام ہے ،قومی امیدہے کہ وہ عبوری وزیر اعظم بن جائیں گے ،مگر یہ راستہ کانٹے دار ضرور ہے ،نیب متحرک ہو چکا ہے اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی ان کے خلاف درخواست دائر ہو چکی ہے،شیخ رشید ان کے خلاف میدان میں سب سے پہلے آئے ہیں ۔